ملتان میں پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔خواتین اور بچے وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں۔ پنجاب میں ایسے جرائم کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب خود اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں۔
چند حقائق آپکے سامنے رکھنا چاہتی ہوں
وسیم عباس مظفرگڑھ کا رہائشی تھا۔ اس کے والد بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے، ماں نے جعفر سے دوسری شادی کی۔ تین بہن بھائی (دو بھائی، ایک بہن) سب کو یتیم خانہ میں داخل کرایا گیا تھا۔ بہن چھ ماہ پہلے ڈسچارج ہو کر ماں کے پاس ہے، دوسرا بھائی اب بھی اسی یتیم خانے میں ہے، جبکہ وسیم گزشتہ چھ سال سے وہاں مقیم تھا۔
یتیم خانہ کا نام دارالخدا ہے جو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اور پنجاب چیریٹیز کمیشن کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ یہاں تقریباً ۱۴۰ بچے رہتے ہیں۔
ایک ہفتہ قبل وسیم کو ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تاکہ اسے الیکٹریکل کام سکھایا جائے۔ ۱۹ اکتوبر کو کام کی جگہ پر اس کے ساتھ بدسلوکی ہوئی، وہ بھاگ نکلا۔ ملزم توقیر اور اس کا ساتھی امجد کار میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے تقریباً ایک کلومیٹر تک گئے اور اسے دیکھتے ہی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا۔
مرکزی ملزم توقیر گرفتار ہے اور گاڑی قبضے میں ہے۔ دوسرے ملزم امجد کے ٹھکانوں پر فیصل آباد میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ دفعات 302، 34 پی پی سی کے تحت ایف آئی آر 990/2026 درج ہو چکی ہے اور پولیس خود مدعی ہے۔ پراسیکیوشن پولیس کے ساتھ مل کر مضبوط کیس تیار کر رہی ہے۔ ملزم کو پانچ دن کی ریمانڈ مل چکی ہے۔ ایس پی کینٹ خدیجہ نے مظفرگڑھ میں مقتول کے خاندان سے ملاقات کی، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور مالی مدد بھی فراہم کی ہے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ انصاف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے ذریعے بچوں کے تحفظ، رحمت کارڈ کے تحت یتیموں کی مالی مدد، اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات جاری ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جیسے پراجیکٹ بھی مریم حکومت میں شروع کیے گئے۔ یہاں بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ انصاف ضرور ہوگا۔
مراد سعید کے حوالے سے قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔
مراد سعید تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ عدالتوں میں اپنے مقدمات کا سامنا کرو اور مزید مفرور نہ بنو ۔
جو لوگ تم کو ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور مسلح لڑائی کا مشورہ دے رہے ہیں وہ تمہارے اور تمہاری پارٹی کے دشمن ہیں ۔
Türkiye, Suudi Arabistan ve Pakistan arasında imzalanan Mekke Ortak Savunma Anlaşması’nın onaylanmasına ilişkin kanun teklifinin Türkiye Büyük Millet Meclisine sunulması, üç kardeş ülke arasındaki stratejik iş birliğinin kurumsallaşması yolunda önemli bir aşamadır.
Ülkelerimiz arasında geliştirilen bu stratejik ortaklık; kolektif caydırıcılığın güçlendirilmesini, savunma alanındaki ortak kabiliyetlerin artırılmasını ve bölgemizde güvenlik ve istikrarın korunmasını hedeflemektedir.
Bölgenin meselelerinde bölge ülkelerinin sorumluluk üstlenmesini esas alan Mekke Ortak Savunma Anlaşması, güvenliği ve dayanışmayı önceleyen ortak bir iradenin tezahürüdür.
TBMM’deki onay sürecinin ülkemiz ve kardeş ülkelerimiz Suudi Arabistan ile Pakistan için hayırlı olmasını temenni ediyor, şimdiden emeği geçen tüm partilere ve milletvekillerine teşekkür ediyorum.
قطر ، پاکستانی، ترکیہ ااور انڈونیشیا کا کل بننے والا نیا دفاعی صنعتی اتحاد ایک بار پھر مسلمان ممالک کے درمیان خوش آئند تعاون کا آغاز ہے۔
دہائیوں تک مغربی ممالک پر انحصار کے بعد اب سب کو احساس ہو گیاہے کہ ہمیں آپس میں ہی بھروسہ کرکے اتحاد کرنا ہوگا ورنہ لوئی کس وقت دھوکہ دے جائے کوئی پتا نہیں لگتا۔۔
قطر پر گزشتہ سال اسرائیلی حملے کے وقت امریکی اسلحہ چلا ہی نہیں تھا۔
Details of the Mecca Joint Defence Agreement between Türkiye, Saudi Arabia and Pakistan have emerged after the 16-article text was submitted to the Turkish parliament:
Collective defense — An attack on one member will be treated as an attack on all.
Logistics — Members will provide each other logistical support, including weapons, ammunition and equipment.
Intelligence — The countries will share intelligence with each other but not with third parties.
Defense industry — Close cooperation in defense and security, with joint production encouraged.
Technology — Joint R&D and innovation projects in advanced technology fields.
Military readiness — Joint exercises and training to boost operational readiness.
Defense Committee — A committee including the three countries' foreign and defense ministers will be set up.
New members — Any new member will need the approval of all three countries.
Duration — The agreement will last 10 years, after which any country can withdraw.
Türkiye, Katar, Pakistan ve Endonezya arasında savunma sanayii alanında işbirliği yapılmasına ilişkin mutabakat metninin, yarın Katar’da imzalanması bekleniyor.
Unnecessary noise about “brain drain”! Over the last 10 years, an average of 604,000 Pakistanis went abroad annually for employment, predominantly in labour categories. Only COVID years saw a sharp decline. With millions entering our workforce and over 500,000 graduates annually, we should facilitate more skilled workers and graduates finding better opportunities abroad, supporting their families and significantly boosting remittances.
اب سرکاری زمین پر کوئی پلازے تعمیر کرے، سروس روڈز پر قبضے کرکے غیر قانونی تجاوزات کھڑی کر دے اور جب حکومت قانون کے مطابق تجاوزات کے خلاف آپریشن کرے تو اسے پختونخوا پر عذاب قرار دے دیا جائے؟ رنگ روڈ پر دنیا بھر میں سروس روڈز کو آمدورفت کے لیے رکھا جاتا ہے، وہاں تعمیرات اور قبضوں کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہاں بھی پی ٹی آئی کے دور میں سروس روڈز پر قبضے کرکے تعمیرات کی گئیں۔ اب جب ان تجاوزات کو ختم کرکے رنگ روڈ کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے تو اسے غریب عوام کے کاروبار کی تباہی کا نام دیا جا رہا ہے۔ قانون کی عملداری عذاب نہیں، عوام کا حق ہے! کاروبار ضرور کریں، مگر سرکاری زمین پر قبضہ کرکے نہیں۔ اب تجاوزات کو کاروبار کا نام دے کر عوام کو گمراہ کرنے کا بیانیہ نہیں چلے گا۔
This is the border between Afghanstan & China - also known as Wakhan Corridor. The Chinese govt has completely fenced the whole border with double layers of razor wire which even the wild animal can't cross it.
This is done following reports & claims from Taliban regime that Wakhan Corridor will be shortly opened for trade with China and Central Asian states. #china #afghanistan #Pakistan
With the introduction of the Fatah-IV, India’s main business metropolis, Mumbai, is now within range of Pakistan’s conventional strike force. https://t.co/iER1UwqvGw
Moreover, Akbar Bugti blew up a baraat convoy of the Masoori Bugti sub-tribe in 2006 after they defied his tyranny, killing 26 citizens, incl 6-month-old babies. Now I wait for @farzanaalispark to grandstand how a feudal bastard blowing up women & kids to pieces was "resistance".
یہ ایک اور قاضی بھی ہیں پی ایچ ڈی ہیں۔ برطانیہ میں رہتے ہیں۔ ان کا ذہنی لیول بھی دیکھ لیں کہ میں نے لکھا نیشنل بک فاونڈیشن سے بکس خریدیں تو سیلز مین نے ڈیبٹ کارڈ کے زریعے ادائیگی پر بنک کا کہہ کر دو فیصد ٹیکس کاٹ لیا۔
دنیا بھر میں کہاں ڈیبٹ کارڈ استمعال کرنے پر دکاندار بنک کا کہہ کر دو فیصد ٹیکس کاٹ لیتا ہے۔۔ بلکہ کبھی کبھار تو آن لائن/ڈیبٹ کارڈ پر تو دس بیس فیصد ڈسکاونٹ بھی ملتی ہے۔
کیا لندن میں دکاندار کاٹتے ہیں؟
ان کا زرا کمنٹ ملاحظہ فرمائیں کہ مجھے(کلاسرا) کو اپنی پڑی ہے اور عوام جائے جنہم میں۔
اس پی ایچ ڈی سکالر نے آج سارا دن برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستانی عوام کی فکر میں صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا لنچ تک نہیں کیا۔شام کو بھی بھوکا سوئے گا غریب پاکستانیوں کے ساتھ solidarity دکھانے کے لیے۔
یہ ہمارے پاکستانی پی ایچ ڈی کو ڈگری ملتے ہی کیا ہوجاتا ہے۔
کل ہی بلوچستان سے ایک militancy ایکسپرٹ /پی ایچ ڈی کو بھگتا ہے تو آج برطانوی پی ایچ ڈی آگیا ہے کہ اگر ڈیبٹ کارڈ پر دکاندار اصل بل کی ادائیگی پر بنک کا دو فیصد الگ کاٹ رہا ہے تو یہ بھی بھلا کوئی ایشو ہے؟ مطلب کیش دیا کریں اور آگے بڑھ جائیں۔
ویسے ان قاضی صاحب جیسے پی ایچ ڈی حضرات کو کیا سوچ اور ان کے ذہنی فکری قابلیت دیکھ کر ڈاکٹر کا ٹائٹل ملتا ہوگا کہ اب آپ جو چاہیں باقاعدہ “مستند گپیں” مار سکتے ہیں۔