Saudi Arabia's East-West pipeline.
- Runs 1,200km from Abqaiq in the Eastern Province to Yanbu on the Red Sea, letting Saudi crude bypass the Strait of Hormuz.
- 7 million barrels a day since war began, the highest throughput in its history.
- Allows Saudi exports from Red Sea ports, which have averaged 4.7 million barrels a day, almost three times the level a year earlier.
- Targeted in drone attack originating from Iraq, the pipeline has now been shut down as a precautionary measure.
حوثی تحریک نے یمن کے پورے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
یہ بات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ایک نامعلوم فوجی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتائی ہے۔
عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’مغربی ساحل پر جو کچھ بھی ہمارے کنٹرول میں تھا، وہ سب ہاتھ سے نکل گیا ہے۔‘
فوجی عہدیدار کے مطابق حوثیوں نے آبنائے باب المندب میں واقع دو مزید جزائر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
یہ دعویٰ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حوثی گروپ نے عالمی جہاز رانی کے لیے اہم آبی گزرگاہ میں واقع پیریم جزیرے کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن، جو ملک کے مشرقی علاقوں میں موجود آئل فیلڈز سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے، کو جمعرات کے روز پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا، امریکی حکام کے مطابق۔
حملوں میں پائپ لائن کے ساتھ موجود پمپنگ اسٹیشنز متاثر ہوئے اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
سیٹلائٹ تصاویر میں مختلف مقامات پر نقصان کے شواہد سامنے آئے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ پائپ لائن کو کتنا شدید نقصان پہنچا ہے یا مرمت میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، ڈرونز ممکنہ طور پر عراق سے روانہ ہوئے تھے۔
ماخذ: CNN۔۔
بریکنگ نیوز: سعودی وزارتِ توانائی:
جمعرات کے روز ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو متعدد حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
BREAKING: Saudi Arabia announces it has shut down the East-West pipeline as a precautionary measure, saying it was subjected to multiple attacks on Thursday. The attacks resulted in a number of injuries.
ایک اسرائیلی عہدیدار نے چینل 12 کو بتایا کہ حوثیوں کا باب المندب پر کنٹرول موجودہ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے بھی زیادہ خطرناک ہے، اور اس کی وجہ سادہ جغرافیہ ہے۔
جزیرہ پریم کے قریب مشرقی بحری راستہ صرف تقریباً 3 کلومیٹر چوڑا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ بحری جہاز حوثیوں کے ٹھکانوں کی براہِ راست نظروں کی زد میں ہوں گے۔
اسرائیلی عہدیدار کے مطابق:
’’وہ اینٹی ٹینک میزائلوں کے ذریعے جسے چاہیں نشانہ بنا سکیں گے۔ وہ اپنی آنکھوں سے جہازوں کو دیکھ سکیں گے۔‘‘
عہدیدار کے مطابق یہی بنیادی فرق ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایران کو بحری ٹریفک کو خطرے میں ڈالنے کے لیے ریڈار، نگرانی کے نظام اور اینٹی شپ میزائلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن باب المندب میں جزیرہ پریم پر موجود ایک جنگجو، جس کے پاس بنیادی نوعیت کا اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل (ATGM) ہو، اپنی آنکھوں سے دیکھے جانے والے آئل ٹینکر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس کے لیے کسی پیچیدہ ٹارگٹنگ سسٹم کی ضرورت نہیں۔
اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ یہ صورتحال حوثیوں کو ’’بے پناہ طاقت‘‘ فراہم کرتی ہے۔
CNN reports that Saudi Arabia's key East-West oil pipeline was 'struck by projectiles' yesterday with satellites detecting 'nine large fires' burning close to it.
اور کچھ یاد ہو یا نہ ہو،، پیٹرول ڈیزل مہنگا کرنے نہیں بھولتے، ڈیزل 403 روپے، پیٹرول 375 روپے 82 پیسے کا لیٹر ہو گیا۔ بے حسی سے بھی کوئی اگلا لیول ہو تو وہ ہے،، بندہ کیا کہے
مسلم لیگ اور پی پی پی نے پاکستان کے 70 فیصد نوجوان جو عمران خان کے ساتھ ہے۔ ان کو گالیاں دی۔تحریک انصاف کے جلسوں میں خواتین آتی تھی ان کو گالی دی۔ کیا وہ ٹھیک تھا
This is getting completely out of control.
Saudi's energy infrastructure and East-West pipeline are getting bombed again.
This time, it isn't Yemen. It isn't Iran either.
It's Iraq.