ہماری محترم المقام عدالتیں ۔۔ جو ضمانت نہیں دے رہیں وہ اس پر کیا سوچ رہی ہوں گی کہ ضمانت کا رستہ یہ ہے
ویسے جتنی بے توقیر عدلیہ ہوئی ہے یہ بھی اپنی طور پر ریکارڈ ہے
دو خاندانی بادشاہتیں
اور اٹھائیسویں آئینی ترمیم
دو خاندانی بادشاہتیں
اور نئے صوبے۔۔۔
کھیل سیمی فائنل مرحلے میں !
عین ممکن کسی مرحلے پر کرکٹ ٹیم کی طرح کچھ پرانے کھلاڑی باہر اور کچھ نئے کھلاڑی ٹیم میں شامل ہو جائیں،عین ممکن محمد رضوان کی طرح کچھ کھلاڑیوں کو ہر فارمیٹ سے ڈراپ کرنے کا سوچا جائے اور عین ممکن امام الحق کی طرح “فیک انجری”الزامات والے مشکلات میں گھر جائیں۔۔
Politics hasn't changed in over 100 years for the land that is now Pakistan.
Decisions were made in London then; decisions are made in London now.
We only got a piece of land. Independence is yet to come.
اب تو کوئی اُمید باقی نہیں رہی کیونکہ ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک کے احکامات تو یہ مانتے نہیں ہیں، اب تو 27 ستمبر کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہےـ
تو بس #فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
کرکٹ ہسٹری میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے دوران ہیڈ کوچ،باؤلنگ کوچ اور 7 کھلاڑیوں کو گھر بھجوا کر نئے کوچز لگا دہیے گئے ہوں اور 7 نئے کھلاڑی منگوا لئیے گئے ہوں،یہ محسن نقوی اینڈ کمپنی کر چکی ہے،کرکٹ ہسٹری میں یہ بھی پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ایک کھلاڑی(سلمان علی آغا) پہلے ٹیسٹ میں کپتان،دوسرے ٹیسٹ میں ڈراپ اور تیسرے ٹیسٹ سے پہلے گھر بھجوا دیا گیا ہو،یہ بھی محسن نقوی اینڈ کمپنی کر چکی ہے،ویسے تو یہاں حکومتی عہدے،حکومتی ایوارڈز ایسے ایسے کارٹونوں کو مل چکے کہ ملک تماشا بن چکا مگر دنیائے کھیل میں محسن نقوی اینڈ کمپنی جو تماشے کر رہی وہ ناقابلِ بیان اور ناقابلِ یقین،اب یہاں سوال یہ کہ ان کھلاڑیوں اور کوچز کو کس نے منتخب کیا اور کون ان سب کو گھر بلوا کر نئے کوچز اور نئے کھلاڑی منگوا رہا اور سوال یہ بھی کہ محسن نقوی اینڈ کمپنی ان تماشوں پر کسی کو جوابدہ ہے اور کوئی ہے جو ملک کو تماشا بنا دینے پر محسن نقوی اینڈ کمپنی کو accountable کر سکے ؟
شرمناک۔۔شرمناک۔۔شرمناک۔۔
کھلے عام عدالتوں کے احکامات کو قبول نہ کرنا، انہیں ہوا میں اڑا دینا، ظاہر کرتا ہے کہ اڈیالہ جیل کس کے کنٹرول میں ہے!
ملک میں آئین اور قانون، مذاق بن چکے ہیں۔ اداروں کی اس طرح کھلی عام توہین اور بے توقیری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
Despite clear and categorical orders of the Islamabad High Court, the government continues its blatant contempt of court, arbitrariness and oppression. Imran Khan’s sisters have denied access to him today, while even Bushra Bibi’s family has been prevented from meeting her.
When court orders can simply be ignored with impunity, it appears that contempt of court has become the new norm. This is not the rule of law, it is the rule of force.
عمران خان کو قید تنہائی میں رکھے جانے کے تمام شواہد سامنے تھے فیملی ،وکلاء ، رفقاء اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات نہیں کرائی جارہی تھی، اس کے بعد پروفیشنل وکلاء کو بھی ملنے سے روک دیا گیا۔
قید تنہائی کی سزا اگر کبھی دی بھی جاتی تو ایسے مجرم کو دی جاتی جو تنگ کررہا ہو اور اس کو بھی زیادہ سے زیادہ چھ سات دن کے لیے لیکن عمران خان نو ماہ سے قید تنہائی میں تھے۔
ہم نے پٹیشن دائر کی تو پہلے مسئلہ آیا کہ عمران کی بہن اور بشری بی بی کی بیٹی کیسے فائل کر سکتی تب ہمارے سامنے بیگم نصرت بھٹو نے ذولفقار بھٹو اور بیگم شمیم کی جانب سے دائر درخواستیں عدالت کے سامنے رکھیں جس میں درخواستیں سنی گئیں۔
عدالت نے اڈیالہ جیل سے تمام ریکارڈ طلب کیا جو وہ پیش نہیں کر سکے قید تنہائی سے مکر گئے، عدالت نے تسلیم کیا کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا جارہا ہے، آج کے فیصلے میں ہم امید کرتے ہیں اڈیالہ انتظامیہ کو اس خلاف ورزی پر سزا سنائی گئی ہو۔
بیرسٹر سلمان صفدر
شہباز حکومت کا سپریم کورٹ کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم بھی ہوا میں اڑا دیا، اسلام آبادہائیکورٹ کے حکم کے باوجود بہنوں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج اپنے فیصلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھنے اور فیملی سے ملاقاتیں کرانے کا حکم دیا تھا
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan #ImranKhan
اب تو بات بلکل واضح ہو چکی ہے، اب عدالتوں کے فیصلوں کو بھی نہیں مانا جائے گا، تو پھر ہمارے پاس آپشن کونسا رہ جاتا ہے؟
ظاہر ہے پھر #فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
یہ دنیا میں بتاتے ہیں کہ ہمارا عمران خان کے کیسز سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کیسز عدالتوں میں ہیں، آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ عدالت عمران خان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے اور یہ اس پر عملدرآمد ہی نہیں کرتے،
علیمہ خان
الحمداللہ۔
عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کی قید تنہائی کا فیصلہ جاری۔
عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کو اپنے بچوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اگر ان کالز کو سیاسی مقاصد یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت معطل کی جا سکتی ہے۔
عمران خان صاحب کو فیملی اور اپنی اہلیہ سے ملاقات جیل قوانین اور فیملی میٹنگ کے قواعد کے مطابق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہیں روزانہ ایک گھنٹے ایسی واک کی اجازت ہوگی، جس کے دوران باقاعدہ انسانی میل جول کا انتظام کیا جائے گا اور جن افراد سے ملاقات یا میل جول ہوگا، ان کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔
عدالت نے عمران خان کو تاریخ کی کتابوں سمیت تمام قابلِ اجازت مطالعے کا مواد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، البتہ ممنوعہ کتب اس میں شامل نہیں ہوں گی۔
یہی سہولیات بشریٰ عمران خان کو بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انہیں اپنے خاندان سے ملاقات کی سہولت بھی قانون کے مطابق حاصل ہوگی۔
عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں موجود تمام افراد کو آئین، قانون اور جیل قوانین کے تحت حاصل حقوق و سہولیات فراہم کی جائیں۔
عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے جیل حکام کو 15 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیصلے کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اگر جیل حکام عمران خان کو قانون، آئین یا عدالتی حکم کے تحت حاصل کسی سہولت یا ریلیف سے محروم کرتے ہیں تو انہیں اس محرومی کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔
خالد یوسف چوہدری
لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
The Islamabad High Court directs Adiala jail authorities not to keep Pakistan former PM Imran Khan & his wife Bushra Bibi in solitary confinement, restore their meetings with family members & facilitate telephone conversations between Imran & his sons. Big Q is will Munir abide?
Pakistan's existential challenge right now is that everyone is busy doing everyone else's job except their own job.
That means the country is operating without any leadership authority which requires ownership and accountability.
Interior Minister is the Foreign Minister
Foreign Minister is the Finance Minister
Finance Minister is barely a Minister
Meanwhile the Army Chief is the Prime Minister
And Prime Minister is...well a Puppet Minister.
Since none of them are doing their actual jobs, none of them can be held accountable for the other jobs they are doing.
اس مرتبہ اگر گولی نہیں چلے گی، لیکن اگر کسی نے گولی چلانے کی کوشش کی پھر تو سوراخوں سے کاکروچ نکلیں گے، پھر جنتر منتر شروع ہوگا اور پھر استعفے پر بات ختم نہیں ہوگی! بیرسٹر گوہر کا دبنگ اعلان
#عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
Pakistanis are eating less and they are eating worse because they can no longer afford as much food. Data from the Pakistan Bureau of Statistics (PBS) shows that over the past six years people across the urban and rural divide are consuming less food across all categories.
That means families are cutting back on the size of their rotis, the number of times meat is cooked in a month, how much milk is being given to their children, and even how many cups of tea they are drinking in a day.
The social indicators are staggering. The percentage of households categorised as “moderate to severely food insecure” in Pakistan has gone from 15.92 percent in 2019 to 24.35 percent in 2025. Severe food insecurity has also gone from 2.37% of households to 5.04% of households in the past six years. That means more than a quarter of Pakistani households face some form of hunger and malnutrition.
None of this is because we don’t have enough food. Pakistan grows its own wheat and rice. We are some of the largest producers of poultry, eggs, and milk and we even have a modest but growing meat export sector. The problem is affordability.
https://t.co/LOUyMfZlDg
Those who can send an elected Prime Minister and the entire government packing can certainly do the same in cricket.
Rules don't apply to them. Neither does common sense.
دونوں فوج میں کپتان تھے۔ ایک آرمی چیف کا بھتیجا اور داماد تھا۔ فوج سے نکال کر سول سروس میں لے آئے۔ یہاں بھی ایڈمنسٹریٹو سروسز میں انڈکشن ہوئی۔ داماد بھتیجا آج بھی زندہ ہے۔