Exclusively on Binance Wallet: the Catapult Trade campaign is now live
🎁 Join to earn your share of a 1,666,667 PULT token reward pool
📜 Campaign Period: June 24th 15:00 UTC – July 1st 23:59 UTC
Details in comment!
1,666,667 $PULT up for grabs
Catapult Trade x @BinanceWallet are running a 7-day social airdrop campaign open to Binance Wallet users. 10,000 participants will be selected to share the full reward pool, with each winner receiving an equal cut.
To qualify, you need to complete social campaign tasks.
Selection is based on Binance Chain Hash Value, so the process is transparent and on-chain.
$PULT tokens will be distributed to winners by Binance shortly after token launch.
Campaign window: June 24th 2026 - July 1st 2026
Full details on participation: https://t.co/m92wgWg4lm
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
1971 میں فوج نے پہلی مرتبہ اپنے ہی شہریوں پر مشرقی پاکستان میں گولی چلائی، پھر اس کے منہ کو خون لگ گیا۔
12 مئی 2007 کو مشرف نے کراچی میں ساٹھ لوگ مروا کر جلسے میں مکے لہرائے اور کہا: دیکھی میری طاقت؟
دو ماہ بعد اسی سال لال مسجد پر چڑھائی کی گئی اور ہر قسم کا اسلحہ استعمال کرکے ایک مرتبہ پھر اپنی طاقت دکھائی۔
اس سے چند سال قبل اکبر بگٹی کو باقاعدہ دھمکی دے کر مار ڈالا گیا۔
2019 میں خڑکمر چیک پوسٹ کے نزدیک مظاہرین پر سیدھے فائر کھولے گئے اور چودہ لوگ مار ڈالے۔
اسی سال ساہیوال سانحے میں عاصم منیر کی ایجنسی نے ایک فیملی کو موٹروے پر فائر کرکے مار ڈالا۔
9 مئی 2023 کو درجن سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کو فائرنگ سے قتل کرڈالا۔
26 نومبر 2024 کو ڈی چوک میں سیدھے فائر کھولے گئے اور درجنوں نہتے شہریوں کو مار ڈالا۔
آج وادی تیراہ میں ایک مرتبہ پھر خون کی ہولی کھیلی گئی اور فوج نے سیدھے فائر کرکے اپنے شہریوں کو مار ڈالا۔
اس کے علاوہ ڈرون حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کا کوئی شمار نہیں۔
جب بھیڑیئے کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو پھر اس سے جان بچانے کا ایک ہی حل ہوتا ہے، یا تو بھیڑیئے کی دسترس سے دور بھاگ جائیں، یا بھیڑیئے کو مار بھگائیں۔
اوپر بیان کردہ واقعات میں بنگالیوں نے یہ دونوں طریقے استعمال کئے۔ پہلے بھیڑیوں کی پتلونیں اتار کر ان کی ٹھکائی کی، پھر علیحدہ ملک حاصل کرکے ان بھیڑیوں کی نسلوں سے خود کو محفوظ کرلیا۔
ہمارے پاس بھی ان دو کے علاوہ تیسری کوئی آپشن نہیں!!!