عیدسعیدکی مبارکبادقبول فرمائیں اوریاد رکھیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کےاس مقولےکو:"عید اس کی نہیں جس نےنیالباس پہنا،عیدتواسکی ھےجسکے روزےقبول ھوگئے اورگناہ معاف کردئےگئے،ھمارےلئےآج کادن بھی عید ھےاورکل کادن بھی عیدھےاورھرایسا دن جس میں ھم اللہ کی نافرمانی نہ کریں وہ ھمارےلئےعید ھے"
ھم ماہ رمضان المبارک کو تو الوداع کہ رھے ھیں مگر کوئی سچا مومن اپنے رب کی اطاعت کو کبھی الوداع نہیں کہتا ، بڑے محروم ھیں وہ لوگ جو رمضان کے گزرتے ھی قرآن پاک سے ناطہ توڑ کر مساجد سے بھی رخصت لے لیتے ھیں ، باری تعالی ھم سب کو محرومی سے بچائیں اور اعمال صالحہ پر مداومت نصیب فرمائیں
کرناٹک ھائی کورٹ کا یہ فیصلہ کہ" حجاب اسلام میں لازمی نہیں ھے" نصوص قرآنی کے سراسر خلاف ھے،غالبا جج صاحبان نے مسلم خواتین کی عمومی بے حجابی کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ھے؛اسلئے اب سپریم کورٹ میں جانے سے زیادہ ضروری یہ ھے کہ مسلم معاشرے میں پردے کا عام ماحول بنانے پر محنت کی جائے
انتخابی نتائج سےدلبرداشتہ ھونےکی ضرورت نہیں،فیصلہ خداوندی پرراضی رھنا مومن کی شان ھے،"حضرت عمررض فرماتے ھیں مجھےکوئی پرواہ نہیں مالداری کی حالت میں صبح کروں یافقرکی حالت میں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کونسی حالت میرےلئےبہترھے۔"بہت ممکن ھےانہی نتائج میں خیراور سبق ھو
ملک میں جاری انتخابات کے نتائج عنقریب آنے والے ھیں ، تمام حضرات کو دعاؤں کا اھتمام کرنا چاھئے ، باری تعالی قوم و ملت اور وطن کے لئے مفید اور بہتر ثابت ھونے والے طبقےکو حکمرانی نصیب فرمائیں اورھمارےگناھوں کی وجہ سےظالم بےرحم اورنفرتی ذھن کے حامل حکمراں ٹولےکوھم پر مسلط نہ فرمائیں
हिजाब मुस्लिम महिलाओं का एक बुनियादी अधिकार है जिससे उन्हें वंचित नहीं किया जा सकता। लेकिन कर्नाटक में हिजाब के खिलाफ संघियों की हरकत ने माहौल को इतना तनावपूर्ण बना दिया है कि अगर शरारती तत्वों से सख्ती से नहीं निपटा गया तो यह आग देश की कानून-व्यवस्था के लिए विनाशकारी सिद्ध होगी।
Hijab is a basic right of Muslim women But the embarrassing confrontation of the Sanghis against the hijab in Karnataka,has made the atmosphere so tense, that if the mischievous elements are not dealt with severely, the fire will spread across the country.
#HijabRow
حجاب مسلم خواتین کا وہ بنیادی حق ھے جس سے انہیں محروم نہیں کیا جاسکتا ؛ لیکن کرناٹک میں حجاب کے خلاف سنگھیوں کی شرم انگیز محاذ آرائی نے ماحول کو اتنا کشیدہ کردیا ھے کہ اگر شرارت پسند عناصر سے سختی کے ساتھ نہ نمٹا گیا تو یہ آگ پورے ملک میں پھیل کر امن وامان کےلئےتباہ کن ثابت ھوگی
देश में अगर सरकार,न्यायपालिका और मीडिया स्वतंत्र रूप से काम कर रहे हैं,तो गणतंत्र दिवस मनाया ही जाना चाहिए ; लेकिन अगर आज की तरह देश की एकता के साथ खिलवाड़ करने वाली ताकतें हावी होने लगें तो जश्न मनाने के बजाय लोकतंत्र की रक्षा के लिए गंभीर कदम उठाना ज्यादा जरूरी हो जाता है।
ملک میں اگر حکومت ، عدلیہ اور میڈیا آزادی کے ساتھ دستور ھند کی روشنی میں کام کرنے لگیں تو یوم جمہوریہ پر جشن منانا ھی چاھئے ؛ لیکن اگر آج کی طرح ملکی سالمیت سے کھلواڑ کرنے والی طاقتیں غالب آنے لگیں تو جشن منانے کے بجائے تحفط جمہوریت کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا زیادہ ضروری ھوجاتا ھے
नये साल की शुरुआत जशन और खुशी मनाने का मौका नहीं है बल्कि यह इन्सान को अपना मुहासबा करने और आने वाली जिन्दगी को बेहतर से बेहतर बनाने की दावत देता है।हजरत इबने मसूद फरमाते हैं मैं उस दिन से ज्यादा किसी चीज पर शर्मिन्दा नहीं होता जो मेरी उम्र से कम हो जाऐ और उसमें कोई नेकी ना बढ़े।
نئےسال کاآغازجشن ومسرت اور رقص وسرودکی محفلیں آراستہ کرنےکاموقع نہیں بلکہ یہ خوداحتسابی اورمابقیہ زندگی کو بہترسےبہتراندازمیں گزارنےکی دعوت فکردیتا ھے،حضرت ابن مسعود رض فرماتےھیں:میں اس دن سے زیادہ کسی چیزپرنادم نہیں ھوتاجومیری عمرسےکم ھوجائےاور اسمیں کسی نیک عمل کااضافہ نہ ھوسکے
धर्म के नाम पर अशान्ति फेलाने वालों ओर जुमे की नमाज़ से रोकने वाले शरारती तत्वों को शेर दिल सिद्धू जी का मुंह तोड़ जवाब। जब शासन प्रशासन भी नफरत फैलाने वालों के दबाव में आजाऐ तो देश के जिम्मेदार नागरिक ही आपसी भाईचारा बचाने का काम करते हैं,शुक्रिया सिद्धू जी।
भारती मुसलमान हमेशा से अपने देश और राष्ट्र का वफ़ादार रहा है,पाक गृह मंत्री का भारत के विरुद्ध पाक क्रिकेट टीम की जीत को भारत के मुस्लमानों की जीत बताकर उन्हें बधाई देना अस्वीकार्य है,खेल को खेल तक सीमित रखते हुऐ आपसी सौहार्द को बनाए रखने का प्रयत्न करना चाहिए।
@aajtak@ndtvindia