Like those who opposed JFK in 1960 because he was Catholic…
Like those who opposed Obama in 2008 because he was Black…
Republicans today are attacking Abdul El-Sayed because he is Muslim.
Don’t let bigotry win. Fight back!
"آج واقعی بھٹو زندہ ہو گیا۔ مگر یہ بھٹو 1973 کے آئین والا بھٹو نہیں ہے، یہ 1970 والا بھٹو ہے جس کے اوپر الزام ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کے عوام کا مینڈیٹ مسترد کیا
اور اس کے مینڈیٹ کو چوری کرکے وہاں پہ فوجی آپریشن کی حمایت کی اور اس کے بعد پھر ملک ٹوٹ گیا" سینئر صحافی مطیع اللہ جان
#مینڈتٹ_چور_بیشرم_لوگ
چونکہ آج ایکس پھر پر رش لگا ہوا ہے لہذا یہ والا سبق بھی پڑھتے جائیں
عاصم منیر کی ایس آئی ایف سی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کا زرعی انقلاب ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر کی بلوچستان پالیسی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کی کٹھ پتلی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں
عاصم منیر کا وزیر خزانہ و وزیر داخلہ ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر کی سفارتی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں
عاصم منیر کی افغانستان و ٹی ٹی پی پالیسی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کے اسلحہ و معدنیات بیچنے جیسے منصوبے جھوٹ نکلے
عاصم منیر سیاسی استحکام کا سب سے برا دشمن ثابت ہوا ہے
گورنر راج لگا کر مسکین کیا اکھاڑ لے گا۔
Rep. Thomas Massie (R-KY) suggested that Trump’s decision to launch a war against Iran and send 2,000-pound bombs to Israel to flatten Gaza might explain why he failed to win the Nobel Peace Prize.
The U.S.-made Mk 84 is one such bomb. When it detonates, its steel casing shatters into high-speed fragments that can be lethal as far as 360 meters (1,180 feet) away, roughly four football playing fields in length. Gaza is one of the most densely populated places on Earth and Israel routinely used these bombs On refugee camps and schools.
Research has identified potential injuries and infrastructure damage extending up to 800 meters, or half a mile, from the explosion.
The blast generates a massive shock wave capable of collapsing nearby buildings, crushing vehicles, and throwing people and debris through the air. The pressure ruptures lungs, damages internal organs, causes traumatic brain injuries, and kills people without leaving visible external wounds.
Closer to the explosion, victims can suffer traumatic amputations and devastating crush injuries.
An additional potentential source of instability and violence in #Pakistan: the suspension of the elected provincial government and the imposition of federal emergency rule in #KhyberPakhtunkhwa. Pakistan's crises deepen.
https://t.co/6UbiWUKmiG
جمہوریت کے خود ساختہ چیمپئن پیپلز پارٹی کو مبارک ہو!
خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی ہیٹ ٹرک مکمل!
1975 میں ذوالفقار علی بھٹو، 1994 میں بے نظیر بھٹو اور اب 2026 میں آصف علی زرداری کے دور میں منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کرنے کا اقدام۔
جمہوریت کے دعوے اپنی جگہ، تاریخ اپنا فیصلہ خود کرے گی!
Pakistan's army swears to uphold a Constitution that "embodies the will of the people."
Sohail Afridi won 90 of 145 votes to lead Khyber Pakhtunkhwa. Today an emergency decree removed him as containers block his peaceful march.
The signature is civilian. The script is not.
جس صوبے کے ہر ہر شہر کے لوگوں نے پچھلے ہفتے کے دوران ہی لاکھوں کی تعداد میں نکل کر جن ناجائز حکمرانوں کے خلاف احتجاج کیا، انھی لوگوں نے ان عوام کو کمتر سمجھتے ہوئے گورنر راج لگا دیا؟
یہ تو سیدھی سیدھی عوام کی توہین ہے، اس پر احتجاج تو بنتا ہے-
#نکلو_پشاور_کی_طرف
مافیاز ایک دوسرے کی سہولت کاری کیسے کرتے ہیں؟؟
پنجاب میں زرداری نے گورنر راج لگایا تو شہباز شریف وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اکیلا خود گاڑی ڈرائیو کر کے رائیونڈ چلا گیا
کسی نے اسے گرفتار تو دور روکا تک نہیں
جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو گورنر راج کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا ہے
یہ ظلم پشتون کبھی بھولیں گے نہیں
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
وزیر اعلی سہیل آفریدی کے گرفتار کر لیا گیا ۔ اب عوام کو نکلنا ھوگا ۔ پورے خیبر پختون خواہ پشاور کے طرف آئے ۔ کوہاٹ پشاور کے طرف رخ کرے ۔ قبائلی اضلاع کے عوام پر باری ذمہ داری عائد ھوتی ھے ۔قبائل اپنے وزیر اعلیٰ کے لیے نکلنا ھوگا ۔جہاں عوام جمع ھوگی وہاں مجھے اپنے درمیان پائینگے۔
یہ ریڈ لائن تو تم نے آج سے چار سال پہلے لگائی تھی۔ یہ پارٹی تو تم نے تین سال پہلے توڑ دی تھی۔ یہ لوگ تو تم نے آٹھ فروری کو جھکانے تھے۔ تم نے ہمیں مارا بہت ہے لیکن ہم نے تمہیں گھسیٹا بہت ہے۔ سفر ابھی جاری ہے۔ چلتے رہیں گے اور ایک دن تمہیں ملیں گے۔ جیسے ملنے کا حق ہوتا ہے۔
ڈٹ بے غیرتا ڈٹ
خیبر پختونخوا کے غیور محبِ وطن عوام کی منتخب کردہ حکومت کو طاقت کے بل پر ختم کرنا اور عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب وزیرِاعلیٰ کو گرفتار کرنا عوامی مینڈیٹ، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے۔
عوامی حمایت اور اعتماد کے بغیر ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور پائیدار امن قائم کرنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ قیامِ امن طاقت کے بے دریغ استعمال سے نہیں، عوام کے اعتماد، سیاسی استحکام، انصاف اور مؤثر حکمتِ عملی سے قائم ہوتا ہے۔
غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں منتخب حکومت کو ہٹانا، وزیرِاعلیٰ کو گرفتار کرنا اور گورنر راج و ایمرجنسی کے ذریعے عوامی اختیار محدود کرنا ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کے بجائے مزید سیاسی تصادم اور انتشار کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
یاد رکھیں! عوامی مینڈیٹ کو طاقت کے زور پر کچلا جا سکتا ہے، لیکن عوام کے دلوں سے ان کی سیاسی وابستگی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا عزم نہیں نکالا جا سکتا۔
عوام کو مسلسل دیوار سے لگایا جائے، ان کے ووٹ کی توہین کی جائے اور آئینی و جمہوری راستے بند کر دیے جائیں تو اس کے نتائج کسی ایک جماعت یا حکومت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورا سیاسی نظام عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ عوامی مینڈیٹ کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں جسے جب چاہیں پھاڑ کر پھینک دیں۔
یہ ملک کسی فرد، خاندان یا مسلط کردہ رجیم کی جاگیر نہیں۔ پاکستان کروڑوں عوام کا ملک ہے اور یہاں اقتدار کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھ کر نہیں۔
ہم خیبر پختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ اور عوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کا احترام اور سیاسی حقوق کا تحفظ کسی حکمران کا احسان نہیں، بلکہ عوام کا بنیادی حق ہے۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، آئین، جمہوریت اور عوام کے حقِ حکمرانی کے دفاع کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے بل پر اقتدار تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن عوامی اعتماد نہیں۔ جو حکمران عوام کی آواز دبانے اور ان کے مینڈیٹ کو روندنے نکلتے ہیں، انہیں بالآخر تاریخ کے کٹہرے میں جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔
پاکستان کا استحکام جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں ہے، نہ کہ جبر و استبداد، گرفتاریوں اور غیر جمہوری اقدامات میں۔
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
آج یوتھیوں نے دل جیتے ہیں۔ نا کوئی رو رہا ہے۔ نا کوئی افسردہ ہے۔ نا کوئی ہمت ہارنے دل توڑنے والے باتیں کررہا ہے۔ کوئی میلٹ ڈاون نہیں ہے۔ سب کی آنکھیں کھلی اوردشمن کے اندر پیوست ہیں۔ یہی بالکل یہی والا جذبہ چاہیے۔
خوفناک خواجہ، تم اس خطرناک ذہنیت کے ترجمان ہو جس نے بنگلہ دیش بنایا تھا - تم جنرل ایوب، یحییٰ اور ٹکا خان کے اصل جانشین ہو! چغد تم سمجھ نہیں رہے، آفریدی تمہاری نفرت بھری حرکتوں کا انجام بتا رہا ہے! وہ مستقبل کے خطرات کی خبر دے رہا ہے! وہ پاکستان کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے! تم وہ دھشت گرد ہو جو اس دھرتی کو تباہ کر رہے ہو! خدا تمہارا حساب کرے گا! انشاللہ