عصیاں ہیں سنگِ راہ قدم لنگ راہ تنگ
تدبیر میں شتاب ہے تقدیر میں درنگ
ادبار سے ہے صلح اور اقبال سے ہے جنگ
نیرنگ سے ہے زرد گلِ آرزو کا رنگ
مرتا ہوں اس زمین پہ دل زندہ کرنے کو
جیتا ہوں کربلائے معلی میں مرنے کو
مرزا دبیر
کیا سائے کے گم ہونے کا مضمون ملا واہ
گو ساکن ِ افلاک میں کوئی نہیں گمراہ
پر مثل ِ پیمبرؐ تو نہیں عارف ِ اللہ
واں سائے کو چھوڑا کہ وہ ان کو کرے آگاہ
واجب تھی دو عالم کی ہدایت شہِؐ دیں پر
سایہ تو فلک پر رہا آپؐ آئے زمیں پر
مرزا دبیرؔ
حدیث الثقلین بقلم مرزا دبیر
دو چیزیں میں چھوڑے ہوئے جاتا ہوں مگر یاں
وہ اک تو مری آلؑ ہے اور ایک ہے قرآں
قرآن سے حافظ مری عترت سے نگہباں
یہ دونوں بزرگی میں فضیلت میں ہیں یکساں
قرآن تو تم سب کی تلاوت کے لیے ہے
اور آلؑ پیمبرؐ کی ، ہدایت کے لیے ہے
جب اخترِ یعقوبؑ پہ کی مہر خدا نے
یوسفؑ کو دیا اوجِ شرف ربِ عُلا نے
دی مسندِ اقبال اسے بختِ رسا نے
پر کھول دیے فرقِ ہمایوں پہ ہُما نے
سجدے کے لیے خواب میں شمس و قمر آئے
محرابِ عبادت میں ستارے نظر آئے
مرزا دبیر
جب بھی منا رہے ہوں تمام مومنین و مومنات کو عید الفطر بہت بہت مبارک ہو ۔ عید منانا سنت آئمہ اطہار ہے ۔ عید شکرانہ ہے ماہِ صیام کی تکمیل کا۔ کسی نے عیدین پر بے جا اصراف کی تاکید نہیں کی اور نہ ہی کلمہ گویوں کے ہاتھوں اہلبیت پر ہونے والے مظالم کو بھول جانے کی !!
#رباعیات_مرزا_دبیرؔ
جب قبل ِ حشر ہوگا ظہور ِ امام ِ عصر
روشن کرے کا دین کو نور ِ امام ِ عصر
ِجن و َملک مطیع ِ امور ِ امام ِ عصر
سب دست بدستہ ہوں گے حضور ِ امام ِ عصر
باہم ندا یہ ہوگی َفلک اور زمین کی
اب ہے شکست کفر کی اور فتح دین کی
مرزا دبیرؔ
صغراؑ کی صدا سن کے ہمکنے لگا اصغرؑ
الفت سے سُوئے راہ لگا دیکھنے مڑ کر
دیکھا نگاہ ِ یاس سے صغراؑ نے مکرر
اور بولی کہ اللہ نگہبان برادر
بچپن میں مدینے سے نکلتے ہوئے دیکھا
گھرمیں نہ تمہیں گھٹنیوں چلتے ہوئے دیکھا
مرزا دبیرؔ