تربت میں اسلام آباد کے خلاف احتجاج
فوجی اور ن لیگی یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا تنخواہ دار کل سے بلوچ مظاہرین پر تشدد کا دفاع کررہے ہیں اور اب وہ بلوچستان کا ایک نیا روپ دیکھیں
#MarchAgainstBalochGenocide https://t.co/hmhWOH4vW1
دھرنے سے ، کیمپ سے ہسپتالوں سے پولیس ہر جگہہ سے گرفتاریاں کر رہی ہے، بلوچستان سے لیکر اسلامآباد تل ریاست بلوچوں کے لیے صرف تشدد کا استعمال کرتا آرہا ہے، یہ گرفتاریاں ہمارے لیے واضع پیغام ہے کہ ریاست نسل کشی جاری رکھے گی۔
#MarchAgainstBalochGenocide
"These are the people you have oppressed for decades. Why are you afraid of them? Come and face them. We are here to tell the stories of #Balochistan, where your military has long been killing innocent people. We are here to tell the stories of Pakistan's wrong doings"
State authorities @ICT_Police may try to suppress the voice of the Baloch people, but they cannot extinguish their spirit. The struggle for justice and an end to Baloch Genocide will persist, undeterred.
#MarchAgainstBalochGenocide@AWGoraya
براہ انسانی حقوق تنظیمیں
بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کے حوالے سے بلوچ دو دہائیوں سے سراپا احتجاج ہیں اور ہر جگہ اپنی فریاد پہنچا چکے ہیں لیکن بارہا بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریاست بلوچستان کو کالونی سمجھتی ہے اور اسی طرح بلوچستان کو ٹریٹ کر رہی ہے۔ بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ ہونے کی وجہ سے ان تمام واقعات کے حوالے سے دنیا میں کوئی رپورٹنگ نہیں ہوتی لیکن آج پرامن لانگ مارچ شرکا کے ساتھ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اسلام آباد میں جس طرح پرامن لانگ مارچ کرنے والوں کو ٹریٹ کیا جا رہا ہے تو آپ سمجھ سکتی ہیں کہ بلوچستان میں عام لوگوں کے ساتھ جہاں میڈیا نہیں وہاں کیا کر سکتا ہے۔ آئے دن جبری گمشدگیاں، قتل و غارت گری، ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے قتل عام سمیت ہر طرح کی بربریت جاری ہے۔ انہی کہانیوں کو لیکر بلوچ مائیں اور بہنیں پرامن طور پر اسلام آباد میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے جن کے سامنے ریاست نے تمام فوج لگا دی ہے۔ بلوچستان کے حالات سے شاید آُپ سب بےخبر ہونگے لیکن آج اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی نہیں بلکہ ریاست کے اس رویے کا اظہار ہے جو بلوچوں کے ساتھ گزشتہ ستر سالوں سے جاری ہے۔
تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرامن لانگ مارچ کے خلاف ممکنہ ریاستی کریک ڈاون کے خلاف آواز اٹھائیں اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو احتجاج کرنے کا حق دیں۔
#MarchAgainstBalochGenocid
جس پریس کلب سے اغواشدہ افراد کو برآمد کیا جاتا ہے اور ان سے ریس کانفرنسز کروا کر زبردستی ہر چینل پر چلوائی جاتی ہیں،
وہاں بلوچستان کے مسنگ پرسنز کے لواحقین کے لیے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں
ملک میں جاری ظلم و ستم اور لاقانونیت کا دور ختم ہونا چاہیے
ان ماؤں کے بچے ریاست نے غیر قانونی حراست میں بند کر لیے ہیں، ان کے بچوں کی مسخ شدہ لاشیں ریاست پھینک دیتی ہے، فیک انکاؤٹر میں ان کو شہید کیا جاتا ہے اور پھر ریاست یہ امید رکھتی ہے کہ یہ مائیں گھروں میں رہیں اور کسی بھی طرح احتجاج بھی نہ کریں جو ریاست کی بھول ہے۔
بلوچ مائیں اپنے بچوں کو ایسے مرنے نہیں دینگے، بلوچ مائیں اپنے بچوں کو آپ کے غیرقانونی اور غیر انسانی جیلوں میں سڑنے نہیں دینگے، بلوچ مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں کو فیک انکاونٹر میں قتل ہونے نہیں دینگے، یہ مائیں سر پر کفن باندھ کر نکلی ہیں کہ یا وہ اپنے پیاروں کو واپس گھر لائیں گے یا خود انہی کے پاس جیلوں میں جائیں گے لیکن اب یہ گھروں میں رہنے والے نہیں ہیں۔ اگر ریاست انہیں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنانا چاہتی ہے تو کر لیں کیونکہ ان کے پاس کھونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر انہیں مار کر ریاست سمجھتی ہے کہ وہ بلوچستان میں امن لائے گی یا ریاست اور بلوچوں کے درمیان مضبوط رشتہ بنائے گی تو یہ ریاست کی بھول ہے۔ بلوچ قوم اب مزید اپنے لوگوں کی اس طرح تذلیل قبول نہیں کرے گی۔
بلوچوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب اس جبر اور وحشت کے خلاف سیاسی مزاحمت کا راستہ اپنائٰں گے۔
#MarchAgainstBalochGenocide