السلام وعلیکم
اچھے کے ساتھ اچھے بن کے رہو لیکن برے کے لئے برے مت بنو ۔کیونکہ تم پانی سے خون صاف کر سکتے ہو پر خون سے خون نہیں
ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﺍﮨﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮨﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﮯ۔
Take heed when the Almighty exposes someone’s intention towards you. He has done it for a reason. Some will act like they care about you but behind your back, it’s a different story. They may even speak ill of you. But don’t worry. The truth will always come out.
فوجی فوڈز نے 2026 کی پہلی ششماہی (H1) کے دوران اپنی تاریخ کی بلند ترین 16.8 ارب روپے کی آمدنی (ریونیو) رپورٹ کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 12.6 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ کامیابی مہنگائی اور صارفین کے کمزور اخراجات کے باوجود حاصل کی گئی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے تمام مصنوعات کے شعبوں میں ترقی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نورپور (Nurpur) نے پہلی ششماہی میں اب تک کی بلند ترین مارکیٹ شیئر حاصل کی۔ بہتر ڈسٹری بیوشن، سیلز چینلز میں توسیع اور مؤثر مارکیٹ حکمتِ عملی کے باعث ڈیری اور سیریلز کے شعبوں میں بھی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
فوجی فوڈز کے مطابق یہ نتائج اس کی پائیدار اور منافع پر مبنی طویل المدتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں اور فوڈ و ڈیری سیکٹر میں کمپنی کی مضبوط کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ معلومات عوامی طور پر دستیاب رپورٹس اور کمپنی کے جاری کردہ مالی نتائج پر مبنی ہیں۔ اگر اس پوسٹ میں استعمال ہونے والی تصویر AI سے تیار کی گئی ہو تو وہ صرف نمائشی مقصد کے لیے ہے۔
#FaujiFoods #PakistanBusiness #FoodIndustry #Nurpur #BusinessNews
یوٹیوبر ایلن پین نے ایک مرغی کے لیے 3D پرنٹر سے ڈائنوسار جیسی دُم تیار کی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ اپنے قدیم آباؤ اجداد کی طرح چلنے لگتی ہے یا نہیں۔
📹 ایلن پین
بائیں طرف ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھ کا ایکسرے ہے، اور دائیں طرف چھ سال کے بچے کا۔ صرف چند سالوں کا فرق ہے، مگر کلائی کی ہڈیوں کی نشوونما میں کتنا بڑا فرق صاف نظر آ رہا ہے۔
اب خود سے ایک سوال پوچھیے...
اگر ان دونوں بچوں کے ہاتھ میں ایک جیسی پنسل دے کر کہا جائے کہ "صاف لکھو، لائن کے اندر لکھو، شکل درست بناؤ"... تو کیا دونوں ایک جیسا لکھ سکیں گے؟
ہرگز نہیں۔
کیونکہ لکھنا صرف ذہانت کا نہیں، جسمانی نشوونما کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب تک کلائی، انگلیوں کی باریک حرکتوں (Fine Motor Skills) اور پٹھوں کی مناسب نشوونما نہ ہو، بچہ چاہ کر بھی وہ گرفت پیدا نہیں کر سکتا جو خوبصورت لکھائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
لیکن افسوس...
ہم میں سے بہت سے والدین روز یہی ظلم کرتے ہیں۔
دو، ڈھائی یا تین سال کے ننھے بچوں کے ہاتھ میں پنسل تھما دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں:
"سیدھا لکھو!"
"لائن سے باہر کیوں نکل گئے؟"
"شکل خراب کیوں بنائی؟"
"دوسرے بچے تو کتنا اچھا لکھ لیتے ہیں!"
اور جب بچہ نہ کر سکے تو اسے ڈانٹ، ڈپٹ، شرمندگی، بلکہ بعض اوقات مار تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذرا سوچیے...
جس معصوم کی کلائی کی ہڈیاں ابھی مکمل بنی ہی نہیں، جس کے ہاتھ کے ننھے ننھے پٹھے ابھی مضبوط ہی نہیں ہوئے، اس سے آپ وہ کام کیوں چاہتے ہیں جس کے لیے اس کا جسم ابھی تیار ہی نہیں؟
دنیا کے کئی کامیاب تعلیمی نظام اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
مثلاً فن لینڈ میں بچے عام طور پر سات سال کی عمر سے پہلے باقاعدہ اسکول شروع نہیں کرتے، اور ابتدائی برسوں میں کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور جسمانی و ذہنی نشوونما پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے.
یاد رکھیے...
اگر آپ کا بچہ چھ یا سات سال کی عمر تک بھی لکھنے میں دوسروں سے پیچھے ہے، تو ضروری نہیں کہ اس میں کوئی خرابی ہو۔ انکے جِسم نے ابھی وہ مسل ہی نہیں بنائے ہوتے جو پنسل پکڑ سکیں ..
اگر آپ کا بچہ چھ سات سال تک صحیح نہیں لکھ پاتا تو وہ غلط نہیں آپ غلط ہو ...شیئر کرو تاکہ سب آنکھیں کھول کر پڑھ لیں
منقول
چین بنجر صحراؤں کو سرسبز و شاداب نخلستانوں میں تبدیل کر رہا ہے۔
ماحولیاتی بحالی کی کئی دہائیوں پر محیط کوششوں نے انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔
اگر آپ ہر چھوٹی بات کو بار بار ذہن میں دہراتے ہیں، تو شاید آپ Overthinking کا شکار ہیں۔
تحقیقات کے مطابق، حد سے زیادہ سوچنا ذہنی دباؤ، بے چینی اور فیصلہ سازی میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس عادت کو پہچان کر اور چھوٹی مثبت تبدیلیوں کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
کیا آپ بھی کبھی Overthinking کا شکار ہوتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
#Overthinking #MentalHealth #Psychology #SelfImprovement #Mindset
It’s natural to feel broken if you’ve been treated badly or been the subject of rumours etc. But remember, some things are not within your control. Turn every anxiety, fear and concern into a supplication. Look at it as another reason to submit to the Almighty. Let Him take over.
چیچنیا کے شہر گروزنی سے تعلق رکھنے والی آمنہ ایپینڈیوا (Amina Ependieva) اپنی منفرد جینیاتی خصوصیات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق آمنہ پیدائشی طور پر البینزم (Albinism) اور ہیٹروکرومیا (Heterochromia) کی حامل ہیں۔ البینزم کی وجہ سے ان کی جلد اور بالوں کا رنگ غیر معمولی طور پر ہلکا ہے، جبکہ ہیٹروکرومیا کے باعث ان کی آنکھوں کے رنگ مختلف ہیں، جن میں ایک آنکھ نیلی اور دوسری بھوری نظر آتی ہے۔
2020 میں ان کی تصاویر ایک فوٹوگرافر کے ذریعے شیئر کی گئیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں اور دنیا بھر میں لوگوں نے ان کی منفرد خوبصورتی کو سراہا۔
آمنہ ایپینڈیوا کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ قدرتی جینیاتی تنوع انسانوں کو منفرد بناتا ہے اور ہر شخص کی اپنی ایک خاص پہچان ہوتی ہے۔
📌 نوٹ: یہ معلومات دستیاب رپورٹس پر مبنی ہیں۔ ساتھ دی گئی تصویر AI سے تیار کردہ ہو سکتی ہے اور صرف نمائشی مقصد کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
#AminaEpendieva #Albinism #Heterochromia #RareGenetics #InspiringStories
تاریخ سے ثابت ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولا کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ عمران خان
#pakistan@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
نئی دہلی میں جنتر منتر سے واپسی پر پولیس نے جامعہ ملیہ کے 5 مسلمان طالبعلموں کو حراست میں لیا ۔ ان کو لیکر نامعلوم مقام پر جارہے تھے کہ ایک صحافی اور سماجی کارکن نے ان کا پیچھا کیا اور راستے میں روک لیا ۔ پولیس کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں تھا
تربیت ہمیں
حق کو حق اور باطل کو باطل
کہنا سکھاتی ہے۔
اگر کسی کا جرم ثابت ہو تو اسے
چور کہنا حقیقت ہے،
لیکن ایسے شخص کو اپنا رہنما
مان لینا اخلاقی دیوالیہ پن
اور تربیت کی ناکامی ہے۔۔
ملیے جنید سے...
آج جنتر منتر کا احتجاج ختم ہوا تو لوگ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے، مگر اپنے ساتھ ایک خوبصورت یاد بھی لے گئے، اور وہ یاد تھی جنید۔
جنید ایک مسلمان نوجوان ہے، مگر اس نے اپنی پہچان مذہب سے نہیں بلکہ خدمت (سیوا) سے بنائی۔ پورے احتجاج کے دوران وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہر آنے والے کو کھانا کھلاتا رہا، چائے پلاتا رہا اور سب کا خیال رکھتا رہا۔آج جب لوگ جنتر منتر سے واپس جا رہے تھے تو ایک منظر بار بار دیکھنے کو ملا۔ لوگ جنید سے گلے مل رہے تھے، کئی کی آنکھیں نم تھیں، وہ اس کا شکریہ ادا کر رہے تھے اور محبت کے ساتھ رخصت ہو رہے تھے۔دوستو، نفرت کی زبان صرف دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے، جبکہ محبت، انسانیت اور خدمت کا جذبہ پتھر دل انسان کو بھی موم کر دیتا ہے۔جنید کے پاس نہ کوئی بڑا عہدہ تھا، نہ شہرت، مگر اس کی بے لوث خدمت نے اسے لوگوں کے دلوں کا ہیرو بنا دیا۔ اصل عزت، اصل شہرت اور اصل کامیابی انسانیت کی خدمت میں ہی پوشیدہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، راول ڈیم کے اطراف صفائی مہم کے دوران 200 سے زائد رضاکاروں نے حصہ لیا اور تقریباً دو ٹن ٹھوس کچرا جمع کیا۔
یہ مہم کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA)، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (MCI) اور جاز ورلڈ کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد راول ڈیم کے ماحول کو بہتر بنانا، آبی ذخائر کے تحفظ کو فروغ دینا اور شہریوں میں صفائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔
مہم کے دوران رضاکاروں نے ڈیم کے کناروں اور اطراف سے تقریباً 80 تھیلے کچرا اکٹھا کیا، جس سے اسلام آباد کے اہم آبی ذخائر میں شامل راول ڈیم کے ماحول کے تحفظ میں مدد ملی۔
حکام کے مطابق، راول ڈیم کی آلودگی میں کمی اور طویل مدتی تحفظ کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ سمیت مختلف اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔
یہ مہم شہری شمولیت اور ماحولیاتی ذمہ داری کی ایک مثبت مثال ہے۔
📌 نوٹ: یہ معلومات دستیاب رپورٹس پر مبنی ہیں۔ ساتھ دی گئی تصویر AI سے تیار کردہ ہو سکتی ہے اور صرف نمائشی مقصد کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
#RawalDam #Islamabad #CleanPakistan #Environment #Sustainability