Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Lawyers and Media at Adiala Jail - February 10, 2025
“I applaud the public for their participation in the nationwide protests on February 8th, including in Punjab, Sindh, and Swabi. Despite this era of blatant fascism, people continue to respond to my call, breaking the shackles of fear, proving that the nation is now determined to attain genuine sovereignty at any cost. The fraudulent, subservient government is fearful. Raids were conducted across the country, and individuals were subjected to violence. Under the pretext of cricket, we were denied permission to hold a rally at Minar-e-Pakistan, which clearly indicates the panic and desperation of this worthless government.
My letter to the Army Chief was written with the sincere intentions for the betterment of the country. This is my nation, and I am deeply concerned about its future. I would like to address the DG ISPR and state that the reputation of the military is being completely ruined. While you claim to be uninvolved in politics, every citizen is aware that the country's affairs are being controlled by the Army Chief. Individuals like Mohsin Naqvi, who have never even contested a councilor’s election, have been imposed upon the nation, wielding authority over everything from cricket to internal and external affairs.
Repression and fascism are rampant in the country. The 26th Constitutional Amendment has effectively dismantled the Supreme Court’s independence. Justice Qazi Faez Isa was the most biased and shameless Chief Justice in history, surpassing even Justice Munir in his misdeeds. During his tenure, democracy was trampled upon and human rights were grossly violated, yet instead of taking action against this injustice, he facilitated every illegal move. Rule of law and human rights have been severely compromised. Sham elections were carried out and the people were deprived of their mandate. The Chief Election Commissioner and Qazi Faez Isa served as facilitators of the establishment, and in the process, betrayed their offices and the nation. As a result, a forged parliament, a fraudulent prime minister, and a phony president have been installed.
What Qazi Faez Isa was being used for is now being done by the Constitutional Bench. The country has been reduced to a banana republic. Judges are supposed to hear both sides of an argument, but, one-sided decisions are being handed down here.
I would like to send a special message to Justice Yahya Afridi: Given the state of law and human rights in the country, you should take a stand against this injustice and become an honorable part of history, rather than playing a disgraceful role like Qazi Faez Isa.
Voices of media and social media have been silenced through the draconian amendments to the PECA law. State of the internet in the country is evident to all. The economy has suffered a loss of $1.7 billion. The country is experiencing a rapid brain drain, with 1.7 million people having moved abroad. Economic devastation and unemployment have left the entire nation distressed.
We demanded commissions be formed to investigate May 9th (2023) and November 26th (2024) because we knew that negotiations were a mere facade. Forming a commission on the events of February 8th (2024) was way out of their league. Had their intentions been sincere, they would have established commissions on May 9th and November 26th to uncover the truth, as these were matters related to human rights violations that required immediate action. However, nothing was done. The establishment murdered unarmed civilians on November 26th when they ordered opening fire on them. 1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“سب کو نیا سال مبارک ! 2025 حقیقی آزادی کا سال ہے، جس میں گھٹنوں پر آئے اس جعلی اور فسطائی نظام کو شکست ہو گی، انشاء اللہ!
اس آمرانہ دور میں شخصی آزادیوں کے خاتمے، بنیادی قانونی حقوق کی پامالیوں اور اداروں کی تباہی نے ملک کے ناصرف سماجی و سیاسی نظام بلکہ قانونی و معاشی نظام کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔جس بھونڈے انداز میں خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا سنائی گئی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں رول آف لا کا خاتمہ ہو چکا ہے اور غیر اعلانیہ بدترین آمریت کا راج ہے۔ مشرف دور میں بھی ہم فوج کی مداخلت پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ہمیں اس قسم کی جبر و فسطائیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وکلاء تحریک سے پہلے بھی ہم فوج کی سیاسی مداخلت کے خلاف بھرپور تنقید کرتے تھے، لیکن تب کوئی ایجنسی اپنے شہریوں کو اس طرح سے نہیں اُٹھاتی تھی۔
آئینی عدالت بنا کر پورے عدالتی نظام کو تباہ کیا گیا اور قاضی فائز عیسی کی باقیات کو عدالتی نظام کا قبضہ دے دیا گیا تاکہ قاضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے عدالتی فیصلے جی ایچ کیو کے زیر اثر کروائے جا سکیں۔
میرے خلاف پچھلے سال بھی چار غیر قانونی فیصلے دئیے گئے تھے۔ سوموار کو القادر کیس کا فیصلہ بھی ویسا ہی توقع کر رہا ہوں۔ ایسے ہی لا قانونیت پر مبنی فیصلے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔
ملٹری کورٹس جیسے فیصلوں سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔ پاکستان میں اب بھی گروتھ ریٹ صفر ہے جب معاشی ترقی ہی نہیں ہو گی تو نہ ہم قرضوں سے نکل پائیں گے اور نہ ہی بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا ۔
پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے اس سے متعلق میرا موقف واضح ہے لیکن جب بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا سے آوازیں اٹھنا فطری عمل ہے ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے اسی لیے ہیں ۔ دنیا کے تمام ذی شعور انسان بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔ ارسطو نے بھی یہی کہا تھا ہر شہری کا فرض ہے انسانی حقوق کی پامالی ہو تو آواز اٹھائے ۔ دو قسم کے لوگ ہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز بلند نہیں کرتے: ایک خودغرض اور دوسرے بزدل۔
ٹرمپ سے یہی توقع ہے کہ وہ نیوٹرل رہیں گے کیونکہ بائیڈن نے جنرل باجوہ کے اکسانے پر ہماری حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر واضح مداخلت کی تھی جو ساری دنیا جانتی ہے ۔
ہماری مذاکراتی کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ہمارے مطالبات جائز ہیں
- 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کا قیام
- سیاسی قیدیوں کی رہائی
ڈی جی ائی ایس پی آر 9 مئی پر صریح غلط بیانی کر رہے ہیں۔ سیدھا اصول یہی ہے کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی اس نے ہی 9 مئی کروایا۔ ملٹری کورٹس سے فیصلے بھی اسی لیے کروائے گئے کہ وہاں کسی نے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگنی ہی نہیں تھی ۔26 نومبر کو سیدھی گولیاں مار کر ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا جب بھی ان دو واقعات کی شفاف تحقیقات ہوں گی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ہم نے حکومت کو 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ مذاکرات اور اسکے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کی منظوری میں سنجیدگی دکھائی تو بائیکاٹ مہم پہ دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
مجھے بالواسطہ طور پہ بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ میرا موقف واضح ہے کہ پہلے میرے اسیر کارکنان اور رہنماؤں کو چھوڑا جائے اسکے بعد میری بات ہو گی۔ اٹک جیل میں بھی مجھے تین سال تک باہر بھیجنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن میرا جینا مرنا پاکستان ہے ۔ میں آخری سانس تک ملک کی آزادی کی جنگ لڑوں گا اور اپنی قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں-“
“احترام کروانے کی خواہش اس قدر طول پکڑ جاتی ہے کہ اس کے لیے چھتر مار کر ایفیڈیوٹ بھی سائن کروانے پڑیں تو کروائے جاتے ہیں
اور
یہیں آ کر سوچ ختم ہو جاتی ہے”۔
جن کے ووٹوں سے زرداری صاحب صدر بن کے بیٹھے ہیں بلاول ان کو فارم سینتالیس کے طعنے دے رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش پر تنقید کر رہے ہیں، اس سے زیادہ عوام کے شعور کی توہین نہیں ہوسکتی،ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلاول اور ان کی جماعت کی منشا اور مدد سے ہو رہا ہے۔ تفصیل کلپ میں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام:
“مجھے اللہ پر پورا یقین ہے کہ 2025 اس قوم کے لیے حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
رجیم چینج کے بعد ملکی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور نیا سرمایہ آنے کی بجائے صنعت کار اپنی انویسٹمنٹ نکال رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ معیشت کی اس بدحالی کی 4 بنیادی وجوہات ہیں:
نمبر 1: ملک میں قانون کی حکمرانی (رول آف لاء) کا خاتمہ
ملٹری کورٹس سے سویلینز / سیاسی قیدیوں کو سزائیں دلوا کر سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اپنا منہ کالا کیا ہے- ملٹری کورٹس اور “آئینی بنچ” بنا کر ملک سے رول آف لأ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے- اس سے ہمارا “جی ایس پی پلس” سٹیٹس بھی خطرے میں پڑ گیا ہے- ملٹری کورٹس کی سزاؤں کے بعد پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا ہے اور اب بیرونی سرمایہ کاری ایک خواب ہے کیونکہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ اٹھایا جا چکا ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ آپ دباؤ کے ذریعے وقتی طور پر دکھاوے کا استحکام تو لا سکتے ہیں مگر جب تک ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال نہیں ہوتا بے روزگاری اور معاشی بدحالی کو روکا نہیں جا سکتا ۔ ملک کی معاشی ترقی کا ایک ہی بنیادی ستون ہے جو اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری ہے۔
نمبر 2: انٹرنیٹ کی بندش
تحریک انصاف کو کرش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ملک کی آئی ٹی کی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا گیا ہے۔ مستقبل IT کا ہے لیکن آزادی اظہار رائے سے خوفزدہ حکومت نے انٹرنیٹ میں خلل پیدا کر کے نوجوانوں کے روزگار کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ متاثر کر دیا ہے اور ہم عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل نہیں رہے- وہ سارے کاروبار جو انٹرنیٹ سے منسلک ہیں انہیں تباہ کیا جا رہا ہے-
نمبر 3 : سیاسی عدم استحکام
ایجینسیوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت سے ملک میں شدید سیاسی عدم استحکام ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فراڈ الیکشن اور جھوٹ ، فریب پر کھڑے جعلی نظام کے ہوتے ہوئے سیاسی اور معاشی استحکام ناممکن ہے۔
نمبر 4: دہشت گردی
خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر دہشتگردی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے معیشت کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میں بیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ آپ کو دہشت گردی کے مسلے کو حل کرنے کے لئے دیرپا سیاسی حل نکالنا ہو گا، ورنہ دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ ناممکن ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دھڑلے سے جھوٹ بولا ہے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کی تجویز خود جنرل باجوہ نے تحریک انصاف دور میں کابینہ کے سامنے پیش کی تھی جس پر مراد سعید ، نور الحق قادری اور قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم دیرپا حل کی طرف نہیں لے جائے گا۔ کابینہ کے بعد اس وقت کی اپوزیشن کو بھی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کیطرف سے بریفنگ دی گئی تھی ۔ ہماری حکومت کے خاتمے کے بعد PDM حکومت کو بریف کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2021 میں جنرل فیض کا تبادلہ ہو گیا اور اسکے بعد کبھی یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں اٹھایا گیا نہ اس پر ہمارے دور میں عمل ہوا۔
اگر آبادکاری سے ہی دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے تو مغربی بارڈر کے پار بمباری کیوں کی جا رہی ہے؟ بلوچستان میں دہشتگردی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کنویں سے پانی نکالتے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مستقل حل کے لیے اپنی کوتاہیوں اور ناکام پالیسیوں کا ناصرف اعتراف کرنا ہو گا بلکہ تصحیح بھی کرنا ہو گی۔
آئی ایس پی آر کو جواب تو ملٹری کورٹس پر بھی دینا چاہیے، کون سا قانون آپ کو جج ، جیوری اور خود ہی جلاد بننے کی اجازت دیتا ہے؟ ملٹری کورٹس کے ٹرائل شفافیت پر مبنی نہیں ہوتے۔
ہمارے دو مطالبات بالکل جائز اور فوری عمل درآمد کے لئے ہیں- 26ویں آئینی ترمیم کو ہم نے اس لیے فوری مطالبات کا حصہ نہیں بنایا کیونکہ وہ طویل کام ہے۔
حکومت اگر مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں لیتی تو ہماری ترسیلات زر کے بائیکاٹ کی مہم پورے زور سے جاری رہے گی-
نواز شریف اب صرف سیاست کا بارہواں کھلاڑی ہے-
1/2
“پاکستانی عوام کو ملک پر مسلط قبضہ اور ایکسٹینشن مافیا کے خلاف نکلنا ہو گا ورنہ ہماری آنے والی نسلیں بھی چیونٹیوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گی-
ملک پر قبضہ مافیا اور ایکسٹینشن مافیا کا تسلط ہے جو اپنے اقتدار اور قبضے کو طول دینے کے لیے ہر ایک ہتھکنڈا اپنا رہا ہے جس کی نہ آئین اجازت دیتا ہے نہ قانون اور نہ ہی سیاسی اخلاقیات اجازت دیتی ہے-
چھبیسویں آئینی ترمیم اور ایکسٹینشن کے لیے کی گئی قانون سازی اسی کا حصہ ہے- عدالتوں اور پارلیمنٹ کو بھی روندا جا رہا ہے اور عوام کو بھی-
جو ایکسٹینشن دی گئی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عوام کے حقوق کا قتل ہے- ایکسٹینشن اور قبضے سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوتے ہیں-
قوم اپنے لیے کھڑی ہو اور منظم ہو کر پرامن احتجاج کرے کیونکہ جب تک ملک میں “انصاف کا انقلاب” نہیں آئے گا تب تک جمہوریت نہیں ہو گی- انصاف کا انقلاب لانے کے لیے تمام لوگوں کو نکلنا ہو گا-
یہ کسی ایک شخص یا پارٹی کا نہیں پورے پاکستان کی بقا اور سالمیت کا معاملہ ہے” - سابق وزیراعظم عمران خان کی آج اڈیالہ جیل میں میڈیا اور اپنے وکلا سے گفتگو
مبینہ زیادتی ہوئی
معاملے کو دبایا گیا
طلباء کو علم ہوا
طلباء نے احتجاج کیا
میاں عامر کو فکر ہوئی
پنجاب حکومت سے رابطہ کیا
احتجاج دبانے کے لئے پولیس بھجوائی
معاملہ زیادہ بگڑ گیا۔
ایک ایک چیز مسئلہ ہے۔ زیادتی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر پردہ پوشی ظلم ہے۔ اسے روکنے کےلیے میڈیا کا اثر و رسوخ استعمال کرنا ظلم ہے۔ حکومت کا میڈیا کے اشاروں پر ناچنا ظلم ہے۔ یہ ظلم کا نہیں ظالم کا معاشرہ ہے۔
These students are peacefully protesting against rape incident, why Maryam Nawaz and IG Punjab’s police is attacking them?
Is protesting against rape a crime for them too now? https://t.co/kEHkHQTyHU
کمشنر راولپنڈی قاضی کے خلاف بولا تو وہ تب سے مسنگ ہے
ڈونٹ والا بولا تو وہ تب سے مسنگ ہے
مصطفین کاظمی ایڈووکیٹ بولا تو آج اسے بھی اغوا کر لیا گیا
میں شروع دن سے قاضی کے خلاف بولتا ہوں تو ہم 4 فیملی ممبران بار بار اغوا ہوئے
قاضی ہی اغوا مافیا کا اصل سرغنہ اور پارٹنر ہے؟
کیونکہ
ججز مغویوں کو بازیاب کروانے میں دلچسپی نہیں لیتے
جو دلچسپی لیں ان کے خلاف قاضی میدان میں آ جاتا ہے