@BBhuttoZardari بہٹو زرداری صاحب آپ خود بھی فیصلہ کرنے پر قادر نہیں ہیں تو دوسروں کو کیسے اختیار دے سکتے ہیں کہ آپ خود فیصلہ کریں آپ تو غلام ہیں اسٹیبلشمنٹ کے اور غلام کو کسی دوسرے پر ولایت حاصل نہیں ہوتی اختیار دینے کی
@MalikMuaaz0 جس نے جرم کا اقرار کیا ہے ��ہ ��جرم ہے اور جس نے اس کو لانچ کیا ہے وہ بھی مجرم ہے سب کو پھانسی پہ لٹکایا جائے تو پاکستان سکھ کا سانس لے گا
محسن نقوی کے بیان پر ترجمان جےیوآئی کا ردعمل
ہائبرڈ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس کا خالق خود کر رہا ہے۔ ترجمان جےیوآئی
مولانا فضل الرحمن پچھلے دو سال سے اس نظام کی ناکامی کا بار بار کہہ رہے ہیں۔ اسلم غوری
سسٹم کی خرابی اور کمزوری کا تو بچے بچے کو علم ہے ۔ترجمان جے یو آئی
وفاقی وزیر کی اپنی ہی حکومت کیخلاف چارج شیٹ لمحہ فکریہ ہے۔ اسلم غوری
طے یہ کرنا ہے کہ اس سسٹم کے خالق کون اور اسکی خرابی کے ذمہ دار کون ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
ہائبرڈ نظام کے خالق اور اس کا حصہ بننے والے دونوں ملک کو اس مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہیں ۔اسلم غوری
ہائبرڈ نظام نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں ۔ترجمان جےیوآئی
محسن نقوی کا بیان اعتراف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔اسلم غوری
نظام عدل کا کنٹرول، شعائر اسلام کی توہین ، اسمبلیوں کی خرید وفروخت ، دھاندلی زدہ انتخابات، آئین پاکستان میں غیر آئینی ترامیم اس نظام کے سیاہ کارنامے ہیں ۔اسلم غوری
آئین سے ماوراء ہر قدم ملک اور نظام کو تباہی کیطرف دھکیل رہا ہے ۔ترجمان جےیوآئی
جے یو آئی کے خلاف پروپیگنڈہ ہمیں آئین کے تحفظ کی سزا دی جارہی ہے ۔اسلم غوری
قیادت کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کئے جاتے ہیں ۔اسلم غور��
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
@DunyaNews ہم پہ احسان مت جتلاؤ ان خوارج کو ان دہشت گردوں کو تیار کرنے والے ہی آپ ہو آپ نے تیار کیا ہے ہمارے خلاف اور پھر ان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے آپ ہمارے ہی سولجروں کو بھیج دیتے ہو خود کیوں نہیں جاتے جو تیار کرنے والے ہو عام سپاہی کو کیوں بہیجتے ہو آپ کبھی گئے ہیں محاز پر
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، ج��اں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے ��ر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر جوں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے س��نوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے ��اداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
اسلام آباد:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اہم ویڈیو پیغام، یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر جوں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے شاداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صب��، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
آج محسن نقوی صاحب نے جو باتیں کی ھیں وہ 1973 کے آئین کے تحت ان کے لیے گئے حلف سے روگردانی ھے انکو فوری طور اپنی وزارت سے استعفی دے دینا چاھئیے یا وزیراعظم کو فی الفور انکو وزارت سے سبکدوش کردینا چاھئیے
#شہدائےجمعیت_باجوڑ#سالار_امن_مولانا#پیغام_امن_جمعیت#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تاجروں اور صنعتکاروں سے پارلیمانی نظام کی فنڈنگ بند کر کے صدارتی نظام کے لئیے فنڈنگ شروع کرنے کا کہہ دیا۔ ایسے سیاسی یتیموں کی پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام کے لئیے نفرت سمجھ آتی ہے۔
اب فیصلہ میدان میں ہوگا، صرف بیانات میں نہیں۔ جمعیت علماء اسلام اگست میں ملک گیر مشاورتی کنونشنز کے ذریعے حکومت مخالف تحریک کے اگلے مرحلے کا آغاز کر رہی ہے۔ ایوان کی آواز دبانے والے عوامی طاقت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ
#عوام_مولانا_کے_سنگ
#حق_کی_آواز_جمعیت
#نکے_دا_پروپیگنڈا
#شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ
#ذخائر_کے_چور