لوگوں کو جاننےاورسمجھنےمیں واقعی پوراوقت لیں کسی سےبھی تعلق بنانے یاجڑنےکےلیےاتنےزیادہ پرجوش یاہےچین نہ ہواکریں لوگوں کےبہت سےچھپےہوئےروپ ہوتے
جو ہم پر جلدی ظاہر نہیں ہوتے
وقت کے ساتھ بہت کچھ عیاں ہوتا
اس لیے جلدی نہ کریں، پورا وقت لیں
کیونکہ لوگ بدلتےرہتے موسم کی طرح
السلام علیکم
انسان کی تخلیق کا اولین مقصد اپنے رب کی بندگی و عبادت ہے، اور وہ بے شک اس میں آزمایا جاتا ہے۔ پس جو اپنے رب کے حضور عاجز و تابعدار رہا وہی مراد کو پا گیا۔
لوگوں کے پاس دو راستے ہوتے ہیں کامیابی کے،
پہلا یہ کہ وہ خود محنت کریں اور اپنا نام بنائیں۔
دوسرا یہ کہ وہ کسی قابل انسان کے نام کو خراب کریں اور خود کو صفر سے ضرب دیتے رہیں۔
پروفیشنل لائف میں اک��ریت لوگ دوسرا رستہ اختیار کرتے ہیں اور پھر انکا حاصل وصول بھی صفر ہی رہتا ہے۔
وہ کیفیات جو اشتعال کا مادہ پیدا کرنے کا سبب بنیں انکو قید کردینا چاہیے !
سچ تو یہ ہے کہ زندگی کی اکویشن میں لازمی جز بس یہ ہے کہ سانس چلتی رہے باقی سب کا سب غیر ضروری ہے جس دن انسان زندگی کا اصل معنی سمجھ جائے گا وہ اشتعال کا متضاد بن جائے گا !
فریب ایک دلہن کی مانند خود کی طرف راغب کرنے کے ہنر سے واقف ہے یاد رکھنا زندگی کی کوئی دلہن نہیں ہوتی ہے زندگی ایک جنگجو ہے جو تلوار ہاتھ میں پکڑے حالت ِ جنگ میں ہے !
عباس
صبح دم:
ص��ح ہر چیز کو بھلا دیتی ہے
اسے نیند کھا چکی ہے جو ہمارے ذہن میں تھا
اسے کھا کر رات پل چکی ہے
دن رات صبح شام
اور پھر سالوں کے سال
ایک رات اپنی عمر گزار چکی ہے
یہ سب ایک رات میں ہوا
وقت کا مکمل چکر
سورج کے گرد زمین کا سفر
خماری چاند
اور نیند میں لت پت کائنات
خود رات جیسا تاریک بلیک ہول
ایک رات میں ہی زندگی کا چکر پورا ہوا
اس وقت کسی کو بھی بھلایا جا سکتا ہے
بلکہ بھول چکا ہے
بس دوبارہ اب اس کی طرف مت لوٹو
ساری صبح
دن
اور شام
ایک نئی کہانی لکھو
اور رات . . رات وقت کی علیحدہ کہانی ہے
دکھ تو تب ہوتا ہے جب ایک ساتھی کسی رشتے کو عمر بھر کا ساتھ سمجھ کر نبھاتا ہے،اور دوسرا اسے محض وقت گزاری کا ذریعہ سمجھتا ہے، ایک کے لیے وہ رشتہ زندگی کا قیمتی اثاثہ ہوتا ہے،تو دوسرے کے لیے ایک ایسا انتخاب جسے جب چاہے بدل دیا جائے،
شاید ہر انسان رشتوں کو اپنی ہی نظر سے دیکھتا ہے۔
زندگی میں ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق رکھنے کی خواہش انسان کو اندر سے بے سکون کر دیتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری توقعات کے مطابق سوچیں، حالات ہمارے حق میں بدلیں، اور جن چیزوں سے ہمیں محبت ہے وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہماری خواہش کسی دوسرے انسان کی فطرت اور نہ ہی وقت کی رفتار بدل سکتی ہے۔
شاید سمجھ داری یہ نہیں کہ انسان ہر چیز پر اپنا اختیار قائم کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ پہچان لے کہ کہاں کوشش ضروری ہے اور کہاں قبول کر لینا بہتر ہے۔ کچھ چیزیں بدلنے کے لیے قدم اٹھانا پڑتا ہے، اور کچھ کو چھوڑنے کے لیے اپنے دل کو سمجھانا پڑتا ہے۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں کہ جن کو اللہ اپنا نام لینے کی توفیق عطا کرتا ہے، جن کو وہ اپنے قریب رکھتا ہے، جن کو وہ لوگوں میں اپنے نیک اور پیارے بندوں کے طور پر معروف رکھتا ہے،
اللہ کی نظر کرم کا لطف پانے والے قابل رشک اور قابل دید ہوتے ہیں!