روسیہ سے دفاعی معاہدے کے بعد افغان وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اب پاکستان افغانستان پر بمباری کی جرات نہیں کرے گا۔ جو لوگ افغان حکومت پر "کافروں کی مدد" کا طعنہ دیتے ہیں، وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ پاکستان کے بیشتر جنگی ہتھیار اور طیارے چینی ساخت کے ہیں۔
🟥مفتی کفایت اللہ صاحب کہتے ہیں:
🔴پاکستان میں علمائے کرام محفوظ نہیں ہیں، جبکہ ہندوستان میں محفوظ ہیں۔ یہاں ایک عالم کی شہادت کے بعد دوسرے کی جنازے کا انتظار ہوتا ہے۔ میں نے شہید کیے گئے علماء کی تعداد گنی ہے جو 106 تک پہنچتی ہے۔ اگر ہندوستان میں علماء محفوظ ہیں اور یہاں نہیں، تو یہ کس بات کا پیغام دیتا ہے؟
🔴 میں ان واقعات کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتا ہوں۔ حکومت کا عجیب طرزِ عمل یہ ہے کہ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو یا اس کا الزام کسی اور پر ڈال دیا جاتا ہے یا ذمہ داری کسی دوسرے گروہ کے سر تھوپ دی جاتی ہے، تاکہ لوگ انہی کے پیچھے لگے رہیں اور اصل قاتل بچ نکلیں۔
🔴 ہمیں اپنی خاموشی توڑنی چاہیے؛ یا خود اس مسئلے پر آواز بلند کریں، یا ان لوگوں کا ساتھ دیں جو اس حوالے سے آواز اٹھا رہے ہیں۔
🔴 حکومت سے کہتا ہوں کہ علمائے کرام کے قتلِ عام کو اب بند کیا جائے۔”
گھوڑے ہمیشہ کھڑے ہو کر سوتے ہیں لیکن وہ صرف لیٹ کر اس وقت سوتے ہیں جب وہ پراعتماد، آباد اور محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ گھوڑا اپنے مالک پر 100 فیصد بھروسہ کرتا ہے۔
آپﷺ نے فرمایا: "جو شخص پرندوں اور جانوروں پر رحم کرتا ہے، اللّٰہ قیامت کے دن اس پر رحم فرماتا ہے"۔
میں ایک افغانی ہوتے ہوئے مجھے عمران خان صاحب کی غیرت پسند ہے۔ آپ دیکھیں کہ دنیا کے سامنے کس طرح غرور کے ساتھ ملاقات کرتا تھا، یہ ابھی جو گڑیا کے بچے حاکم ہیں انہوں نے تو مسلمانوں کی عزت پامال کر دیا۔
پاکستان کے نامور عالمِ دین مولانا منظور احمد مینگل صاحب نے پاکستان کی فوج اور مفتی جامعۃ الرشید کے اِس طرزِ عمل پر شدید تنقید کی ہے، جس کے مطابق یہ دونوں ادارے پاکستان میں ہونے والی ہر شدت پسندی اور جرائم کو افغانستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مولانا منظور احمد مینگل صاحب نے مفتی تقی عثمانی کے بارے میں خوبصورت کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کی حکومت کی تعریف کرتے رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت سی آئی اے کی جاسوس حکومت ہے۔
پاکستان کے ایئر بیسز سے 57 ہزار مرتبہ امریکی طیارے اڑ کر افغانستان کی زمین پر افغان مسلمانوں پر لاکھوں ٹن بارود برسایا گیا۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ افغانوں کے خلاف لاجسٹک اور انٹیلیجنس تعاون بھی کیا۔
نمک حرام وہ نہیں تم ہو
جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ ��یں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔
تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو
#مولانا_فضل_الرحمان
یہ کیسی امریکہ ہے؟ اگر ہماری جنگ بھارت کے ساتھ ہو تو وہ جنگ رکوانے کا کریڈٹ لیتا ہے، لیکن اگر ہماری جنگ افغانستان کے ساتھ ہو تو وہ کہتا ہے کہ پاکستان درست راستے پر ہے اور اسے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس طرح کا رویہ ان کی (امریکہ اور پاکستانی فوجی نظام کی) بدقسمتی اور بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
@Ulame_Deoband@AsadMahmoodJUI
🚨 #عاجل
وہ پاکستانی پائلٹ جس نے کابل میں ایک نشے کے عادی افراد کے ہسپتال پر بمباری کی تھی، مارا گیا۔
یہ پائلٹ #حسین_اقبال تھا، جسے لاہور کے فیصل ٹاؤن علاقے میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا۔
معلومات کے مطابق اس کے قتل کے بعد فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اس کی لاش کو قریبی فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اب تک اس پائلٹ حسین اقبال کے قتل کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔
وزیراعلی پشتونخوا سہیل آفریدی کا عظیم اجتماع عام سے خطاب
آج بھی انگریزوں کے غلام ہم پر مسلط ہیں
ہم پہلے بھی آزادی نہیں تھے اور آج بھی آزاد نہیں ہے
یہ لوگ اس سے ق��ل انگریزوں کی دلالی کرتے اور آج امریکہ میں ٹرمپ کو سیلوٹ کرتا ہے۔
میں اس وزیراعظم کو کسی صورت میں نہیں مانتا ہوں۔
فوجی رژیم سے: افغانستان میں ٹی ٹی پی کو مت تلاش کریں، نہ ہی وہ افغانستان میں موجود ہے۔ یہ وزیرستان کا بازار ہے جو اس وقت ٹی ٹی پی کے مجاہدین کے قبضے میں ہے۔
لہٰذا کوشش کریں کہ خود کو سمجھیں اور حقائق بیان کریں، ورنہ منفی پروپیگنڈہ آپ کو تباہ کر دے گا
میں اپنی طرف سے پاکستانی عوام کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی عبادات اور یہ مشکل حالات میں گزاری گئی زندگی قبول فرمائے۔
ان شاء اللہ، آپ بہت جلد اس غلام حکومت کے شر سے نجات حاصل کریں گے، بس تھوڑا سا صبر اور مزاحمت کی ضرورت ہے۔
🔴 آپ پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر کی منافقت دیکھیں؛ جب پاکستانی فوجی رجیم نے کابل میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے ہسپتال پر حملہ کیا تو فوراً اعلان کیا کہ ہم نے افغانستان میں ڈرون بنانے کی فیکٹری کو نشانہ بنایا ہے، مگر اب ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ افغان حکومت کو ڈرون بھارت نے دیے ہیں۔
کیا کوئی انسان اتنا احمق ہو سکتا ہے؟
جنگ بندی کے باوجود پاکستانی فوجی رجیم نے ہماری ایک افغان بہن ڈاکٹر اور اس کے گود میں موجود بچے کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔
اللہ کی قسم ہے ہم ایک ایک کا حساب لیں گے۔