قال ﷺ :
یقیناً اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملےگا۔ پس جس کی ہجرت(ترک وطن) دولت دنیاحاصل کرنےکےلیےہو یا کسی عورت سےشادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کےلیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سےاس نے ہجرت کی ہے۔
(بخاری،١)
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۲۴)
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
غور کیجیے
کہیں آپکا بچہ اس دلدل میں نہ پھنس جاۓ۔
میرا ایک عزیز کئی دنوں سے ملاقات کا خواہاں تھا، مگر مصروفیات آڑے آتی رہیں۔ بالآخر کل میں اس کے گھر چلا گیا۔
وہ بےحد پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ اُس کے دو بیٹے ہیں، ایک نو سال کا اور دوسرا تیرہ سال کا۔ شرمندگی اور بےبسی کے ملے جلے لہجے میں اُس نے بتایا کہ اس کے بچے غلط راہ پر چل پڑے ہیں۔ جب اُن کے موبائل فونز چیک کیے تو وہ فحش ویڈیوز سے بھرے ہوئے تھے۔
وہ صدمے میں تھا، کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا کہ ان معصوم ذہنوں کو گناہ کی اس دلدل سے کیسے نکالا جائے۔ جب میں نے اس سے چند سوالات کیے تو معلوم ہوا کہ وہ خود بھی ماضی میں اسی لت کا شکار رہا تھا۔ حتیٰ کہ دورانِ ہمبستری بھی انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھا کرتا تھا۔
قصہ مختصر، وہ آج اپنے ہی اعمال کا خمیازہ بھگت رہا تھا۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اس زہرِ قاتل سے کیسے بچا سکتے ہیں۔
آج کا سب سے اہم سوال:
"ہم اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی سے کیسے جُڑے رکھیں… مگر گناہوں سے کیسے بچائیں؟"
آج انسان ایسے دور میں سانس لے رہا ہے جہاں علم بھی انگلی کی ایک جنبش پر ہے… اور گمراہی بھی!
موبائل فون اور انٹرنیٹ بلاشبہ ایک سہولت ہیں، مگر جب یہ بچوں کے ہاتھوں میں #بغیر_نگرانی کے ہوں، تو یہی سہولت ایک خطرناک زہر میں بدل سکتی ہے۔
خطرہ کہاں ہے؟
7 سے 14 سال کی عمر کے بچے فطری طور پر تجسس، نقالی اور ذہنی تبدیلی کے مراحل میں ہوتے ہیں۔ یہ عمر تربیت، رہنمائی اور نگرانی کی ہوتی ہے۔
مگر اکثر والدین مصروفیت یا لاعلمی کے سبب بچوں کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تھما کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور وہی موبائل بچوں کو آہستہ آہستہ فحش ویڈیوز، پرتشدد گیمز، غلط صحبت اور جنسی انحراف کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ کوئی قیاس نہیں بلکہ عالمی رپورٹس اس کی تصدیق کرتی ہیں:
۔ UNICEF رپورٹ:13 سال سے کم عمر 56٪ بچے
بغیر والدین کی نگرانی کے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔
۔NCMEC رپورٹ: ہر 9 میں سے 1 بچہ آن لائن جنسی استحصال کا شکار ہوتا ہے۔
🔒 Google Family Link – ایک آزمودہ، مؤثر تک
مرحلہ وار طریقہ:
1. پلے اسٹور سے Google Family Link for Parents ایپ ڈاؤنلوڈ کریں۔
2. یہ ایپ اپنے موبائل اور بچے کے موبائل دونوں میں انسٹال کریں۔
3. ہدایات کے مطابق آپ اپنے فون کو Supervisor بنائیں۔
👈فوائد:
✅ بچے نے کون سی ویب سائٹس وزٹ کیں، ویڈیوز یا گیمز دیکھی سب معلوم ہو گا۔
✅موبائل استعمال کا وقت محدود کر سکتے ہیں۔
✅نئی ایپس یا گیمز بچے آپ کی اجازت کے بغیر انسٹال نہیں کر سکیں گے۔
✅ناپسندیدہ ایپس بلاک کریں — وہ فوراً بچے کے موبائل سے ہٹ جائیں گی۔
👈 اضافی حفاظتی اقدامات:
۔Chrome کی Settings میں جا کر Safe Search Filter آن کریں۔
۔YouTube میں Auto-play بند کریں تاکہ بے ترتیب ویڈیوز نہ چلیں۔
۔ Play Store میں Parental Controls فعال کریں۔
اسلامی تدابیر – دل کی نگرانی
ٹیکنالوجی صرف ظاہری حفاظت کرتی ہے، دلوں کی حفاظت اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے۔ اس لیے ساتھ ساتھ درج ذیل دینی تدابیر بھی اختیار کریں:
1. رزقِ حلال کا اہتمام کریں۔
2. صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں۔
3. دعائیں کریں:
"اللَّهُمَّ اهْدِهِمْ لِصِرَاطِكَ المُسْتَقِيمِ"
"رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامً
4. والدین خود عملی نمونہ بنیں۔
بچہ وہی سیکھتا ہے جو دیکھتا ہے، نہ کہ جو صرف سنا دیا جائے۔
5. بچوں کو شرم و حیا، نظروں کی حفاظت، Good Touch/Bad Touch کی تعلیم دیں۔
6. بچوں کو وقت دیں، ان کے ساتھ بات کریں، دوست بنیں، سمجھائیں، جھڑکیں نہیں۔
7. بچوں کو فارغ نہ چھوڑیں۔۔۔۔۔۔مطالعہ، کھیل، ہنر اور مثبت مشغلے میں مشغول رکھیں۔
یاد رکھیے:
یہ ایک عالمی المیہ بن چکا ہے۔ اخبارات، چینلز، رپورٹس چیخ چیخ کر خبردار کر رہے ہیں کہ اسکولوں اور گھروں میں اخلاقی بحران بڑھ رہا ہے۔
یہ وقت غفلت کا نہیں، بصیرت کا ہے۔
ہمیں ابھی سے جاگنا ہوگا، ورنہ آنے والی نسلیں ہاتھ سے نکل جائیں گی۔
دعاہے اللہ تعالیٰ
ہمیں، ہمارے گھروں کو، ہماری نسلوں کو،
شیطان کے فتنوں سے محفوظ فرما۔
ہمارے بچوں کے دلوں کو علم، عمل، حیا اور آخرت کی فکر سے منور فرما۔
آمین یا رب العالمین!
اس تحریر کو صدقۂ جاریہ سمجھ کر دوسروں تک پہنچائیں۔
شاید کسی کا بچہ، کسی کا ایمان، کسی کا مستقبل بچ جائے۔
اس نوجوان کا نام نعمان ہے والد کا نام وسایا ہے۔
نعمان آج سے تقریبا 23 سال قبل چار سال کی عمر میں اپنے گھر سے والوں سے بچھڑ گیا تھا آج تک ماں باپ اور بہن بھائیوں سے جدا ہے۔
نعمان کا کہنا ہے کہ انکو اپنے والد کا نام وسایا یاد ہے والدہ کا نام یاد نہیں ہے۔ دو بھائیوں عثمان اور رضوان کے نام یاد ہیں۔
بہنیں شاید چار تھیں انکے نام یاد نہیں ہیں۔
نعمان نے اپنے گم ہونے کا واقعہ کچھ اس طرح بیان کیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ملتان کے کسی اسپتال میں آیا تھا جہاں اسکی انگلی کا آپریشن ہونا تھا۔اسپتال سے باہر نکلا تو وہاں لاوارث سمجھ کر شیلٹر پہنچادیا گیا۔
دو تین سال ملتان کے شیلٹر میں رہا۔پھر سال 2006میں کراچی منتقل کیا گیا۔
نعمان کا کہنا ہے کہ ہماری رہائش بھی شاید ملتان میں تھی۔
نعمان اس وقت بھری جوانی میں لاوارث ہے۔اپنوں کے پیار سے محروم ہے۔فیکٹریوں میں کام کرکے وہیں سنسان کمروں میں راتیں گزارتا ہے۔ راتوں کو اٹھ کر ماں باپ اور بہن بھائیوں کو یاد کرکے روتا ہے۔ زندگی کے چاروں طرف تاریکیاں ہیں۔
نعمان چاہتا ہے کہ اسے اسکے ماں باپ اور بہن بھائی ملیں۔اور اذیت ناک تنہائی سے جان چھوٹے۔
آپ کا ایک شئیر نعمان کی زندگی سنوار سکتا ہے۔اسکی آنکھوں سے مایوسی کے پردے دور کرسکتا ہے۔
خوب زیادہ شئیر کریں اور خوب نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 june 2026
#waliullahmaroof #Multan #punjab #pakistan #MissingChild
اے اللہ ! جو لوگ غم زدہ ہیں، پریشان ہیں، بیمار ہیں یا کسی مشکل میں ہیں، ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما، ان کے دکھوں کو دور فرما اور انہیں اپنی خاص رحمتوں سے نواز دے آمین یا ربّ العالمین ! 🤲
السلام علیکم
صبح بخیر