خان ولی آفریدی ایک ایسے شخص سے سوال کر رہے ہیں جو تین دن پہلے اپنا گھر چھوڑ کر نکلا اور تینوں دن صرف “سہولت”لینے کے لیے لائنوں میں کھڑا رہا۔ تیراہ پشاور سے صرف چار گھنٹے کی مسافت پر ہے، مگر ہمارے لوگ تین دن میں پہنچ پاتے ہیں۔فوج ہمیں گھروں سے نکال رہی ہیں حکومت یو ذلیل کر رہی ہیں
پختونخوا کے مدارس میں غریب گھرانوں کے بچے اپنی کتابیں پڑھ رہے تھے،مگر تم وردی والوں نے اقتدار اور ڈالروں کی ہوس میں ان مقدس درسگاہوں کو جنگی کارخانوں میں بدل دیا۔سعودی عرب اور امریکہ کے پیسوں پر پل کر تم نے معصوم ذہنوں کو بارود بنایا، پورے خطے کو آگ میں جھونک دیا۔
مشر محمود خان
وادیٔ تیراہ اس وقت ایک زندہ قیامت کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ہزاروں بہنیں، معصوم بچے اور نوجوان شدید سردی اور رات کے گھپ اندھیروں میں اپنے گھروں سے زبردستی نکلنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ کوئی گاڑیوں میں ٹھونسے جا رہے ہیں تو کوئی ننگے پاؤں، جان ہتھیلی پر رکھ کر پہاڑی راستوں پر چل پڑے ہیں۔
یہ کوئی معمولی نقل مکانی نہیں، یہ دل دہلا دینے والا انسانی المیہ ہے۔ لوگ آنسوؤں کے ساتھ اپنے گھر، اپنی زمین اور اپنی یادیں چھوڑ رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہم قبائل بار بار اسی ظلم، اسی دربدری اور اسی آزمائش سے گزارے جا رہے ہیں۔
اس دوران کئی گاڑیاں حادثات کا شکار ہو چکی ہیں، کئی بےگناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور درجنوں زخمی ہیں، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
ہم نے بارہا پاکستانی ریاست کو اپنی وفاداری کے ثبوت دیے ہیں۔ بار بار پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے ہیں۔ چاہے انڈیا ہو یا اور کوئی، ہر محاذ پر ہم نے پاکستان فوج کا دفاع کیا ہے۔ ہمارے بچوں نے بھی فوج کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگی ہیں، کھیل کے میدان تک میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا۔
اس سب کے باوجود، ہمارے حصے میں ایک بار پھر بےگھر ہونا، ذلت اور کرب ہی آیا ہے۔ ہمارے دلوں پر خنجر چلائے گئے ہیں، اور ہماری وفاداری کو روند کر رکھ دیا گیا ہے۔ یہ صرف ناانصافی نہیں، یہ کھلا ظلم ہے۔
#PashtunsRejectTirahOperations
خان ولی آفریدی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مشکل وقت میں وہ اپنے قبیلے کے لیے چٹان بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔
جرگے میں ان کی قیادت میں قبیلے نے تاریخی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور حاضری دی۔ جرگہ ختم ہوتے ہی موقع پر موجود پولیس نے بزدلانہ انداز میں خان ولی آفریدی کو حراست میں لینے کی کوشش کی،
مگر قبیلے کے باہمت افراد نے متحد ہو کر انہیں گھیر لیا اور انسانی ڈھال بن کر پولیس کی اس ناپاک کوشش کو ناکام بنا دیا۔
قبیلے کی جرات، اتحاد اور غیرت کے سامنے پولیس بے بس ہو گئی اور گرفتاری کی سازش دھری کی دھری رہ گئی۔ یہ آج کے جرگے کا وہ منظر ہے جو طاقت کے غرور کو عوامی اتحاد نے خاک میں ملا دیا۔
#TirahOperation #StopPashtunsGenocide #StopStateTerrorism
سیکٹر B-17 اسلام آباد سے قربان علی کو شک کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے، جن کا تعلق اپر وزیرستان سے ہے۔ان کی بیٹی وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز اور مرکزی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ ان کے والد کی بازیابی اور رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
@MaryamNSharif@asmashirazi@hinaparvezbutt
تیراہ کے لوگ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہاں سے زبردستی بے گھر کئے جا رہے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہاں دہشت گرد ہیں انکے خلاف آپریشن کرنا ضروری ہے،جبکہ وزیرِاعلی کہہ رہا ہے کہ یہ سب اسے گرانے کے لیے ایک ڈرامہ ہے۔پچھتر سال سے ہمیں انہی ڈراموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے
میرعلی، شمالی وزیرستان کی گنجان آبادی میں بھاری ہتھیاروں سے جنگ جاری ہے، عام لوگ مر رہے ہیں، گھر تباہ ہو رہے ہیں۔ صوبائی و مرکزی حکومتیں اور میڈیا سب خاموش ہیں۔ دنیا کے لیے بولنے والوں کو وزیرستان دکھائی نہیں دیتا
ضلع خیبر کی وادیٔ تیراہ میدان میں جاری آپریشن کی تازہ صورتحال فوجی ماما نے شاعرانہ انداز میں بیان کی ہے۔
ویڈیو ملاحظہ کریں….
#Tirah_Operation#StopPashtunsGenocide
تیراہ زخہ خیل کے وہ گڈ طالبان، جن کے لیے دن ہو یا رات پاکستانی جرنیل دروازے کھولے رکھتے ہیں۔ چند پیسوں اور ایک دو ویگو گاڑیوں کے عوض ان لوگوں سے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے۔
منظور پشتین نے سچ کہا تھا کہ بارڈر کی مثال بھی انکے ہاں Semipermeable ہے اپنی مرضی کے لوگ آہ اور جاسکتے ہے
آج مستقل دھرنے کا 6 روز ہے اور طلباء کے حوصلے اور جزبے پہاڑ کی طرح بلند ہے اور اب اس ٹھنڈی رات کی وقت پینڈال سے یونیورسٹی کے سڑکوں پر کثیر تعداد میں طلباء پرامن ریلی نکالی اور پوری یونیورسٹی”رہاکرورہاکرو طلباء کو رہاکرو“نعروں سے گونج اٹھی
#WhereAreOurStudents#Resistance
#6daysDahrna
عدنان وزیر اور خبیب وزیر کی جبری گمشدگی کے خلاف پشاوریونیورسٹی طالبعلموں کا احتجاج ایک خاموش چیخ ہے، جسے طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ طالبعلموں نے منہ نے منہ پر پٹی رکھ کے اور ہاتھ باندھے تاکہ دنیا کو دکھا سکیں کہ طالبعلموں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگایا جا رہا ہے، ان کی آواز چھینی جا رہی ہے۔
ہم خاموش تھے، مگر کمزور نہیں۔ ہم پر سکوت مسلط کیا گیا، مگر ہمارے عزم کو توڑا نہیں جا سکا۔ یہ خاموشی بزدلی نہیں، مزاحمت ہے۔
رہائی تک دھرنا جاری رہے گا۔ کوئی طاقت، کوئی دھمکی، کوئی جبر ہمیں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہم جھکنے والے نہیں، ہم حق چھین کر رہنے والے ہیں۔
#ReleaseOurStudents
#StopKidnappingOurStudents
جب بولنا جرم بن جائے تو
خاموشی سب سے بڑا گناہ ہوتی ہے۔
منظور پشتین نے ہمیں خاموشی توڑنا سکھایا،
سر اٹھا کر حق مانگنا سکھایا،
اور یہ باور کرایا کہ
پشتون کمزور نہیں، بس بیدار ہونے کی دیر تھی۔
آج جو اولسی پاڅون نظر آ رہا ہے
یہ کسی جماعت کا نہیں،
یہ ایک قوم کی جاگتی ہوئی غیرت ہے
ملی مشرہ ثانیہ پشتیں
@saniapashteen
شمالی وزیرستان میرعلی کے گاؤں عیسیٰ خیل بوئی خیل میں فوج کے کواڈ کاپٹر ڈرون نے ایک دینی مدرسے کو نشانہ بنایا۔
نتیجہ: ایک معصوم بچہ شہید، 15 سے 20 بچے شدید زخمی۔
زخمی بنوں ریفر ہو چکے ہیں۔ یہ ظلم ناقابلِ برداشت ہے۔
#StopPashtunsGenocide
عنوان دیجیے: گڈ اور بیڈ طالبان چہرے بدلتے ہیں، مگر ظلم ہمیشہ ہمارے بے بس عوام پر ہی ٹوٹتا ہے۔۔
گڈ اور بیڈ طالبان کا یہ کھیل جو ہمارے سامنے رچا جاتا ہے، اس کا سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ ہمارے مظلوم عوام ہی اٹھاتے ہیں۔
طاقتور اپنے بیانیے بدل کر بچ نکلتے ہیں، مگر مارا ہمیشہ وہی جاتا ہے جو بے قصور ہے۔
#مزاحمت_سے_ہی_ملاقات_ہوگی #StopStateTerrorism #StopPashtunsGenocide