ہندوستانی مسلمانوں سے اگر اللہ نے یہ پوچھ لیا کہ تم نے سیاست کو دین سے الگ کیوں کیا؟ یہ تو انبیا علیہم السلام کا جاری کردہ طریقہ تھا اور تم ان کے نام لیوا تھے تو پھر سیاست سے کنارہ کشی کیوں کی؟ تو وہ کیا جواب دے پائیں گے؟
ہمیں اس پہلو پر ضرور سوچنا چاہیے۔ غیروں کی غلامی کب تک؟
یہ #WhatsApp کی داداگیری ہےجس سے بچنا ضروری ہےممکن ہے ذیل کی خبریں آپ تک پہنچ چکی ہوں اور اگر آپ کے واٹس ایپ میں کوئی تحریر یا کوئی ایسی چیز جس کی آپ کو ضرورت ہو اسے دوسری جگہ محفوظ کر لیں ورنہ بعد میں خدا نخواستہ کف افسوس ملنا پڑے
اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ
#ٹیلی_گرام
#تاریخی_پیش_گوئی
اگر کسان آندولن ناکام ہوا تو اس دیش میں کئی دہائیوں تک کوئی نیا آندولن نہیں ہوگا، بلکہ یہ آندولن ناکام ہوا تو آپ ۲۰۲۴ میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے ساتھ نئے سنودھان کا استقبال کریں گے جسکی امید اس آندولن کی کامیابی کے بعد کچھ کم ہو جائے گی۔
ایک عرصہ تک جن کی باتیں اہمیت کی حامل، وسند کا درجہ رکھتی تھیں،دینی تحریکوں میں حاضری کام یابی کا نصیبہ،اور باعث صد افتخار ہوتیں؛ تو وہیں آج صحابہ پر انگشت
نمائ وبدزبانی نے نہ صرف معتقدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا؛ بل کہ مذہب اسلام میں ایک ایسا رخنہ پیدا کردیا جو ناقابل عفو ہے
الحمدللہ آج انسانیت کے خادم" ڈاکٹر کفیل خان" کو الہ آباد ہائی کورٹ سے رہائی کا پروانہ ملا،جو انتہائی خوشی کی بات ہے، جس سے پتہ چلا کہ آج حق کی جیت،اور فرقہ پرستی کی ہار ہوئی ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ اگر اسی طرح حق کی صدائیں بلند کی گئی؛ تو وہ رائے گاں واکارت نہیں ہوں گی--
ये गाज़ीपुर दिलगार नगर के ठेला लगाकर फल बेंचने वाले सलीम कुरैशी हैं
रात में @ghazipurpolice के सिपाही दबिश देते हैं और इतनी पिटाई करते हैं कि पैर तोड़ देते हैं
अभी ये बनारस में भर्ती हैं और पुलिस परिजनों पर दबाव डालकर मामला रफ़ा दफ़ा करना चाह रही हैं
@Uppolice
دار العلوم دیوبندیعنی ایک مینارۂ نور، عظمت رفتہ کا پاسبان، قرن اول کا حدی خواں، ساقئ کوثر کا نشاں، ایک ایسا چشمۂ حیواں، جس میں قاسم کی جرأت، رشید کی فقاہت، محمود کی بصیرت، اشرف کاجلال، کشمیری کا جمال، سندھی کی یلغار، مدنی کی للکار اورطیب کی گفتارآج بھی موجزن ہیں.
سچرکمیٹی کی رپورٹ کے مطابق صرف تین چارفیصدبچےمدارس ومکاتب میں پڑھتےہیں
تو96فیصدکی فکر کرنےکے بجائے چارفیصدکوٹارگیٹ بناکراس طرح گفتگوکرناکہ ملت میں وکیل اورڈاکٹر حسب ضرورت نہ نکلنایہ مدارس کی کثرت کی وجہ سے ہے
یہ سراسردھوکہ جھوٹ اور خلاف واقعہ ہے جس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔