Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
عمران خان کی حکومت تھی۔ ملک میں چینی کی پیداوار زیادہ ہوگئی۔ مل مالکان نے ایکسپورٹ کرکے پنجاب حکومت سے سبسڈی لے لی۔ بات نکلی ۔ بیشتر مل مالکان تحریک انصاف میں تھے۔ ملک کی ایک چوتھائی چینی جہانگیر ترین کی ملز پیدا کرتی ہیں۔ عمران خان نے تحقیقات شروع کروا دیں۔ جہانگیر ترین اور عمران خان کے معاملات بگڑ گئے۔ ( کچھ لوگوں نے زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترین کی بیٹیوں پر بلاوجہ مقدمات درج کروا دیے )۔ موقع آنے پر جہانگیر ترین نے فوج کی مدد سے فارورڈ بلاک بنا کر عمران خان کو کاری ضرب پہنچائی۔ عمران خان کی حکومت جاتی رہی۔
چوروں اور لٹیروں کی فوجی کٹھ پتلیوں کی حکومت ہے۔ چینی ایکسپورٹ ہوئی۔ اس پر مل مالکان نے سبسڈی لی۔ اب چینی امپورٹ ہوگی۔ کک بیکس کھائے جائیں گے۔ نا تحقیقات ہوں گی نا کوئی شور مچائے گا۔
عمران خان کی حکومت تھی ، شاہزیب خانزادہ نے اوپر تلے دو درجن پروگرام کردیے کہ عمران خان نے ایل این جی کے ایڈوانس معاہدے کیوں نہ کیے۔ ( ڈالر نہیں تھے اس لیے نہیں کیے )۔ گندم سکینڈل آیا ، چینی سکینڈل آیا ، جعلی حکومتیں بنیں ، عاصم منیر کی بیٹیوں کے ناجائز پاسپورٹس سامنے آئے شاہزیب خانزادہ کو کبھی بولنے کی جرات نہ ہوئی۔
ایماندار اور بے ایمان کا فرق ہے۔
کہا تھا
"یقین سے کہتا ہوں کہ اگر عمران خان کو پتا چل گیا کہ اسے ان شرائط پر ہسپتال بھیجا جا رہا ہے، تو وہ خود اٹھ کر واپس جیل چلا جائے گا۔"
عمران خان نے میرا یقین نہیں توڑا۔ عوام اپنے ساتھ دیکھ کر مزید پُر عزم ہوگیا ہے۔
جہاں کاشف عباسی کو جعلی الیکشن پر چند لفظ بولنے پر چینل سے ہٹوا دیا گیا وہاں آپ کو لگتا ہے کہ شرلیاں ، پٹاکے اور کندھی گولے آزاد صحافت کررہے ہیں ؟ نہیں۔ انکی دلی ہمدردیاں جس بھی طرف ہوں یہ انکی لائن سے سوتر ادھر یا سوتر ادھر نہیں جاسکتے۔ یہ ٹھنڈی ہوائیں ، یہ تبدیلی ، یہ کھیل ختم ہوا وغیرہ سب بکواس ہے۔ یہ جو بھی ہورہا ہے سموک سکرین ہے۔ اسکے پیچھے وقت گزاری ہے ، یا عدلیہ کی ساکھ بہتر بنانا ہے ، یا عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنا ہے ، یا عمران خان کو جیل سے باہر کوئی نقصان پہچانا ہے یا اپنے لیے نفرت کو کم کرنا ہے ، جو بھی وجہ ہے اس میں فوج کا سارا سسٹم استعمال ہورہا ہے۔ اب یہ آپ کی مرضی آپ نے اس سسٹم سے متاثر ہونا ہے یا نہیں۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک ہی ایسا سزا یافتہ قیدی تھا (نواز شریف) جو جیل میں ہونے کے باوجود “علاج” کے لئے لندن بھیجا گیا تھا جہاں وہ چار سال تک رہا، موصوف اس کے وکیل تھے اور ایسے لوگوں کو دوسرے قیدیوں کے حقوق بارے بات کرتے ہوئے زرا سی بھی شرم نہیں آتی، گھٹیا لوگ۔
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
ہوگیا ؟ عمران خان کی صحت کا مسئلہ حل ہوگیا ؟ شدید احتجاج ہوگیا ؟ سب کا ہوگیا ؟ کچھ کو مشال کے پیچھے لگایا ، کچھ کی توجہ محمد حسین پر ہوئی ، کچھ کو اکبر ایس بابر کے پیچھے لگایا ، باقی جذبات وقت نے ٹھنڈے کردیے۔ ہوتا ہے ہوتا ہے۔ ایسے ہی ہوتا ہے۔
پہلا ردعمل شدید ، اگلا اس سے کم ، اس سے اگلا اس سے کم۔ اسی پیٹرن کی نشاندہی کی تھی۔
آپ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ موٹر سائیکل پر گلشن پارک جارہے ہوں اور رستے میں کوئی آواز لگائے کہ باجی دوپٹہ اوپر کرلیں یا بھائی اسٹینڈ اوپر کرلیں تو اسکو یہ نہیں کہتے کہ آؤ آکر تم دوپٹہ ٹھیک کردو یا آؤ تم آکر موٹر سائیکل چلا لو۔
لیکن یہاں کچھ ایسے عقل مند ضرور پائے جاتے ہیں جنہیں کہیں کہ تحریک انصاف جمود کا شکار ہے ، انکے اپنے بقول انہیں اسمبلیوں میں محسن نقوی ، فارم سینتالیس ، فوجی آپریشن اور ڈرون حملوں کی اجازت نہیں ، انہیں کچھ نا کچھ کرنا چاہیے تو فورا شروع ہوجاتے ہیں آؤ تم لیڈ کرلو۔
نہیں بھائی آپ کا موٹر سائیکل آپ کو ہی چلانا ہے۔ گلشن پارک آپ نے ہی جانا ہے۔ آپ ہی کی کمر کے گرد نازک سا ہاتھ لپیٹا جائے گا۔ آپ ہی کون آئسکریم کھائیں گے۔ آپ ہی جھاڑیوں والے بینچ کے پاس بیٹھ کر سیکیورٹی گارڈ سے چھپ چھپا کر گرل فرینڈ کیساتھ چپک کر بیٹھیں گے ۔ لیکن بھائی بس سٹینڈ اوپر کرلیں یا دوپٹہ ٹھیک کرلیں ۔
جمود کسی بھی تحریک کی موت ہے۔ عمران خان نے دھرنوں کے دوران استعفے دے دیے۔ عمران خان نے رجیم چینج کے وقت قومی اسمبلی سے استعفے دے دیے۔ عمران خان نے قبل از وقت اسمبلیاں ختم کردیں۔ ابھی جیل سے بھی عمران خان نے قائمہ کمیٹیوں سے علیحدگی کا کہا ، اگلا مرحلہ یقیننا اسمبلیوں سے علیحدگی کا ہوتا۔ اب یہاں کہیں گے عمران خان کو کیا مل گیا ؟ عمران خان کو مقبولیت ، ریلوینسی ملی اور سسٹم کو دھچکے لگے۔
تحریک انصاف اب جمود کا شکار ہے۔ نا تو ریلیاں ہورہی ہیں نا ہی جلسے۔ نا اسمبلی میں کوئی موثر آواز اٹھائی جارہی ہے اور نا ہی عدالتوں سے کچھ مل رہا ہے۔ اگر دس دس اراکین کرکے بھی ہر مہینے اسمبلیوں سے استعفے دیں ، کچھ ریلیاں وغیرہ نکالتے رہیں ، کوئی نیا بل لے آئیں ، ہفتہ وار یا مہینے میں ایک بار اٹک پل کو بند کرنے کی مشق کریں ، سہیل آفریدی ہر ہفتے اڈیالہ ہی آجایا کرے ، کچھ نا کچھ ایکٹویٹی ، کچھ نا کچھ حرکت جاری رہنی چاہیے جو بالکل صفر ہوچکی ہے۔
دوپٹہ ٹھیک کرلیں ، سٹینڈ اوپر کرلیں۔
علیمہ خانم خاموش نہیں خاموشی سے دیکھ رہی ہیں کہ کیسے عمران خان کی قید تنہائی ، سختیوں اور ہسپتال نہ لیجانے کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانے کی ہوا بنائی جارہی ہے۔
علیمہ خانم کا قصور تحریری ضمانت نہ دینا نہیں ہے۔ علیمہ خانم کا قصور عمران خان کا پیغام من و عن پہچانا ، سہیل آفریدی کا ریلیوں کا بند کیا گیا سلسلہ شروع کرنا اور سخت سے سخت حالات میں اڈیالہ جانا ہے۔
شورشرابے ، چیک چاڑے اور کھینچا تانی کے اس موسم میں ہرگز مت بھولیں کہ عمران خان کو قید پاک فوج نے کیا۔ ملاقاتوں پر پابندی پاک فوج نے لگائی۔ علاج معالجے میں رکاوٹ پاک فوج ہے۔
یار عمران قسم سے دل ہمارا بھی اداس ہے ، تکلیف میں تم بھی بہت ہو لیکن روز سسک سسک کر یہ حرامزادے مرتے ہیں کہ تم جھکنے سے انکاری ہو ، تم کمزور پڑنے سے انکاری ہو۔ تمہاری تکلیف ہماری تکلیف ہے تو تمہاری استقامت بھی تو ہمارا حوصلہ ہے۔ مر جائیں گے یزید کی بیعت نہیں کریں گے۔ کمزور ہیں ، موقع بنا نہیں پارہے ، موقع مل گیا تو سود سمیت حساب برابر کریں گے۔
We urge Pakistani authorities to unconditionally restore Imran Khan and Bushra Bibi Khan’s right to see their family and lawyers.
Both must be given access to adequate medial care and their solitary confinement, which is unlawful, should end immediately.
https://t.co/EFc0exoZVe