Every few decades a general steps in and says “the system has collapsed.”
Ayub 1958. Yahya 1969. Zia 1977. Musharraf 1999. Now Field Marshal Asim Munir’s ally Mohsin Naqvi is saying the exact same thing.
Same script. Same excuses. Same result.
🚨 Enforced Disappearance Alert
NAME: RIZWANA
Father: GUL JAN
Age: 16
From: Killi Teri, Mastung
1st Year Student
Abducted on: 28 June 2026 at 10:00 PM
From: Samungli Road, Quetta
By: (CTD)
A 16-year-old girl snatched in broad daylight. Demand her immediate recovery & justice!
بات صرف مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کی نہیں، ہماری بلوچی ریاست قلات کے نام کو ختم کرنے کی کوشش ہے، خان میر احمد خان سے 48ءکے معاہدے کو نہیں مانتے تو پھر یہ مسٹر جناح کی سالگرہ وغیرہ بھی نہیں منائیں، نواب اسلم رئیسانی
#balochistan
Before being sentenced to life imprisonment, Dr. Mahrang Baloch spoke from solitary confinement about resistance, human rights, and the future of Balochistan.
Read her recent interview:
https://t.co/MGAEDucLU9
Amnesty International has said that the life sentences handed down by Quetta’s Anti-Terrorism Court to Baloch activists Mahrang Baloch and Sibghat Ullah Shah Jee are inconsistent with the right to a fair trial.
According to the organization, Pakistan’s anti-terrorism laws are being used to silence peaceful dissent, and no direct evidence was presented during the trial linking the two activists to the alleged acts of violence.
#TOLOnews_English
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ:
خاموشی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سلام۔
مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آغاز ہے، انجام نہیں۔
ہم دنیا بھر کے ان تمام صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں، سیاسی رہنماؤں، تنظیموں اور باشعور انسانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ، کو ایک جھوٹے مقدمے میں سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔
آپ کی آوازیں اس اندھیرے میں امید کی کرن ہیں۔ آپ کے بیانات، آپ کی تحریریں، آپ کی رپورٹس اور آپ کی سوشل میڈیا کیمپئن نے اس خاموشی کی دیوار میں دراڑیں ڈال دی ہیں جسے برسوں سے خوف، جبر اور سنسرشپ کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے۔
مگر ہمیں یہ بھی جاننا ہوگا کہ یہ صرف ایک مقدمے میں دی جانے والی سزا کا معاملہ نہیں ہے۔ اسی نوعیت کے جھوٹے الزامات پر مبنی دیگر پچاس مقدمات بھی تنظیم کے رہنماؤں کو درپیش ہیں۔ گزشتہ بارہ دنوں سے وہ جیل کے احاطے میں تپتی دھوپ کے نیچے فیس لیس ٹرائل کے خلاف احتجاجی دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں، مگر ان کی آواز اب بھی ایک حد تک ان سنی ہے، اور جبر اب بھی برقرار ہے۔
ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ بلوچستان میں خاموشی کوئی اتفاقی کیفیت نہیں بلکہ ریاستی جبر کے ذریعے پیدا کی گئی ہے۔ یہ خاموشی خود پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اسے پیدا کیا گیا ہے۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے صحافت کو جرم بنایا گیا، صحافیوں کو دھمکایا گیا، اغوا کیا گیا اور قتل کیا گیا۔ سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کیا گیا، سوشل میڈیا پر بولنے والوں پر مقدمات قائم کیے گئے، اور پورے سماج کو خوف کے حصار میں قید کرنے کی کوشش کی گئی۔
بلوچستان میں خاموشی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ظلم کو معمول بنا دیا گیا۔ جبری گمشدگیاں بڑھتی رہیں، لاشیں گرتی رہیں، گھروں کے چراغ بجھتے رہے، مگر دنیا کی ایک بڑی تعداد بے خبر رہی۔ جب کسی سماج کی چیخیں سنائی نہ دیں تو ظالم کو مزید جرأت ملتی ہے، اور یہی بلوچستان میں ہوا۔
خاموشی کی وجہ سے ہزاروں خاندان آج اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔ خاموشی کی وجہ سے سینکڑوں مائیں اپنے بیٹوں کی تصویریں اٹھائے دربدر انصاف مانگ رہی ہیں۔ خاموشی کی وجہ سے سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کی جدوجہد کو بغاوت بنا کر پیش کیا گیا۔ خاموشی کی وجہ سے بلوچستان کے بارے میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس میں ہر بلوچ کو مشکوک، ہر سیاسی کارکن کو خطرہ، اور ہر احتجاج کرنے والے کو دشمن بنا کر دکھایا گیا۔
یہی خاموشی تھی جس کے سائے میں گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں جبری گمشدگیاں ہوئیں، سینکڑوں افراد ماورائے عدالت قتل کیے گئے، سیاسی کارکنوں کو سزائیں سنائی گئیں، اور پورے کے پورے خاندانوں کو اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر دنیا نے پہلے سنا ہوتا، اگر آوازیں پہلے بلند ہوئی ہوتیں، اگر خاموشی کو پہلے چیلنج کیا گیا ہوتا، تو شاید بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ شاید بہت سی مائیں آج اپنے بچوں کے لیے ماتم نہ کر رہی ہوتیں۔ شاید بہت سے نوجوان زندانوں اور عقوبت خانوں میں نہ ہوتے۔ شاید آج ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے باقی ساتھی چودہ ماہ سے جیل میں نہ ہوتے۔ شاید آج انہیں عمر قید کی سزا نہ سنائی جاتی۔
اسی لیے آج خاموشی محض ایک اخلاقی ناکامی نہیں بلکہ ایک انسانی قیمت بھی رکھتی ہے۔ بلوچستان میں خاموشی کا مطلب مزید جبری گمشدگیاں ہیں۔ خاموشی کا مطلب مزید لاشیں ہیں۔ خاموشی کا مطلب مزید سیاسی انتقام ہے۔ خاموشی کا مطلب مزید ماؤں کی آہیں، مزید بہنوں کا انتظار اور مزید خاندانوں کی تباہی ہے۔
اسی لیے ہم دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں اور باشعور آوازوں سے کہتے ہیں:
بولتے رہیے۔
بولتے رہیے، کیونکہ خاموشی ظالم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
بولتے رہیے، کیونکہ آواز ہی مظلوم کا سب سے بڑا دفاع ہے۔
بولتے رہیے، کیونکہ جب دنیا خاموش ہوتی ہے تو جیلیں بھر جاتی ہیں،
اور جب دنیا بولتی ہے تو ظلم کی دیواروں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ بلوچ، بیبرگ بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور دیگر سیاسی قیدی آج بھی آزادی کے منتظر ہیں۔ ہزاروں جبری گمشدہ افراد آج بھی اپنے خاندانوں سے دور ہیں۔ بلوچستان کی مائیں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔
اس لیے آپ کی آواز کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
آپ کی ایک پوسٹ، ایک مضمون، ایک تحقیقاتی رپورٹ، ایک بیان، ایک احتجاج اور ایک سوال بھی فرق پیدا کر سکتا ہے۔
ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے خاموشی کا حصہ بننے سے انکار کیا۔
اب ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس آواز کو وقتی ردِعمل نہ بننے دیں بلکہ اسے ایک مستقل عہد، ایک مسلسل مزاحمت اور ایک عالمی انسانی تحریک میں تبدیل کریں۔
بولتے رہیے، جب تک سیاسی قیدی آزاد نہیں ہو
𝗦𝗢𝗖𝗜𝗔𝗟 𝗠𝗘𝗗𝗜𝗔 𝗖𝗔𝗠𝗣𝗔𝗜𝗚𝗡
The sentencing of Dr. Mahrang Baloch and Shah Jee Sibghatullah to life imprisonment is a grave injustice and an attack on democratic political activism, human rights advocacy, and peaceful dissent in Balochistan.
We call upon everyone to join a coordinated social media campaign to demand the release of BYC leaders, amplify their voices, and stand in solidarity with all those facing political persecution for their peaceful activism.
Join the campaign by posting on all social media platforms.
🔹 Share facts, statements, videos, and messages of solidarity.
🔹 Raise your voice against the criminalization of peaceful political activism.
🔹 Demand justice, transparency, and the release of political prisoners.
🔹 Tag journalists, human rights organizations, activists, and public representatives.
🔹 Encourage others to participate and keep the issue visible.
The strength of any movement lies in public awareness and collective action. Let us stand together and ensure that these voices are not silenced.
#IStandWithBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders