لانگ مارچ کی تیاری کے ساتھ سہیل آفریدی، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ ،شاہد خٹک ، مینا خان ، جیند اکبر سمیت تحریک انصاف کے دیگر راہنماؤں سے حکومت خوف زدہ لگ رہی ہے انکو مختلف طریقوں دھکمیاں دینا جمہورت دشمنی جیسی سوچ لگ رہی ہے
"اگر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس لے لیا تو مجھے سو فیصد یقین ہے یہ حکومت گھر جائے گی کیونکہ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ اس توہین سے یہ حکومت خود بھی انکار نہیں کر سکتی"۔
ایڈووکیٹ فیصل ملک
میری بات غور سے سنیں فرعون نے ایک دفعہ اپنے نوجومیوں سے پوچھا تھا، کہ مجھے بتاؤ میں کیسے ساری زندگی زندہ رہ سکتا ہوں، نوجومیوں نے کہا بنی اسرائیل کے ایک ںبچے کو مار دو تو ہی یہ ممکن ہو گا، ساری قوم کے بچے مار دیے لیکن جس بچے نے فرعون کو مارنا تھا وہ اس کے گھر پر پل رہا تھا، حفیظ اللہ نیازی
کراچی والو نکل آو، شہر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا شروع کرو، راستے کلئیر کرواو، انشاءاللہ عمران خان کے سپاہیوں کا Street movement قافلہ آپ تک ضرور پہنچے گا
سٹریٹ موومنٹ میں بلا شبہ سہیل آفریدی لیڈ کررہے ہیں
لیکن
مینا خان آفریدی، شاہد خٹک، شفیع جان، عادل بازئی، جنید اکبر اور شفقت ایاز نے جس طرح اس مہم کو کامیاب بنایا ہے
تعریف کے لائق ہے
جہاں بھی بریک لگائی ہوٹل والوں کو بھی یہ سوال عمران خان کو اس دفعہ رہا کروائیں ،یقین مانیں حیران ہو گئے کہ سندھ میں ہر قصبہ تک عمران خان کا بظریہ پنچ گیا .
تین دن قبل سوات کے ایک رہائشی علاقے سے پی ٹی آئی سوات کے بانی کارکن، پیرا میڈیکس ایسوسیشن کے مسلسل تین دفعہ منتخب صدر اور ۲۰۱۳ سے میرے حلقے کے سیکٹری خورشید دادا کو سرشام تین ویگو ڈالے اٹھا کر لے گئے۔ تین دن سے منتخب اراکین پولیس سے جواب طلب کررہے ہیں۔ پولیس آئ ایس آئ کے مقامی دفاتر سے۔ دونوں کے مطابق ان کو اپنے علاقے میں ہونے والی کاروائ کے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔ مگر آف دا ریکارڈ فراہم کردہ معلومات کے مطابق سرزمینِ بے آئین پر سیکٹر کمانڈر اسلام آباد بریگیڈئیر فہیم (جی ہاں وہی بریگیڈئیر فہیم جس کا نام ارشد شریف کو ہراساں کرنے اور اس کے بہیمانہ قتل کی ایف آئ آر کی درخواست میں بھی شامل ہے) کے کارندے دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کی جہاں مرضی ہو، جس کسی کو بھی اٹھا کر جہاں بھی لے جائیں اور لاپتہ کردیں۔ خورشید دادا کا کیس اکلوتا اور پہلا کیس نہیں ہے گذشتہ کچھ عرصہ میں مجھ سے وابستگی کے شُبے میں متعدد افراد کو اسی طرح سے غیر قانونی طور اٹھایا اور ہراساں کیا گیا ہے اور ان کے عیال کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ پولیس لاعلم۔ حکومتی اہلکار بے بس۔ عوامی نمائندے کسی خاطر میں نہیں۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے پیٹی بھائی بھی بے خبر۔
یہی طرزِ عمل بلوچستان میں روا رکھ کر آج بلوچستان کے حالات اس نہج پر پہنچا دیے گئے ہیں کہ جن کی قربانیاں ازبر کرا کرا کر ملک کے ہر ادارے اور تمام وسائل پر اپنے غیر قانونی غیر آئینی قبضے کا جواز فراہم کیا جاتا ہے انہی جیسے ڈیڑھ درجن جوانوں کی لاشیں راتوں رات خاموشی سے جنازے پڑھوا کر آبائ علاقوں کو بھجوائی جارہی ہیں مگر کچھ نا سیکھ کر باقی پاکستان کو بھی بلوچستان بنانا ہے۔ طاقت کی ہوس میں اندھا ادارہ صرف پاکستان کو مسلسل اس دلدل میں گرائے جارہا ہے جہاں عوام کو اپنے اداروں سے اپنے حقوق کے بعد اپنے مال اور جان کی حفاظت کا سامان خود کرنے پہ غور کرنا پڑرہا ہے۔
بریکنگ۔۔۔🚨🚨
زرداری کے بعد شریف خاندان کی کانپیں ٹانگنے کا وقت ہوا چاہتا ہے
"سلمان اکرم راجہ کا سندھ کے بعد بارہ ستمبر سے لاہور، گوجرانوالہ، مُلتان اور میاموالی میں سٹریٹ مومنٹ کا اعلان"
🔥🔥
اگر آپ اس دو دن کی کہانی سن لیں جب نو مہینے بعد نورین خانم عمران خان سے جیل میں ملی، تو آپ کتاب لکھ سکتے ہیں، نواز شریف اور زرداری پریشان ہو گئے ہیں، کہ ہم نے بھی جیلیں کاٹی بھلے وہ جیل میں گھر جیسا ماحول بنا کر ساری سہولیات لے لیتے تھے، اور ڈیل کر کے نکل جاتے تھے، لیکن عمران خان نے مشکل ترین جیل کاٹی ہے اور خود کو بہادر لیڈر ثابت کیا ہے، اب تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ اور زرداری نے خود کو خود ساختہ جلا وطن کر لیا ہے، لیکن آپ نے اِن کے دھوکے میں نہیں آنا یہ سب مل کر تحریک انصاف کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے فوکس صرف 27 ستمبر پر رکھیں، عمران ریاض خان