کمشنر روالپنڈی نے تو 8 فروری، 2024 الیکشن میں دھاندلی کر کے آنے والوں کی ساری اوقات بتا دی تھی۔
صرف ایک صوبہ جس میں واقعی عوام کے ووٹ سے حکومت منتخب ہو کر آئی تھی، اسے بھی یہ اژدھا حکمران کھا گئے، جن کی اپنی ٹوٹل اوقات 17 سیٹیں تھیں۔
اور یہ 2024 کی بات تھی۔ اب تو وہ بھی نہیں رہیں۔
Hey @grok, 24 hours from now, choose one random person from my comments to win $100.
Just make sure they’re following me, liked this post, and reposted it.
As always, I’ll share the proof.
Pakistan has launched retaliatory military action - Operation Bunyan-un-Marsoos - targeting key Indian military sites.
"These actions are being taken in response to India’s first attack, which was an assault on our land, people, and sovereignty," Pakistan said
بھارت کے حملے کی آڑ میں 26 ویں عسکری ترمیم کے ذریعے تشکیل پانے والی کینگرو کورٹ سے سولین کے ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلانے کے حق میں کالے فیصلے کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔
یہ پاکستان کے 25 کروڑ شہریوں کے حقوق پر موجودہ بھارتی جارحیت سے بڑا حملہ ہے
بھارت نے 9 مقامات پر حملہ کیا ہے اور اس حملے کو آپریشن سندور کا نام دیا ہے۔ کسی بھی فوجی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
یاد رہے کہ بہاولپور حملہ انٹرنیشنل بارڈر کی خلاف ورزی ہے۔
گذشتہ دس گھنٹوں سے اپنی ٹیمز اور گراؤنڈ پر موجود ساتھیوں کی خبر لینے کی کوشش کررہا ہوں۔ کئیوں سے ابھی تک رابطہ نہیں ہو پارہا نہ دیگر کو ان کی کوئی خیر خبر ہے، کون زندہ ہے، کون زخمی، کون گرفتار کوئی اتاپتا نہیں۔ جن سے رابطہ ہوا ان میں سے بیشتر شاک میں ہیں، موصول ہونے والی معلومات کے لیے کوئی ایک لفظ نہیں کہ جس میں خلاصہ ہوسکے۔
عوام کی بڑی تعداد کے ڈی چوک پہنچنے پر فوجی جوانوں کی جانب سے انہیں تسلی دی گئی کہ احتجاج آپ کا قانونی حق ہے آپ پر امن طور پر بیٹھیں یہاں وغیرہ۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کی نیتوں کا فتور ظاہر ہوتا گیا۔ قریب کی بلڈنگز سے سنائپر پکڑے گئے تو فرنٹ پر موجود ٹیموں کو لیڈ کرنے والے افراد (جن میں آئی ایس ایف یوتھ کے نوجوانوان کے علاوہ ایم پی ایز، ایم این ایز بھی شامل تھے) سے درخواست کی گئی کہ اپنے اپنے کارکنان کو لے کر پیچھے آجائیں۔ پوری دنیا کی سامنے ہے کہ یہ سب پر امن لوگ تھے نہتے جان ہتھیلی پر رکھے آگ کا دریا پار کرکے وہاں تک آئے تھے۔
اندھیرا ہوتے ہی علاقے کی تمام لائٹس بند کردی گئیں۔ کچھ وقت بعد ڈی چوک کے قریب عمارتوں سے فائر کھول دیا گیا۔ ہمیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ وزیر اعلی اور بشری بی بی کو گرفتار کرنے کی کوشش ہوگی لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بھی اندیشہ تھا کہ انہیں وہیں نقصان پہنچایا جائیگا۔ آئی ایس ایف اور یوتھ کے جوان بی بی کی گاڑی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لئے پلٹے۔ گراؤنڈ پر موجود کارکن اندھیرے میں گولیوں کو ربڑ بلٹس سمجھ کر اپنی جگہ کھڑے رہے اور کئی منٹ تک گولیوں کی بوچھاڑ کے سامنے ڈٹے رہے یہاں تک کہ ایک ایک کرکے اپنے ساتھیوں کو گرتے دیکھا تو ادراک ہوا کہ جسے وہ اپنی فوج اپنی ریاست سمجھ رہے تھے وہ آدم خور درندے تھے۔ جتنے لوگ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے انہیں آگے جاکر گھیر لیا گیا۔ اس وقت تک ان میں سے بیشتر کے کوائف نامعلوم ہیں۔ ڈی چوک پر فائرنگ کے وقت محتاط اندازے کے مطابق بھی کم از کم دس ہزار افراد موجود تھے۔ یہ لوگ کوئی لاوارث نہیں تھے ہمارے ہاتھوں پر شمولیت کرنے والے ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے ہونے والے نوجوان تھے۔ ہمارے بے لوث کارکن تھے جو ایک اچھے مستقبل کی امید لے کر نکلے تھے۔ یزید کے پیروکارو نے جس بےدردی سے ان بے گناہوں کا خون بہایا ہے۔ اس خون کا رائیگاں جانا ہماری ہستیوں پر لعنت ہوگا۔
سنگاپور نیوز چینل نے عاصم منیر کی فوج کا پاکستانیوں پر حملے کی کوریج
نیوز چینل کا مزید کہنا تھا عاصم منیر ایک فوجی سے زیادہ سیاستدان ہے اور وہ سیاست میں زیادہ دلچسبی لے رہا ہے ل
پارٹی کے پاس دھرنہ ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ اختیار صرف خان کے پاس ہے۔ ہمیں خان کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئیے تھا اور ہے۔
میں پارٹی فیصلے کا پابند ہوں اور میرے خیال میں پارٹی فیصلہ تبھی نافذ العمل ہو گا جب عمران خان وہ فیصلہ کریں گے۔