شہباز شریف صاحب جب آپ کے ایک ٹویٹ سے پوری دنیا کی مارکیٹ کریش ہوسکتی ہے، آپ کا ٹویٹ پوری دنیا کے میڈیا کیلئے ہیڈ لائن بن جاتی ہے تو یہی موقع ہے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کیلئے بھی کوشش کریں، یہ مواقع بار بار نہیں آتے، لیکن موقع سے فائدہ اٹھا کر ہماری غیرت سے یہ بدنما داغ آپ ہٹا سکتے ہیں، غیرت کا تقاضا ہے کہ اور کچھ نہیں تو قوم کی بیٹی رہا کروادیں، پھر دیکھیں میرا رب آپ کو کیسے اور بلندیوں کے مقام تک پہنچاتا ہے، لیکن اتنا سب ہونے کے باوجود اگر آپ کچھ نہیں کرسکتے تو پھر خیر کی امید کیسے کی جائے۔۔
#RelaseAafia
محترم مولانا فضل الرحمان صاحب کا ہمارے گھر تشریف لانا ہمارے لیے باعثِ مسرت اور اعزاز رہا۔
ان کے ساتھ بیٹھ کر نہایت خوشگوار اور بامعنی گفتگو کا موقع ملا۔
اس خوبصورت ملاقات پر ہم مولانا صاحب کے بے حد مشکور ہیں۔
@MoulanaOfficial#ShahidAfridi#MaulanaFazlurRehman#Pakistan
کل اسلام آباد میں واپس آرہا تھا تو روڈ پہ مالٹے اور کیلوکا ایک سٹال دیکھا، میں اکثر فروٹ ایسے لوگوں سے ہی خریدتا ہوں۔ بہرحال بائیکل سائیڈ پہ کھڑی کی تونیچے دیکھا ایک بچی نماز پڑھنے میں مصروف ہے۔ میں انتظار کرتا رہا بچی نے نماز پڑھا اور روڈ کی طرف اگئی۔ میں نے کہا کہ مالٹے کتنے کے درجن لگائے ہیں تو اس نے کہا کہ 400 روپے ہے، پہلے میں نے ادھا درجن لیا لیکن پھر اس بچی کی معصومیت دیکھ کر پورا درجن لے لیا۔ بچی سے پوچھا کہ ابو کیا کرتے ہیں تو بتانے لگی کہ وہ فوت ہوچکے ہیں اور ہم گولڑہ رہتے ہیں ہم چار بہنیں ہیں اور تین چھوٹے بھائی ہیں۔ پہلے امی یہ بیچتی تھی اب وہ بیمار ہے میں آرہی ہوں۔ عمر بچی کی زیادہ سے زیادی 16 سے 17 سال ہوگی۔
میں نے کہا کہ بیٹا گھر کا گزارا کیسے ہوتا ہے تو کہنے لگی کہ انکل بس یہاں سے ہزار یا 12 سو بچ جاتے ہیں اس سے ۔ میں نے پانچ سو کا نوٹ دیا اور چلنے لگا تو بچی نے کہا کہ انکل سو روپے لیتے جاو امی نے منع کیا ہے کہ کسی سے زیادہ پیسے نہیں لینے میں نے کہا کہ بیٹا کاش ہر غریب آپ کی طرح خوددار ہو۔ ہمارے معاشرے میں تو امیر غریب کا مال کھانے کے درپے ہیں اور آپ یتیم ہوکر بھی سو روپے لینے سے انکاری ہے۔ بائیک چلاتے ہوئے سوچنے لگا کہ یامیرے رب ہمارے بچوں پہ ہمارا سایہ قائم رکھ ، یتیم کی زندگی واقعی بہت مشکل ہوتی ہے۔
کوئی بھی دوست کشمیر ہائی پہ جائے تو آرامکو پیٹرول پمپ نزد ایچ 13 بریک لگا کر اپنی ذکواة اس باہمت بچی کو اپنے ہاتھوں سے دے سکتے ہیں یا پھل خرید سکتے ہیں۔
میں چونکہ اسی علاقہ میں رہتا ہوں، اس لئے اپنے دوسرے محلہ داروں کو بھی کہا ہے کہ فروٹ اپ لوگ ویسے لیتے ہیں آج سے اس بچی سے لیا کریں تاکہ یہ وقت پہ گھر جاسکے۔ آپ دوست بھی ایسی ہی مستحق سے لیا کریں تاکہ ان کا چولہا جلتا رہے۔
آج دس ہونے والے ہیں سکردو میں مساجد اسکولز اور دو فوجی جوانوں کو جلائے ہوئے
نا کسی پہ کوئی بیان آیا ریاست کا۔۔۔نا کوئی گرفتار ہوا۔۔سارے انتشاری شیعہ تھے
آپ اندازہ کریں ریاست کس قدر ان کالے منہ والوں کے سامنے بے بس ہے
جے اگر احتجاج والے سُنی ہوتے تو ملنے ہی نیی تھے
یہ ہے وہ سارا نام نہاد اسلام پسند نرا گند طبقہ ۔ جو ہر وقت وحدت امت کا راگ آلاپتے ہیں ۔ ۔انکی وحدت ایران ہے اور انکی امت اصل میں ایک ہی ہے جو کم از کم اہلسنت و اہلحدیث سے مختلف ضرور ہے ۔ ۔یہ قتل کریں دھمکیاں دیں فتوے لگائیں پھر بھی یہ تک. . فیری نہیں یہ سکردو میں آگ لگائیں وطن جلائیں سنگین نوعیت کے فتوے دیں یہ نا فرقہ واریت ہے نا متشدد فاشسٹ رویہ ہے ۔ ان نام نہاد دین داروں کے علاوہ کوئی اہلحدیث دیوبندی یا بریلوی عالم ایسی بات کہ کر بچا رہ سکتا ہے؟؟؟؟ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہم اعتدال سے موقف رکھیں ایران پر حملوں کی مذمت کرنے کے بعد سعودیہ پر ایران کے حملے کہ مذمت کریں اور باقی اسلامی ملکوں کی حمایت کریں تو ہم امریکہ اور از را ئل کے ایجنٹ ہیں باقی سارے اسلامی ممالک انکے نزدیک غیر مسلم ہی ہیں ۔ ۔یہ اپنے ملک کی خارجہ پالیسی معاہدات کو روندنے کی بات کریں یہ پھر بھی ایجنٹ نہیں حقیقت یہی ہے کہ ہر اسلامی ملک کے دشمن اصلی ۔ ۔ی ہ ودی ایجنٹ یہی ہیں انکو یاد رکھیں اور ریاست بھی غور کر لے کون فرقہ واریت پھیلاتا ؟کون تک فیر ی ہے ؟؟جماعت فقط نام اسلامی کا نیا چہرہ اور نیا فتوی ملاحظہ کر لیں۔۔انکے جعلی فتوے کا جواب اتنا ہی کافی جو اسوقت سعودیہ اور پاکستان کے خلاف بات کرے وہی اصلی امریکی و یہو ۔ دی ایجنٹ ہے انکے ساتھ میرا رویہ ہمیشہ سے اعتدال والا ہے میری وال پر میرے تمام اسٹیٹس موھود ہیں لیکن انکی گالی برگیڈ کی مستقل ہرزہ سرائی مجھے ایڈمنز نے دکھلائی اور بتلائی ان پانچ سو ووٹ فی حلقے والی پارٹی کو جب آئینہ دکھایا تو انکو کافی تکلیف ہونی ہے اس لئے عرض ہے اتنا کریں جتنا بعد میں برداشت کر سکیں ۔ ۔انکے فتووں اور ریاست کو دھمکیوں کے بعد ہم یہی کہیں گے کہ ماشاءاللہ سب وطن دشمن اسلام دشمن حقیقی صہیونی ایجنٹ ایک جگہ ایک موقف پر متفق ہوچکے ہیں ۔ ۔ لیمیزاللہ الخبیث من الطیب
بحرین میں شیعہ اکثریت ہے، مگر وہاں قومی اداروں کو آگ نہیں لگائی گئی۔
آذربائیجان میں بھی شیعہ اکثریت ہے، مگر ریاست کے خلاف ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی۔
سعودی عرب کے قطیف اور القسیم جیسے علاقوں میں شیعہ بڑی تعداد میں ہیں، لیکن وہاں سڑکیں بند کر کے ملک کو مفلوج نہیں کیا گیا۔
کویت میں بھی نمایاں شیعہ آبادی ہے، مگر قومی املاک کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
تو پھر سوال بنتا ہے:
اگر یہ سب جگہیں سوگ کو قابو میں رکھ سکتی ہیں تو یہاں کیوں ہر بار جذبات کے نام پر انتشار کھڑا کیا جاتا ہے؟
سوگ نجی اور پُرامن بھی ہو سکتا ہے۔ احتجاج آئینی اور قانونی بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن اسکول جلانا، سفارتی مقامات پر حملہ کرنا، سڑکیں بلاک کرنا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا سوگ نہیں، سیدھا قانون شکنی ہے۔
ملک کسی ایک فرقے کی جاگیر نہیں۔
جو قانون توڑے گا، اسے قانون ہی روکے گا۔
ریاست نظم و ضبط سے چلتی ہے، ہجوم سے نہیں۔
جو قومی املاک کو نقصان پہنچانے یا انتشار کی کوشش کر رہا ہے اسے سیدھا ٹھوکنا چاہئیے۔ پاکستان ذندہ باد 🇵🇰
کمیل احمد معاویہ
جاز/ زونگ/ ٹیلی نار / یوفون سب کے سب بکواس ترین نیٹورک اتنے مہنگے پیکجز انٹرنیٹ سپیڈ لائیو سٹریمنگ نا ہونے کے برابر کیا ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے یہ نہیں؟
مہنگا پیکج انٹرنیٹ سپیڈ صفر
معزز صارفین آئیں سب مل کر ان چور کمپنیوں کے خلاف آواز اٹھائیں
@iHafizHamdullah اللہ تعالیٰ ہر اسلامی سرزمین کی حفاظت فرمائے اور اسلامی بھائی چارے کی توفیق عطا فرمائے اور کافروں اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کی آنکھوں کو خاک آلود فرمائے
کشیدگی کسی کی مفاد میں نہیں۔جنگ اگر مزید بھڑکی تو نہ کابل جیتے گا نہ اسلام آباد۔ہار پورے خطے کی ہوگی۔اور جیت مورچے میں بیٹھے دشمن کی ہوگی۔وہ دشمن ٹرائیکا ہے۔جو بھارت،امریکہ،از را ئیل،، سے عبارت ہے۔
آخر تمہیں کیا تکلیف ہے جب ہم اپنے بچوں کو نماز روزہ سکھاتے ہیں ؟
کیوں تمہیں چڑ ہے جب ہمارے بچے رمضان میں اپنے گھروں کو سجاتے ہیں؟
آخر تمہیں ہمارے بچوں کی زبان پر جاری لفظ اللہ سے کیوں درد ہوتا ہے ؟
ہم تمہیں اپنی نسل کو خراب کرنے نہیں دیں گے دین بیزار سیکولرازم کے نام پر -
ترک صدر رجب طیب اردوان کا سیکولر مافیا کو پیغام !
دنیا نے ایک چھوٹے بندر کی تصویر پر حیرت ظاہر کی،
جو اپنی ماں کے مر جانے کے بعد ایک نرم کھلونے سے چمٹ کر بیٹھا تھا۔
اس کی چھوٹی جان میں غم اور تنہائی کی اتنی شدت تھی کہ ہر دھڑکن ایک خاموش چیخ بن گئی۔ 💔
مگر اسی طرح، انسانی ننھے بچے بھی ہیں،
جنہوں نے اپنے والدین، اپنی محبت، اپنی حفاظت کھو دی۔
ان کے پاس بس ایک کھلونا یا یادیں رہ گئی ہیں،
اور وہ انہی میں اپنے سب درد سمیٹ لیتے ہیں۔
وہ تنہا ہیں، خاموش ہیں،