کاش، بچے نہ مریں!
کاش! جنگ کے اختتام تک
وہ عارضی طور پر آسمانوں کی اَور چلے جائیں
پھر جب وہ بہ حفاظت گھر لوٹیں
اور ان کے والدین ان سے پوچھیں،
"تم لوگ کہاں تھے؟"
تو وہ کہیں،
"ہم بادلوں کے ساتھ کھیل رہے تھے"
ـــــــــــ
فلسطینی شاعر: غسان كنفانی
#FreePalaestine#Gaza_Genocide
آج میرے والد کی جبری گمشدگی کو سترہ سال مکمل ہوگئے
سترہ سال پہلے آج ہی کے دن میرے والد، ڈاکٹر دین محمد بلوچ، جو ایک سیاسی لیڈر اور ایک سرکاری ڈاکٹر ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کی خدمت میں گزاری ہے، جنہیں 28 جون 2009 کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جبری طور پر حراست میں لے کر لاپتہ کر دئے گئے۔ سترہ سال گزر جانے کے باوجود آج تک نہ ہمیں ان کی زندگی کی کوئی خبر دی گئی، نہ ان کی سلامتی کا کوئی ثبوت، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ آخر ان کا قصور کیا تھا۔
سترہ سال صرف ایک عدد نہیں، ایک پوری زندگی ہے۔ ان سترہ برسوں میں نسلیں جوان ہوگئیں، لوگوں نے تعلیم مکمل کی، اپنے خواب پورے کیے، اپنے خاندان بسائے، اپنے کیریئر بنائے اور زندگی کے بے شمار سنگِ میل عبور کیے۔ مگر میرے گھر میں وقت سترہ سال پہلے رک گیا تھا جب میرے والد کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔ ہمارے لیے کیلنڈر کے صفحات تو بدلتے رہے لیکن انتظار ختم نہ ہوا۔ ہر صبح ایک نئی امید کے ساتھ شروع ہوئی اور ہر رات ایک نئی مایوسی کے ساتھ ختم ہوئی۔
سترہ سال سے ہم ایک ایسے عذاب میں زندہ ہیں جس کی نہ کوئی مدت معلوم ہے اور نہ کوئی انجام۔ ہمیں نہ سوگ منانے کا حق ملا، نہ امید چھوڑنے کی اجازت۔ ہم زندہ بھی ہیں اور مسلسل ٹوٹ بھی رہے ہیں۔ جبری گمشدگی صرف ایک فرد کو اغوا نہیں کرتی، بلکہ پورے خاندان کو عمر بھر کی سزا سنا دیتی ہے، اور اسی سزا کو ہم جھیل رہے ہیں جو ہر دن، ہر گھنٹے اور ہر لمحے باربار دہرایا جاتا ہے۔
ان سترہ سالوں میں میں نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالتوں سے لے کر پارلیمان تک، انسانی حقوق کے اداروں سے لے کر ہر بااثر شخصیت تک، میں نے فریاد کی، درخواستیں دیں احتجاج کیے ریلیاں نکالیں، پریس کلبوں کے سامنے ہفتوں اور مہینوں تک بیٹھی رہی، اور ہر اس شخص سے امید باندھی جو انصاف کا دعویٰ کرتا تھا۔ لیکن جواب میں ہمیں صرف مایوسی ملی، بے حسی ملی، اور مسلسل انکار ملا۔
جون کا مہینہ میرے لیے صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک زندہ زخم ہے۔ یہ وہ دن ہے جسے میں نے گزشتہ سترہ برسوں سے پریس کلبوں کے باہر احتجاج کرتے، اور ان کے اندر پریس کانفرنسوں اور سیمیناروں کے ذریعے اپنے والد کی بازیابی کی آواز بلند کرتے ہوئے گزارا ہے۔ ان برسوں میں مجھے سڑکوں پر ہراساں کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گھسیٹا گیا، مارا پیٹا گیا اور جیلوں میں ڈالا گیا۔ لیکن ان تمام اذیتوں، تشدد، گرفتاریوں اور جبر کے باوجود میرے لیے سب سے زیادہ کربناک اور تکلیف دہ آج کا 28 جون ہے۔
آج سترہ سال میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میں اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف کسی پریس کلب کے سامنے احتجاج کے لیے نہیں بیٹھ سکی، کیونکہ جس پریس پریس کلب کے سامنے میں نے پچپن سے لیکن جوانی تک احتجاج کرتی رہی اسی پریس کلب کے سامنے میرے اپنے گمشدہ باپ کی تصویر کے ساتھ کھڑے ہونے پر پابندی ہے۔
وہی ریاست جس نے میرے والد کو ہم سے چھینا، آج میری آواز سے بھی خوفزدہ ہے۔
شاید انہیں یہ گمان ہے کہ پابندیاں لگا کر، راستے بند کرکے اور ہماری آوازوں کو دباکر وہ ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور ظلم کو نہیں سکیں گے، لیکن شاید وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایک بیٹی سے اس کے باپ کو چھین لینے کے بعد اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچتا۔ سترہ سال کے انتظار، دن رات کے احتجاجوں اور اذیتوں کے بعد بھی میرا سب سے بڑا سوال آج بھی وہی ہے: میرے والد کہاں ہیں؟
میری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مجھے یہ نہیں بتایا جاتا کہ میرے والد کے ساتھ کیا کیا گیا، انہیں کہاں رکھا گیا، اور سترہ سال سے ان کی آزادی، ان کی زندگی اور ہمارے خاندان کے حقِ انصاف کو کیوں چھینا گیا۔ سترہ سال گزر گئے ہیں، مگر نہ ہم بھولے ہیں، نہ خاموش ہوئے ہیں، اور نہ ہی انصاف کا مطالبہ چھوڑیں گے۔
#ReleaseDrDeenMohammad
میرے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف آج کے کمپئن کا آغاز ہوچکا ہے۔
X ٹوئٹر استعمال کرنے والے ساتھیوں سے اپیل ہیکہ #ReleaseDrDeenMohammad کا استعمال کرکے میرے والد کی بازیابی کا مطالبہ کرکے ہماری آواز بنیں
شکریہ
This 3 year old minor was found dead inside a flour sack on a street in Karachi. She was abused, tortured and murdered. It’s been 3 days and consecutive child r@pe cases are reported.
Enough of this brutality. We need public hangings!
the society that allows an 8 yr old child to be r*ped, murdered, and discarded just for walking to the local shop and the reactions are she shouldn't have gone there alone, is entirely collapsed. a society this rotten shouldn't exist. It should be burned to the ground.
Sentencing @MahrangBaloch_ today and earlier @ImaanZHazir & Adv Hadi for long years in jail for standing by victims of enforced disappearances is travesty of due process & fair trial. Remember:
صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
The life imprisonment of Dr. Mahrang Baloch is itself proof of how low these people can go. This state is repeatedly sending the message that in this country there is no right to peaceful protest and no freedom of speech.
#ReleaseBYCLeadership#ReleaseMahrangBaloch
ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید سنانا دراصل نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ یہاں پرامن جدوجہد کی کوئی گنجائش نہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ عطاء اللہ مینگل، خیربخش مری، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو سزائیں ملیں اور وقت نے فیصلہ کیا کہ کون درست تھا اور کون غلط۔
Join us as we demand urgent action against gender-based violence, stronger protections for women, accountability for perpetrators, and the declaration of a National Emergency on Femicide.
📍 National Press Club, Islamabad
📅 Tuesday 16 June 2026
⏰ 5 pm PKT
#auratmarchisl
Laanat on everyone who chose, supported, or celebrated the return of the Taliban. They're all responsible for this and hope they suffer the same way as the Afghans are
URGENT: 185 citizens including bar leaders, lawyers, civil society members, journalists, artists, & educators condemn delays in the hearing of the suspension of sentence applications of @ImaanZHazir & @AdvHadial; call for urgent hearing & justice at IHC.
#ReleaseImaanAndHadi
BREAKING: The Islamabad High Court has de-listed Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha’s suspension of sentence appeals that were going to be heard on 4 June. No new date has been set. Today the couple completes 130 days in Adiala Jail for tweeting; how utterly shameful.
Everyone who cares for human rights please show up in solidarity with @ImaanZHazir & @AdvHadiali in #IHC on Monday June 01. Both are committed rights defenders wronged by the state https://t.co/WNmfGGaxFC
Eid Mubarak to the hundreds of families shattered by enforced disappearances, to those swallowed by Pakistan’s blasphemy industry, and to the labourers bulldozed out of their homes by the CDA, who once found representation in Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha. Today, many of you have neither your children, nor your homes, nor your lawyers. We are ashamed.
Today marks 26 days since Khadija Baloch, a nursing student, was forcibly disappeared from her hostel and placed under illegal detention. Her disappearance is not an isolated incident. It is part of a systematic campaign of intimidation and collective punishment carried out against the Baloch nation. The continued silence of the authorities reflects a deeply rooted culture of impunity where state violence is protected instead of prosecuted.
The targeting of Baloch women and students exposes the brutality of policies imposed in Balochistan. Educational institutions and hostels should be places of safety, yet even these spaces have become unsafe under the shadow of enforced disappearances. Families are denied answers, victims are denied legal rights, and society is forced to live under fear while perpetrators remain beyond accountability.Every passing day of her illegal detention is a stain on humanity and a direct violation of international law.
#ReleaseKhadijaBaloch
#StopBalochGenocide