انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
پی ٹی آئی کا مکمل سرنڈر!
دہشتگردی کے خلاف ریاست کی پالیسی چلے گی، پی ٹی آئی کی پالیسی نہیں،پی ٹی آئی نے حکومت کے تمام مطالبات مان لیے ہیں،ضم شدہ اضلاع میں خصوصی انتظامات بھی کیے جائیں گے،صوبے میں جاری فوجی آپریشنز کی مکمل حمایت اور سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
مستقبل میں احتجاجی سیاست سے دوری اختیار کرکے صوبے میں گورننس پر توجہ دی جائے گی اور عوام کی فلاح کے لئے کام کیا جائے گا۔
البتہ مذاکرات میں سزا یافتہ مجرم سے ملاقات کے معاملے کو قانون کے مطابق ہی دیکھا جائے گا۔
اگر تین سال قبل یہی کام پی ٹی آئی کرلیتی تو وقت ضائع نہ ہوتا،البتہ مستقبل میں اگر وعدہ خلافی کی گئی تو پھر ضروری اقدامات ناگزیر ہوں گے
مارچ کا موخر ہونا حکومت کے لیے یہ زیادہ مشکلات پیداکرتا ہے۔ پی ٹی آئی نے مارچ مؤخر کر کے درست فیصلہ کیا۔ اب ساری توجہ پی ٹی آئی پر رہے گی اور حکومت کواپنےفیصلے کی قیمت ادا کرنی ہوگی، ارشاد بھٹی
@IrshadBhatti336
Sir @SHABAZGIL ,
مستقبل کے وزیراعظم پاکستان جناب اقرار صاحب اپنے مصروف ترین زندگی میں سے خاص آپ کے لیے وقت نکال کر مکالمہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اعزاز قسمت والوں کو ملتا ہے شاید آپ کو اندازہ نہیں تب ہی آپ اگنور کر رہے ہیں۔
جٹاں دا مُنڈا نَس گیا جے۔
24 گھنٹے سے زائد ہو گئے ہیں کہ شہباز باجوہ گِل صاحب سے کیمرے پر آمنے سامنے بیٹھنے کی جو درخواست کی تھی اُس پر اب تک اُن کا کوئی جواب نہیں آیا۔ یعنی اپنے وی لاگز میں میری فیملی کے بارے میں بیہودہ اور گندی بکواس بھی کرنی ہے، اپنے ٹوئیٹس میں مجھ پر جھوٹے الزام بھی لگانے ہیں لیکن جب کوئی یہ کہے کہ میں امریکہ آ جاتا ہوں، آپ کیمرے پر آمنے سامنے بیٹھ کر ایک مکالمہ کر لیں تو پھر دُم دبا کر بھاگ جانا ہے۔
اچھا بھلا پڑھا لکھا انسان ہے، اللہ نے بولنے کی بھی خوب صلاحیت دی ہے۔۔۔ کاش یہ ملک اور اپنی پارٹی کے لیے ان صلاحیتوں کو بہتر استعمال کرتے۔ موصوف کے لئے ہدائیت کی دُعا ہے اور مکالمے کا چیلنج اب بھی برقرار ہے۔ @SHABAZGIL
پشتونولی کوڈ کوئی مقدس عجائب گھر نہیں۔ اس کے کچھ حصے ایک پرانی پہاڑی ضابطہ ہیں جو عورت کو اب بھی ناموس کی جائیداد سمجھتے ہیں۔
اب بھی بہت سے علاقوں میں ناموس اور پردہ کے نام پر لڑکیوں کو سماجی زندگی سے باہر رکھتے ہیں۔ اپنی مرضی کی شادی موت بن سکتی ہے۔
"بدل" کزن دشمنی کو فخر اور نسل در نسل قتل بنا دیتا ہے۔ یہ مہمان نوازی نہیں۔ یہ بے ریاست دور کی قبائلیت ہے۔ جدید ریاست جرگہ منطق اور انتقام پر نہیں چل سکتی۔
اسے رومانوی نہ بنائیں۔ پشتون علاقوں میں آنر کلنگز “شاذ و نادر” نہیں۔ یہ اسی ضابطے کا بار بار پیدا ہونے والا نتیجہ ہیں۔
فواد چوہدری اس بنیادی بات پر درست ہیں: لڑکیوں کی تعلیم اصل اصلاح ہے، اور قبائلی جہالت کو “پختون روایت” کہنا باچا خان اور غنی خان کی توہین ہے۔
پشتون کمیونٹی میں
پیشرفت موجود ہے اور اس کا اعتراف ضروری ہے۔ ملالہ پشتون ہے۔ یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور اسمبلیوں میں بھی پشتون خواتین ہیں۔ شہری خاندان اور تعلیمی روایت پہلے ہی اس ضابطے کے بدترین حصے سے نکل چکے ہیں۔
سرحدی علاقوں کو اسی پاکستانی عمل کی مزید ضرورت ہے — قانون، اسکول اور برابر شہریت، نہ کہ اس نظام کی یاد جس میں لڑکی پیدا ہونا بے وقوفی بن جائے۔
میلمستیا رکھو۔ بیٹیوں اور کزنوں کو عزت کے نام پر مارنے والے حصے چھوڑ دو۔ "بدل" کو ہمیشہ کے لیے دفن کرو۔
خود احتسابی پشتون دشمنی نہیں۔ انکار ہے۔
🚨🇵🇰 Videos just dropped of police raiding the homes of Tehreek-e-Insaf leaders (Khan party) in Sialkot.
What is this madness?
WTF is happening in Pakistan and why is nobody saying anything?
Writer: Samuel