میرے پاکستانیوں مینڈیٹ میرا نہیں آپ کا چھینا گیا ہے !
آپ سب کو اس تحریک میں شامل ہونا ہو گا۔ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لئے بحیثیت قوم جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
حقیقی وزیراعظم عمران خان
#RetweetImranKhan
ترسی ہیں آنکھیں تیرے دیدار کو۔.۔!!
ایک عرصہ گزر گیا بچھڑے یار کو۔۔!!
کوئی تو ہے جو لائے اس کی خبر۔۔!!
کوئی تسلی مل سکے دِلِ بیدار کو۔۔!!
یا اللہ میرے لیڈر کی حفاظت فرما۔ اس کو اپنے حفظ ایمان میں رکھ۔۔
آمین 🤲
حمایتی اور جذباتی: "عمران خان کا یہ بیان بالکل درست ہے۔ جب تک ہم 'دیسی انگریزوں' کے غلامانہ ذہنیت سے نہیں نکلیں گے، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ خان صاحب ہی امید کی آخری کرن ہیں
اب ہم اڈیالہ کے باہر احتجاج نہیں کریں گے بلکہ سڑکوں پر نکلیں گے ان کی جرات کیسے ہوئی کہ یہ عمران خان کے ساتھ ایسا سلوک کریں ؟ کیوں کہ ہم نے دباؤ ہی نہیں ڈالا ہم نا عمران خان کا علاج مانگ رہے ہیں نا ہی ہم عمران خان کی قید تنہائی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ہم نے کچھ نہیں کیا
دیر بالا واڑی میں علیمہ خان کا ہزاروں افراد کے استقبالیہ سے خطاب
عمران خان کا یہ بیان ان کی عوام دوستی اور غریب طبقے کے لیے فکر مندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صحت کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں، اور شوکت خانم کینسر ہسپتال اس کی ایک عظیم مثال ہے عمران خان کی یہ باتیں سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیوں وہ غریب کے درد کو اتنی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ جہاں وسائل کی کمی ہو، وہاں ایسی کوششیں ہی قوم کا سہارا بنتی ہیں
🚨 علیمہ خان کا تیمر گرہ میں کارکنان سے خطاب
حکومتِ پاکستان عملاً ناکام ہو چکی ہے۔ ملک کے معاشی، انتظامی اور عدالتی حالات سب کے سامنے ہیں۔ اب مزید خاموش رہنے کا وقت نہیں۔ تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز کو عوام کے درمیان نکل کر اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ کارکنان آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقِ رائے کے لیے اب عملی جدوجہد کا وقت آ چکا ہے۔
آپ آگے بڑھیں، ہم کارکنان ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں۔
ملک کرپشن سے تباہ ہوتے ہیں اور ملک کا پیسہ چوری کرنے کو کرپشن کہتے ہیں۔ قومیں غریب تب ہوتی ہیں جب ان کے اپنے سربراہ پیسہ چوری کر کے باہر لے جاتے ہیں۔ یہ جو آج ہمارے اوپر مسلط کیئے ہوئے ہیں۔ ساری قوم تیار ہو جائے ، میں کبھی ان کی غلامی قبول نہیں کروں گا !
حقیقی وزیراعظم عمران خان
اپنے دورِ حکومت میں جب عمران خان پناہ گاہوں کا دورہ کرتے تھے تو اُن کے چہرے پر اطمینان صاف نظر آتا تھا، کیونکہ اُن کے لیے اصل کامیابی اقتدار نہیں بلکہ عوام کی خدمت تھی۔
"جب کوئی مزدور، مسافر یا بے سہارا شخص عزت کے ساتھ رات گزار سکے، تو یہی ریاستِ مدینہ کے تصور کی عملی جھلک ہے۔"
یہ پناہ گاہیں صرف عمارتیں نہیں تھیں، بلکہ انسانیت، رحم اور فلاحی ریاست کے وژن کی علامت تھیں۔
اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر میدان میں آئیں! ویلکم کرتے ہے آپ کو سیاست میں مولانا فضل الرحمان کا سیاسی حریفوں اور اداروں کے کردار پر دو ٹوک موقف۔ کیا عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت کا اصل راستہ ہے؟
عمران خان نے آج سے 26 سال پہلے کہا تھا!!
فوج کو قبائلی علاقوں میں نہیں جانا چاہیے, وہاں شکست ہوگی, کیوں تاریخ گواہ ہے ان لوگو کو کوئی شکست نہیں دے سکا!!
آج عمران خان کی باتیں ایک ایک سچ ثابت ہوئی!!
جرنیل ہمیشہ چوروں اور مجرموں کو تحفظ دیتے آرہے ہیں
عمران خان کا انڈین صحافی کو انٹرویو: پاکستان اور بھارت کے تعلقات، امن، اور دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کے لیے کشمیر کے مسئلے کا حل انتہائی ضروری ہے۔ قیادت کا فقدان ہی اصل مسئلہ ہے دو ہمسایہ ممالک کے روشن مستقبل کے لیے کشیدگی کا خاتمہ اور بہتر سفارت کاری وقت کی ضرورت ہے لیڈر تو لوگوں کو انسپائر کرتا ہے، ایک خواب دکھاتا ہے۔" عمران خان کا انڈین صحافی کو انٹرویو کے دوران قیادت کے بارے میں اہم پیغام
بڑا بھائی اندر تو 'چو چو کرتا تھا باہر جاکر فوج کو اٹیک کرتا تھا سیاست میں اصولوں پر ڈٹ جانا ہی اصل لیڈر کی پہچان ہے۔ اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باوجود عمران خان نے ہمیشہ ملکی سلامتی اور وقار کو ترجیح دی اور کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تاریخ ایسے ہی لیڈروں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے ملک کے مفاد کے لیے کسی کے سامنے نہیں جھکتے
عمران خان بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔ اگر ملک کے وزیرِ اعظم کی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی تو ایک عام شہری کا کیا حال ہوگا؟ یہ نظامِ انصاف میں سنگین نقائص اور قانون کی حکمرانی کی عدم موجودگی کا منہ بولتا ثبوت ہے
پاکستانیوں اپنے حقیقی قائد عمران خان کی قید پر خاموشی توڑ دو !
آج گرمی کی شِدّت اس حد تک بڑھ چُکی ہے کہ ہمیں ہمارے گھروں میں سکون نہیں ہے آرام نہیں مل رہا۔ ہمارے لئے جیل میں ناحق قیدِ تنہائی میں بیٹھا ہمارا لیڈر نا جانے کس حال میں ہوگا !
اِس ملک کا وزیرِاعظم رہ چکا شخص نواز شریف کہتا ہے کہ اگر میرے اثاثے میری آمدنی سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا؟ گویا مطلب یہ ہے کہ اگر چوری کی ہے تو اِس میں کیا بُرائی ہے۔۔۔ ہم بدکردار ترین لوگ ہیں، اِسی لئے ہمیں ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔
معروف تجزیہ نگار حسن نثار