Israeli settler militia is attacking Palestinian villagers in the West Bank to occupy their homes and to grab their land. Netanyahu has turned Israel to number one rogue state in the world.
This is not a detainment camp in World War II, nor a prison in the Holocaust, this is Gaza. A chilling reminder that history repeats.
A holocaust is happening right before our eyes and the world is silent.
ناتمام
ہارون الرشید
عمران خاں کی تگ و تاز
مدو جزر بہت ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل کیا لائے گا۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے،، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کےلئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
چالیس برس ہوتے ہیں۔لاہور کے پنج ستارہ ہوٹل میں پہلی بار اسے دیکھا۔ ہوٹل کے مسقف صحن میں ایک کھلاڑی سے گپ شپ جاری تھی۔ ماحول گرم گفتاری سے لبریز تھا کہ اچانک خاموشی چھا گئی۔ تجسس اور اشتیاق سے سب انکھیں ایک جانب مڑ گئیں ۔
یہ عمران خان تھے۔ ہمیشہ کی طرح شاہانہ بے نیازی سے چلتےہوئے۔ چائے کی دعوت دیتے والے دوستوں سے معذرت کرتے بڑے دروازے کی طرف لپکے۔ زبان سے ایک لفظ بھی نہ کہا اور اشارہ کیا" ورزش کے لئے جاتا ہوں "
لاہور میں پاک بھارت میچ برپا تھے ۔شہر جوش وخروش سے بھرا ہوا۔ پاکسان غالب تھا اور اہل لاہور اپنے ہیروز پہ نچھاور ہوئے جاتے تھے۔مرحوم کالم نگار عبدالقادر حسن نے جو ان دنوں بہت مقبول تھے، خان کے بارے میں لکھا: "یونانی دیوتاؤں جیسا جسم اور تیور" ۔
کچھ دن بیت گئے۔حفیظ اللہ خاں سے گاہے بہ گاہے ملاقات ہونے لگی۔ وہ خان کے بارے میں عجیب و غریب واقعات سناتے، ناقابل یقین ۔ کسی فاتح کی نہیں، ان واقعات سے ایک درویش کی سی تصویر بنتی اور یہ ناقبل فہم نہ تھا۔مثلآ شادی کے دن کسی دوست کی شیروانی پہن لی ۔اس تقریب کے لئے ہنری کسنجر سمیت ا مغرب کی ممتاز شخصیات جس میں شریک تھیں۔ دلہن کی والدہ کا تعلق برطانوی تاریخ کے ایک اساطیری کردار، صلاح الدین ایوبی کے حریف The lion heart سے تھا ۔ اس کے کھرب پتی والد گولڈ سمتھ دنیا کے ممتاز سیاستدانوں اور حکمرانوں کی طرح اخبارات اور جرائد میں جگمگاتے۔
وہ ایک کرشماتی کھلاڑی تو تھا مگر ہیرو؟ کرکٹ سے دل چسپی بھی اس سے زیادہ کبھی نہ تھی کہ بھارت سے پاکستان جیت جائے۔ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔
خان سے ملاقات کرکٹ سے دستبرداری کے چار برس بعد ہوئی۔ لٹیرے سیاست دانوں سے نجات کے لئے خلق خدا اس کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ اس مکروہ مخلوق سے اکتائے ہوئے ہم بھی تھے۔
خبر سننے میں آتی رہی ۔ تفصیل ایک دن جنرل حمید گل مرحوم نے بیان کی۔ان دنوں مسلسل جن سے ملاقات رہا کرتی۔ اپنے ہاتھوں سے تراشے گئے فریب کار نواز شریف سے بیزار وہ خاں صاحب کو سیاست میں لانے کے لئے بے تاب تھے۔مدید تکبیر محمد صلاح الدین مرحوم اور عبدالستاد ایدھی کی مدد سے ۔منصوبہ یہ تھا کہ لاہور کے موچی دروازے میں ایک عظیم عوامی اجتماع ہو۔ پہلے سے تحریک چلائی جائے۔اس اجتماع میں خلق خدا امڈ آئےتو ہجوم کا رخ زماں پارک کی طرف موڑ دیا جائے۔ خان سیاست میں کود پڑنےکا اعلان کر دے۔ نئے امکانات کا در کھلے۔
" ملک کو تباہی سے بچانے کا یہ بہترین نسخہ ہے" جنرل نے کہا ، آئی ایس آئی کی سربراہی کے دور سے جو سیاسی جوڑ توڑ کے چسکے کا عادی ہو چکا تھا"
مگر وہ مانتا نہیں" جنرل نے کہا۔
کیوں نہیں مانتا؟ اس کے خیال میں سیاست آدمی کا دامن آلودہ کرتی ہے۔
" قائد اعظم نے سیاست سے عزت پائی اور تاریخ کی لوح پر دائم دمکتےرہیں گے۔ ابرہام لنکن سیاست دان تھا۔ اخلاقی عظمت کا لہکتا ہوا استعارہ کہ امریکی تاریخ میں کوئی اس کا ہم سر نہیں"فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہے : بنی اسرائیل کے انبیا سیاست کیا کرتے تھے۔
" یہ کڑے دلائل ہیں ۔ اس سے ملو اور اسے قائل کرنے کی کوشش کرو" جنرل نے کہا۔"ایاز قدر خود بشناس" میں نے سوچا " میں کیا اور میری بساط کیا" تاہم ان کے اصرار
پہ وعدہ کرلیا۔ دل چسپ یہ کہ اس اثنا میں خان نے جنرل کو تیاگ دیا اور پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔ لاہور گیا۔تجاویز مرتب کیں کہ نئی پارٹی کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ حفیظ اللہ خاں کی عنایت سے علیحدگی میں خان سے کا ملا۔ خوش دلی سے اس نے خیر مقدم کیا
یہ ایک رفاقت کا آغاز تھا رفتہ رفتہ جو بے تکلفی میں بدل گئی۔نشیب سرفراز سے گزری کہ ہمیشہ اتفاق رائے ممکن نہ تھا۔
اخبار نویسوں میں حاسدتھےاور اس کی پارٹی کے لیڈروں میں بھی۔ وہ خان کو بدظن کرنے کی کوشش میں لگے رہتے۔ حسد ایک مستقل ذہنی بیماری ہے۔ کم لوگ اس سے بچتے ہیں۔
کھلاڑی، Philanthropist اور سیاست کار پہ ارادہ تو کتاب لکھنےکا تھا ۔ اس کی علالت کی خبر سن کر جی بے تاب ہوا ہے کہ یہ داستان ابھی دہرا دی جائے۔ اس آدمی کی کہانی جو طوفانوں میں رسان سے لنگر انداز ہوتا ہے۔
جسے قتل کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔کوئی نہیں جانتا کہ آنے والے والا کل اس کے لئے ، اس کے وطن کے لئے کیا لائے گا ۔عمر بھر جو طوفانوں سے کھیلتا رہا۔ ترک امید البحر خیر الدین باربروسا کی طرح جو سمندر کو جھیل بنا دیتا تھا۔
مدو جزر بہت ہے۔ یہ اس آدمی کی تگ و تاز دہرانے کا وقت ہے، لاکھوں دل اور ہاتھ جس کے لئے دعا کو بے تاب رہتے ہیں۔
عمران خان اور غیر ملکی دورے
وزیر اعظم ہاؤس میں کام کرنے و
الے ایک آفیسر نے عمران خان کے وزارت عظمی دور کا واقعہ سنایا کہ جب عمران وزیر اعظم بنے تو کئی ماہ گزر گئے کوئی غیر ملکی دورہ نہ کیا تو اس نے بتایا کہ پی ایم کے سٹاف سے میں نے پوچھا کوئی دورہ کرا دیں ( دورہ میں ٹی اے ڈی اے سے پیسہ بنتا ہے ) دورہ میں ٹی اے ڈی اے سے پیسہ بنتا ہے تو سٹاف نے ایک واقعہ سنایا کہ پی ایم بننے کے دوسرے مہینے فارن آفس کے ایک ڈیسک کے ڈی جی نے ایک ملک کا دورہ کرنے کے لئے پرپوزل بھیجا جس میں لکھا کہ یہ انتہائی اہم دورہ ہے ، وزیر اعظم عمران خان نے وہ پرپوزل پڑھا اور ڈی جی کو بلا لیا کہ آؤ بتاؤ یہ دورہ کیسے انتہائی اہم ہے ڈی جی صاحب آگئے پی ایم نے پوچھا اس سے پاکستان کو کیا ملے گا جو آپ نے انتہائی اہم دورہ لکھا ڈی جی صاحب لاجواب ہو گئے اور دورہ نہ کیا ڈی جی صاحب چلے گئے مگر انہوں نے یہ بات کسی کو نہ بتائی
کچھ دن گزرے فارن آفس کے ایک اور ڈی جی نے ایک اور ملک کا انتہائی اہم کر کے دورہ کا پرپوزل بھیجا انکو بلایا گیا تو وہ بھی مناسب جواب نہ دے سکے کہ یہ دورہ کیسے اہم ہے اور اس سے پاکستان کو کیا ملے گا ؟ تاہم یہ والے ڈی جی صاحب واپس جاتے ہی باقی ڈی جیز کو بھی بتا دیا کہ بھائی یہ وزیر اعظم دوروں کا بھوکا نہیں ہے اور یوں فارن آفس کے افسران کی موجیں رک گئیں اور پھر دوروں سے متعلق پرپوزل بنانے سے پہلے وزیر اعظم عمران خان سے پوچھا جاتا تو ہی پرپوزل جاتا تھا، اس افسر نے بتایا کہ میں نے 7 سے 8 وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا مگر عمران خان سب سے زیادہ پاکستان کے ساتھ مخلص اور ایماندار تھے، اس نے بتایا کہ اس کے بعد شہباز شریف وزیر اعظم آگئے پھر غیر ملکی دوروں کی لائن لگ گئی اور فارن آفس افسران و مشنز کے مزے بحال ہو گئے اب سب سے کم اہم دورہ بھی انتہائی اہم ہوجاتا تھا اب نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ جو صرف انتخابات میں معاونت کرنے آئے تھے اس نے بھی خوب عیاشی کی ۔
Lebanon is being ethnically cleansed by Israel while world leaders stay silent.
We warned the world that Gaza is the testing ground for a lawless new world order.
This’s Lebanon now…
یہ سُنیں۔
اسرائیل کا ایک Rabbi کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ ان کو غارت کرے۔ مسلمان حُکمران تو کُچھ نہیں کررہے ہیں۔
“ہر بچہ غزہ میں بھوک سے مر جانا چاہیے۔ ہمیں سیکھنا چاہیے کہ تورات ہمیں عمالق کے بارے میں کیا کہتی ہے، ہمیں ان کا کوئی نشان بھی نہیں چھوڑنا چاہیے، صرف ایک بیوقوف ہی ان بچوں کے لیے ہمدردی رکھ سکتا ہے جو کل کے دہشت گرد بنیں گے، مجھے امید ہے کہ وہ بھوک سے مر جائیں۔”
یہ سُنیں۔
اسرائیل کا ایک Rabbi کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ ان کو غارت کرے۔ مسلمان حُکمران تو کُچھ نہیں کررہے ہیں۔
“ہر بچہ غزہ میں بھوک سے مر جانا چاہیے۔ ہمیں سیکھنا چاہیے کہ تورات ہمیں عمالق کے بارے میں کیا کہتی ہے، ہمیں ان کا کوئی نشان بھی نہیں چھوڑنا چاہیے، صرف ایک بیوقوف ہی ان بچوں کے لیے ہمدردی رکھ سکتا ہے جو کل کے دہشت گرد بنیں گے، مجھے امید ہے کہ وہ بھوک سے مر جائیں۔”
This is not a photo from Warsaw Ghetto 1943. This is a photo from Palestine now with all the color taken out. A chilling reminder that history repeats.
The difference between Palestine and Warsaw Ghetto is that the world still has an opportunity to stop the genocide in Palestine
پہلی ہی ملاقات میں ایک بزرگ شخصیت نے عمران خاں سے پوچھا: زندگی میں آپ کی اولین ترجیح کیا ہے۔ بلا تامل انہوں نے جواب دیا: صرف پاکستان کی بجائے عالم اسلام کے لئے جدوجہد۔امریکہ سمیت مغربی مملک نے ادراک کر لیا۔خان کی قوم نہ کر سکی۔اس کی غلطیاں اپنی جگہ اور ناچیز سمیت کئی لوگ ان کی نشان دہی کرتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا عمل کیا ہے اور شخصیت کیا ۔ 1992 میں اس وقت خان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا جب اس کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سمیت کرہ ارض پر کسی ایک شخص کو بھی اس کی امید نہیں تھی۔ شوکت خانم ہسپتال! اولین اجلاس میں 20 ڈاکٹروں میں سے 19 نے کہا: ہسپتال نہیں بن سکتا۔ ایک نے کہا: بن سکتا ہے، چل نہیں سکتا۔ ایک بے مثال ہسپتال، پھر دوسرا اور تیسرا۔ میانوالی
کی نمل یونیورسٹی ۔اتفاق سےاول دن سے یہ خاکسار اس کی کاوش کا گواہ ہے۔دوسرےتو کیا، Construction Company تپتے پہاڑوں کے دامن میں زیر تعمیر عمارت کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔ سیاست کی تگ و تاز کے طویل عرصے میں کبھی وہ مایوسی کا شکار نہیں ہوا۔ ایک ارب درختوں کے جنگل اور صحت کارڈ ایسے منصوبے وہی بروئے کار لا سکتا تھا۔ شریفوں اور زرداریوں سے اس کا کیا مقابلہ۔ پاکستان نہیں، وہ عالم اسلام کامقبول ترین رہنما ہے۔ فرسودہ نظام کے خلاف بغاوت اس نے پیدا کر دی ہے۔ ہزار حربوں اور عالمی قوتوں کی پشت پناہی کے باوجود یہ بغاوت تحلیل نہیں ہو رہی۔ ایک آدمی اس سے بڑھ کر کیا کر سکتا تھا، 42 برس کی عمر میں جس نے سیاست میں قدم رکھا ۔ مسئلہ اس کا یہ بھی تھا کہ مزاج سیاسی نہ رکھتا تھا۔ جوڑ توڑ سے ناآشنا ۔امید ہے کہ اسیری کے اذیت ناک برسوں میں بہت کچھ اس نے سیکھ لیا ہو گا۔ گھمبیر حالات میں اس کے تمام حریف بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ انشاء اللہ وہ آزاد ہو گا اور تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو جائے گا۔ اہم ترین یہ ہے کہ حقیقی آزادی کے لئے دوسروں کو بھی شریک ہونا ہو گا، سبھی کو۔ کوئی بھی لیڈر اپنی جنگ تنہا نہیں جیت سکتا۔ ابرہام لنکن، ڈیگال اور قائداعظم محمد علی جیسے جلیل القدر رہنما بھی نہیں۔
دل کا اجڑنا سہل سہی پر بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں ہے، بستے بستے بستی ہے۔
حرف آخر یہ کہ مولوی حضرات اور نام نہاد لبرل ضرور اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ جس طرح کہ مذہبی جوش و خروش سےقائد اعظم کی مزاحمت کرتے رہے۔
COLLECTIVE DETERRENCE AND DEFENCE
پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ
اللہ برکت ڈالیں
چھپے اور کھلے دشمنوں کیلئے واضع پیغام
اللہ کرے یہ معاہدہ دنیا کے مظلوم مسلمانوں کیلئے ایک نوید ثابت ہو
انشاءللہ
آمین
Naeem Lodhi
What Israel is currently doing in southern Lebanon is clearly genocide and ecocide, yet the UN High Commissioner for Human Rights—who is a Zionist—claimed otherwise!
Israel poisoned the land in Lebanon, just as it did with the water wells in Palestine, violating the Chemical Weapons Convention.
Israel sprayed toxic and carcinogenic chemicals all over Lebanese agricultural land, resulting in catastrophic levels of cancer-linked chemical in the soil, concentrations reached 22,750 mcg/g, that’s 11,000 times above the safe levels of 0.5/2 mcg/g.
Israel destroyed 22.5% of agricultural land—nearly 56,000 hectares.
Israel fires banned white phosphorus chemical munitions at villages in southern Lebanon—ancient villages where Jesus Christ once walked, villages that have stood the test of time for centuries and centuries, with prehistoric and Roman-era roots—burning forests, valleys, hills, fruit orchards, and entire ecosystems.
Israel burns more than 120 hectares of centuries-old olive groves to ashes in southern Lebanon—estimated to be 300-1000 years old.
Poisoning and destroying agricultural lands during an armed conflict is a war crime and an act of genocide.
Sorry America, your government couldn’t afford water for fire hydrants and firefighting planes, they have to give billion of tax dollars to israel to kill innocent children in Gaza and Lebanon.
If you are experiencing extreme heat, soak your sheets in cold water and cover your body with them. Once the sheets dry, do it again. Doctors use this method in Cuban hospitals to save lives as there's no electricity and hospitals running on bare minimum power due to US sanctions.
Let me recount his achievements;
1- Kept country out from Covid (Pandamic) once in a century witnessed by world
2- despite Covid Poverty rate reduced
3- 2/3.5 years posted more than 6% growth
4- Exports and agriculture production all time high
5- Sehat card started in Punjab. More than 4.2mn families beneficiaries. Approx 130 billion spending per year
6- Record remittances from 19 billon to $32 billon.
7- Highest industrial & agriculture growth posted after 2005
8- construction of Dams started
9- introduction of single syllabus
10- Billion tree Tsunami
11- Austerity in public schools expenditures
12- Improve credit ratings from 2018
13- Reserves accumulation to $25 billon
14- Introduction of Visa on arrival
15- resolution of IPPs agreement, rental power plant, RekoDiq
16- first time formation of sugar commission
17- Introduction of textile, construction and agriculture package
Now please mentioned achievements of your beloved parties
چاہے دعا کتنی ہی غیر منطقی نظر آئے
اللہ کیلئے کیا مشکل ہے۔ 🤲
یا اللہ کوئی ایسا سبب پیدا کر کہ ملک میں صاف شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہو جائے۔ اس سے پہلے تمام سیاسی اسیر رہا ہو جائیں۔ اور عوام نیک، اہل اور ایماندار نمائیندے منتخب کریں ۔
یا اللہ پھر حکومت کے ڈنڈے کو عصا موسی میں تبدیل کر دے، اور وہ رشوت ستانی، چور بازاری، اقرباء پروری، نا اہلی، غربت، نا انصافی اور نا خواندگی کے زہریلے سپولوں کو نگل جائے۔
اور یوں میرا پیارا ملک علم ،ترقی ، خوشحالی اور عظمت کی منزلیں طے کرتا جائے۔
اس دعا کو پورا کرنے کیلئے جن اعمال اور جدوجہد کی ضرورت ہے اس کے محرکات پیدا فرما دے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
نعیم لودھی
I just checked who covered the historic mass funeral of 112 Palestinians in Gaza killed by Israel.
CNN? Nowhere.
MSNBC? Silent.
Fox News? Crickets.
BBC? Radio silence.
112 bodies. One mass funeral. Zero Western media coverage.
Journalism didn’t die. It just decided some mass funerals aren’t newsworthy.
Israel continues to bombard Lebanon with banned phosphorus munitions, violating Security Council Resolution 1701, ceasefire agreement, and international law with absolutely no consequences.
This’s another war crime, yet ICC and UN High Commissioner for human rights remain silent