سرگودھا میں غبارے بیچنے والے بچے نے ریسکیو 1122 کو کال کی کہ میری غبارے اُڑ گئے ہیں میں یہی غبارے بیچ کر گھر کا خرچ چلاتا ھوں ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچی اور اونچی بلڈنگ سے بحفاظت غبارے اُتار کر بچے کے حوالے کر دئیے ❤️
- بجٹ2026-2
‼️ *تنخواہ دار طبقے کے لیے تاریخی ریلیف* ‼️
- 📍 *اس بجٹ میں سب سے زیادہ ریلیف اس تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ہے جو ہر ماہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتا ہے اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔*
- 📍*حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو غیر معمولی ریلیف اور اس کی معاشی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے عائد کردہ 10 فیصد سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے*
- 📍 *جن افراد کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً 65 ہزار روپے فائدہ ہوگا۔*
- 📍 *جن افراد کی سالانہ تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو روپے فائدہ ہوگا۔*
- 📍 *جن افراد کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے فائدہ ہوگا۔*
- 📍 *جن افراد کی سالانہ تنخواہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ چھتیس ہزار روپے فائدہ ہوگا۔*
- 📍 *جن افراد کی سالانہ تنخواہ 70 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کے لیے ٹیکس ریٹ تو برقرار رکھا گیا ہے، لیکن 10 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ ستاون ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔*
‼️ *حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کیسے دیا؟* ‼️
- 📍 *پہلے جس شخص کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ روپے تک پہنچتی تھی، وہ براہِ راست 35 فیصد ٹیکس سلیب میں چلا جاتا تھا، جس سے اس پر اچانک زیادہ ٹیکس لگ جاتا تھا۔*
- 📍 *اب حکومت نے 41 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان دو نئی ٹیکس سلیبس متعارف کرائی ہیں، تاکہ اس طبقے پر یکدم 35 فیصد ٹیکس نہ لگے بلکہ کم شرح پر ٹیکس ادا کرنا پڑے۔*
- 📍 *اب اس آمدن کے حصے پر 29 فیصد اور 32 فیصد کے نئے ٹیکس ریٹس لاگو ہوں گے، جس سے مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو نمایاں ریلیف ملے گا۔*
- 📍 *35 فیصد ٹیکس اب صرف اس آمدن کے حصے پر لاگو ہوگا جو 70 لاکھ روپے سالانہ سے اوپر ہو، جبکہ اس سے کم آمدن پر پہلے والی کم شرحیں ہی لاگو رہیں گی۔*
‼️ *سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے خوشخبری* ‼️
- 📍 *حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے تاکہ انہیں بھی مہنگائی کے دور میں ریلیف مل سکے۔*
‼️ *برآمدات اور صنعت کے لیے بڑا ریلیف* ‼️
- 📍 *برآمدات پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہیں، اسی لیے ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور منیمم ٹیکس، جو پہلے مجموعی طور پر 2 فیصد تھا، کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔*
- 📍 *500 ملین روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔*
- 📍 *500 ملین روپے سے زیادہ کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دیا گیا ہے، تاکہ صنعت اور برآمدات کو مزید فروغ ملے۔*
‼️ *پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑا ریلیف* ‼️
- 📍 *حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی ہے۔*
- 📍 *5 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔*
- 📍 *5 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر بھی ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔*
* 📍 *حکومت نے پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس میں نمایاں کمی کر کے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔*
* 📍 *50 ملین (5 کروڑ) روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔**
* 📍 *50 ملین سے 100 ملین (5 سے 10 کروڑ) روپے مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔*
* 📍 *100 ملین (10 کروڑ) روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تمام بڑی کیٹیگریز میں سرمایہ کاروں کو یکساں ریلیف ملے گا۔*
‼️ *اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اہم ریلیف* ‼️
- 📍 *حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی پراپرٹی پر عائد 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔*
- 📍 *یہ اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی، ان کی سرمایہ کاری میں اضافے اور وطن کے ساتھ ان کے معاشی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔*
ز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے
کس کو گمان تھا کہ لکشمی، شاہدرہ اور گجومتہ سمیت برساتی نالے کھلوانے والا ایک دن دنیا کی سب سے بڑی تجارتی گزرہ گاہ أبنائے ہرمز کھلوا دے گا...
جیو شہزادے شہباز شریف
😂😂
جنت کو جب ہسپتال لایا گیا ڈاکٹرز کانوں کو ہاتھ لگاتے رہے
لاہور چائنہ سیکم کی جنت اور شیخوپورہ کا عثمان 13 سال قبل دونوں کی شادی ہوئی 7 سال کا بیٹا اور 8 ماہ کی بیٹی
اب بس ظلم سنتے جائیں روح کانپ جائے گی
8 اکتوبر 2025 شوہر گھر داخل ہوا
اپنی بہنوں بمع خاوند بلایا
دوسری شادی کی بات شروع
بیوی نے سوال کیے پہلے ہمارے اخراجات پورے کر لو
بے شرم شوہر نے بہنوں کے خاوندوں کے سامنے بیوی سے جسمانی تعلق قائم کیا اپنی بہنوں کے خاوندوں سے بھی کھلے عام جسمانی تعلق قائم کروایا
سر پر ڈنڈے مارتے سر کی ساری ہڈیاں ٹوٹ گئی ظلم ابھی ختم نہیں ہوا
عثمان کے ماں باپ بہنیں انکے شوہر جو کر سکتے تھے کیا
مار مار کر بہوش کر دیا
آخر میں عثمان کی بہنوں نے جنت پر پیشاب کیا استغفراللہ
عثمان کو یہی تھا جنت مر چکی ہے
یہ سارا کچھ 7 سال کا بچہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا
عثمان نے شیخوپورہ ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا سسرال والوں کو کال کی
جنت بیٹے کو ٹیوشن چھوڑنے جا رہی تھی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے شدید زخمی ہے
خاوند بیوی کے کپڑے تبدیل کروا کر لے گیا تھا ہسپتال ڈاکٹرز نے کانوں کو ہاتھ لگائے حالت دیکھ کر فوری کہا لاہور لے جائے
شوہر نے سسرال والوں سے کہا ایمبولینس کے پیسے آپ دینا میں لاہور لا رہا ہوں
لاہور کے ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹرز کی پھر وہی حالت پہلی نظر میں کہا یہ ایکسیڈنٹ نہیں ہے عثمان کو پہلا دھچکا یہی تھا
ڈاکٹرز نے کسی طریقے سے جنت کی سانسوں کو بحال کیا دوسرا دھچکا عثمان کو یہ تھا کیونکہ سارے راستے اپنے بیٹے کو یہی سمجھاتا آیا کہ نانا نانی کو یہی بتانا ماما کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے
جب ڈاکٹرز نے جنت کا مزید معائنہ کیا
رپورٹ میں ثابت ہوا جنت کے ساتھ کئی لوگوں نے جسمانی تعلق قائم کیا یے
جنت کی حالت اگر آپ دیکھے روح کانپ جائے پورے سر پر ٹانکے جسم کا اک حصہ کام کرنا چھوڑ گیا یے
بول نہیں سکتی صرف سن سکتی ہے ابھی بھی جنت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے
یہ سب دیکھنے کے بعد شوہر عثمان ہسپتال سے فرار ہو گیا کیونکہ اسے یہی تھا جنت زندہ نہیں بچ پائے گی
جنت کے گھر والوں نے جنت کے شوہر سب گھر والوں پر مقدمہ درج کروا دیا شاید شوہر گرفتار ہو چکا یے
اب آپ بتائیے ماں باپ بیٹیوں کی شادی کرتے وقت کیوں نہ گھبرائیں
یہاں ظالم اکیلا شوہر نہیں تھا یہاں ظلم کرنے والا پورا سسرال تھا