جس سندھ پبلک سروس کمیشن کے نتائج پر پورے سندھ بھر سے نوجوان سراپا احتجاج ہیں، جن پر آج سندھ حکومت بے دہشت گردی کے مقدمات درج کروا دئیے ہیں،
اس SPSC میں پہلے نمبر پر سب سے زیادہ کوٹہ بلاول ہاؤس کا ہے،پھر CM House مراد علی شاہ کا،اور پھر فریال تالپر کا، اوراسکے بعد سندھ کے منسٹروں کا ہے۔
اس کوٹہ کے ذریعے ایجنڈوں کے دیئے گئے رول نمبروں کو پاس کروانے میں سرفہرست خود SPSC چیئرمین محمد وسیم، سابق سیکریٹری حفیظ لغاری، اسسٹنٹ کنٹرولر زین عالم کھوڑو، کلپنا دیوی، مالک غوری، اور “فریال تالپر “ کے سیکرٹری “مجاہد انر “ سمیت بے شمار نام شامل ہیں۔
2014 میں جسٹس آغا رفیق، جنہوں نے SPSC کے چئرمین بننے کے 8 مہینے بعد ہی SPSC کی کرپشن سے پریشان ہوکر استعفی دے دیا تھا، کہتے ہیں کہ سندھ کے CM مراد علی شاہ SPSC کے سارے appointments کرتے ہیں لہذا وہ اس معاملے سے نا ہی بے خبر ہیں اور نہ ہئ اسے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔
نوٹ: FIA کی جس رپورٹ کا اس ویڈیو میں ڈکر ہے اسے سندھ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے چند مہینے پہلے ہونے والی investigation کے دوران بننے والے چالان سے غائب کر دیا تھا۔ یعنی کورٹ میں جمع ہی نہین کرایا تھا۔
اور اس معاملے سے بھی وزیر اعلی سندھ سمیت سب باخبر ہیں۔
#CPSCResults2026
Golden opportunity for Pakistan to eliminate terrorism from core and provide little peace to Afghans and Pakistanis.
-Long live Pakistan
#PakAfghanBorder#PakAfghanConflict
@BBhuttoZardari First you visit Sindh’s districts from Karachi to Jacobabad and know their conditions from infrastructure to basic facilities, and then talk about the struggle of so-called Bhutto’s “Jamhoriayat”.
@sherryrehman Everything correct Ma’am you said in the above, but what have you & ur party done for the people of Sindh? Corruption, incompetence, mismanagement and lack of transparency!.
@BrAqeelMalik Shame all of you on this hypocrisy. Once you all decided and legitimized this act & later on PM’s twitt you’re saying “ as a matter of principle”. Where was the matter of principle once your colleagues gave this idea?