لہو کے ناچتے دھارے کے سامنے اب تک
دل و دماغ کی بے چارگی نہیں جاتی
جنوں کی راہ میں سب کچھ گنوا دیا لیکن
مرے شعور کی آوارگی نہیں جاتی
نہ جانے کس لئے اس انتہائے حدت پر
مرا دماغ سلگتا ہے جل نہیں جاتا
نہ جانے کیوں ہر اک امید لوٹ جانے پر
مرے خیال کا لاوا پگھل نہیں جاتا~
میں مسافر ہوں بیابان فراموشی کا
اپنے نقش کف پا سے بھی شناسائی نہیں
تا بہ پہنائے نظر ریت کے ٹیلوں کا سکوت
اپنا سایہ بھی یہاں مونس تنہائی نہیں
تیر بن کر کوئی سناٹے کے دل میں اترے
کسی مایوس پرندے کی صدائے تنہا
زخمی آہوئے رمیدہ کی ادائے تنہا
کاش پل بھر کو اتر آتا خدائے تنہا~
روز دل میں حسرتوں کو جلتا بجھتا دیکھ کر
تھک چکا ہوں زندگی کا یہ رویہ دیکھ کر
کچھ طلب میں بھی اضافہ کرتی ہیں محرومیاں
پیاس کا احساس بڑھ جاتا ہے صحرا دیکھ کر