#Writer| #Political Commentator|#Islamic Scholar|Fearless Bold Against Oppression | For Justice
Truthful Satirical Voice of Truth | Demanding Accountability
آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔
جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔
ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔
اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔
ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔
بے حس قوم کیلئے خوشخبری!
پٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ
پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ، نوٹیفیکیشن
اور محترم یہ تو ہم بھی کہہ چکے ہیں کہ ان دو صوبوں پر جو دہشت گردی مسلط کی گئی ہے اور جتنی دہشتگردی ہورہی ہے سب پنجاب کی مسلط کردہ ہے اس میں ہمیں ذرہ برابر شک نہیں۔۔۔
جو صوبے اپنے خون سے پاکستان بچا رہے ہیں،انہیں پنجاب کےلئے خطرہ کہنا زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے،
لہذا محترمہ بیان واپس لیں،اور خیبر پشتونخوا،بلوچستا کے عوام سےمعافی مانگیں۔
پاکستان کے قیام کے ٹھیک گیارہ سال بعد، انیس سو اٹھاون میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لا لگا دیا۔ جمہوری عمل کا خاتمہ ہوا، دس سال تک وہ حکمران رہا، اور یہ ملک نظریاتی لحاظ سے کمزور ہو گیا، یہ ملک سیاسی لحاظ سے کمزور ہوگیا، یہ ملک اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوا۔
ہم نے پاکستان کا پانی بیچا، تین دریائیں ہم نے ہندوستان کو دے دیں، اور آج بھی ہم پانی کی مشکل سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔ یہ ڈکٹیٹروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مولانا
پاکستان کے قیام کے ٹھیک گیارہ سال بعد، انیس سو اٹھاون میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لا لگا دیا۔ جمہوری عمل کا خاتمہ ہوا، دس سال تک وہ حکمران رہا، اور یہ ملک نظریاتی لحاظ سے کمزور ہو گیا، یہ ملک سیاسی لحاظ سے کمزور ہوگیا، یہ ملک اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوا۔
ہم نے پاکستان کا پانی بیچا، تین دریائیں ہم نے ہندوستان کو دے دیں، اور آج بھی ہم پانی کی مشکل سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔ یہ ڈکٹیٹروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مولانا
ویسے ن لیگیوں کی جہالت کا کوئی ثانی نہیں لیکن اس جاہل نے تو حد کردی جسے دیکھ کر بھی ایک چھوٹی سی سورۃ بھی پڑھنا نہیں آرہی۔
ایک تو یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں
دوسرا کوشش بھی نہیں کرتے