@azizabadi پیپلز پارٹی کا نام لیں جناب۔
مقامی پولیس نے پیپلز پارٹی کی ہدایت پر یہ سب کچھ کیا اور کرتی آرہی ہے مگر آپ لوگ جان بوجھ کر انکو مخاطب نہیں کرتے جبکہ ایم کیو ایم (پ) پر چیخ چیخ کر اپنے پھیپھڑے پھاڑ تے ہیں،جو کل تک آپکے دیرینہ ساتھی اور سینئر قیادت ہوا کرتی تھی۔
بارہا ارباب اختیار کی توجہ اس طرف دلوائی ہے کہ کے بینظیر انکم سپورٹ اسکیم سے پیپلز پارٹی نے کوٹ مار کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے۔
لیکن ارباب اختیار بلیک میلنگ کا شکار ہیں۔
۲۰۰۸ کے بعد پیپلز پارٹی مفاہمت کی سیاست کا ڈھونگ رچاتی رہی، مگر دوسری جانب ایم کیو ایم اور اس کے کارکنوں کے خلاف نہ صرف مسلسل میڈیا ٹرائل میں کردار ادا کرتی رہی بلکہ سندھ کی سرکاری مشینری، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث بھی کرتی رہی۔ بلدیہ فیکٹری کیس میں جھوٹی JITs کے ذریعے ایم کیو ایم کے خلاف مقدمات بنوائے گئے، بے گناہ ساتھیوں کو پابندِ سلاسل رکھا گیا اور درجنوں خاندانوں کو اذیت اور کرب میں مبتلا کیا گیا۔
الحمدللہ، آج انہی عدالتوں سے بیشتر ساتھی باعزت بری ہو رہے ہیں، اور یہ حقیقت پیپلز پارٹی اور مہاجر دشمن عناصر کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے کارکنوں کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کریں اور PPP کے جہلا کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت انگیز، من گھڑت اور گھٹیا بکواسیات کا بروقت اور مؤثر جواب دیں۔ خاموشی پروپیگنڈے کو تقویت دیتی ہے، جبکہ حقائق کا جواب ان کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کرتا ہے۔
#پیپلزپارٹی_چور_ہے
She fought against Military dictatorship?
What a farce! The feudal racist queen awarded Tamgha e Jamhoriyet tu General Hamid Gul, her own daddy Bhutto calld Gen. Ayub Daddy 😂
کہتے ہیں کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اسی طرح سے کسی بھی قسم کے تعلقات ہوں روابط ہوں اسے چلانے، سنوارنے اور قائم رکھنے کے لیے دونوں فریقوں کی برابر کی کوشش، سمجھ بوجھ اور قربانی درکار ہوتی ہے۔ اگر ایک شخص پورا دل لگا رہا ہو اور دوسرا بالکل کاہل یا لاپرواہ ہو تو تعلق دیر تک نہیں چل سکتا بالکل ویسے ہی جیسے ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی۔
لندن میں موجود قیادت معلوم نہیں کیوں اس چھوٹی سی بات کو سمجھ نہیں پا رہی ہے۔
2022 سے تحریک انصاف سے تعلقات کا معاملہ ہو اس کی مثال سامنے ہے، آپ نے انتہا سے زیادہ ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا لیکن نتیجے میں کیا پایا ؟
آج پھر کشمیر کمیٹی کے معاملات ہیں آ پ کے سامنے ان کیلئے بھی دامے درمے قدمے سخنے بیان پہ بیان داغے جارہے ہیں لیکن سامنے سے کشمیر کمیٹی کی جانب سے ٹھنڈ پروگرام ہے۔
آپ کا ووٹ بنک ہمدرد سندھ کے شہری علاقوں میں مقیم ہے اور اس وقت کسی محکوم سے بھی زیادہ بدتر حالات کا شکار ہے۔ وہ یاس بھری نگاہوں سے آپ کو دیکھ رہا ہے کہ بجلی پانی اور گیس کی قلت کر کے پیپلز پارٹی نے شہر کراچی کو کربلا بنا رکھا ہے۔ شاید کوئی موثر آواز اس کے لئے بھی اٹھائی جائیگی لیکن شاید ان کیلئے اب وقت نکالنا ممکن نہیں۔
افسوس صد افسوس
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب سے الطاف حسین کا مطالبہ
#11JuneAltafHai
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج مورخہ 11جون 2026ء بروز جمعرات APMSO (آل پاکستان متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن) کا 48 واں یوم تاسیس پرامن طورپر پورے پاکستان میں منایاجارہا ہے۔اس سلسلے میں کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ کی ایک عمارت کی دوسری منزل پرواقع سینئر صحافی، یوٹیوبر اوروی لاگرتحسین عباسی کے دفتر میں ایک چھوٹی سی تقریب کا انعقاد کیا جارہاتھا کہ کراچی پولیس کی بڑی نفری نے وہاں چھاپہ مارکرایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر اوربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ اورتحسین عباسی سمیت دس کارکنوں کوگرفتارکرلیاجوآئین وقانون کے سراسر منافی ہے۔
آپ جناب فیلڈمارشل عاصم منیرسے مطالبہ ہے کہ فی الفورمداخلت کرکے بزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ سمیت تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی کے احکامات جاری کریں اورکراچی سمیت سندھ بھر کی پولیس کواحکامات صادرفرمائیں کہ وہ بند کمروں میں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے والے ایم کیوایم کے پرامن کارکنوں اورہمدردوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ کریں۔
الطاف حسین
11جون 2026ء
گارمنٹس بنانے والی ہر فیکٹری لاک رکھی جاتی ہے کیونکہ ملازم گارمنٹس چوری کرتے ہیں اپنے کپڑوں کے نیچے شرٹ پہن کر لے جاتے ہیں ۔
اس دن ہوا یہ تھا کہ گارڈ باہر سے دروازہ لاک کرنے کے بعد کہیں دور چلا گیا
اگ لگی تو ورکرز کے لیے کوئی باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا
ایمرجنسی ایگزٹ اور اگ بجھانے کا انتظام فیکٹری کے اندر نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی مقدمہ فیکٹری کے مالک پر بنتا تھا
لیکن ان دنوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مابین تعلقات بہت بہتر تھے اور اسٹیبلشمنٹ 2013 کا الیکشن مینج کر رہی تھی الطاف حسین کو پیپلز پارٹی سے دور کرنا تھا ۔
لہذا مالک کو بلیک میل کیا گیا کہ اگر تم بھتا کا بیان الطاف حسین کے خلاف نہیں دو گے تو ہم تم پر مقدمہ دائر کر دیں گے
جس قدر بھتہ کی مقدار بتائی گئی اتنا تو اس فیکٹری کا ایک سال کا بزنس والیوم بھی نہیں تھا
شرافت رانا
کاپیڈ
اڑتالیسویں یومِ تاسیس پر اے پی ایم ایس او سے وابستہ نوجوانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ طلبہ سیاست کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ قومی ترقی، تعلیم کے معیار میں بہتری اور سماجی ہم آہنگی ہے۔ موجودہ دور میں جہاں نوجوان ڈیجیٹل میڈیا، تعلیم اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اے پی ایم ایس او جیسے پلیٹ فارمز کو جدید مسائل جیسے بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے
الطاف حسین کے الفاظ میں یہ تنظیم مظلوموں کی آواز بنی۔ آج اس کا یومِ تاسیس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جدوجہد جاری رکھنی ہے، مگر آئین اور قانون کے دائرے میں۔ نوجوان نسل کو متحد ہو کر پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے کام کرنا چاہیے۔
اے پی ایم ایس او زندہ باد
مہاجر یکجہتی زندہ باد
#11JuneAltafHai
لوگ سمجھ رہے ہیں کہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم کو پھنسا کر سندھ رینجرز نے صرف تحریک انصاف کو فائدہ پہنچایا تھا، نہیں جناب سب سے بڑی بینیفشری #پیپلز_پارٹی_چور_ہے بن کر سامنے آئی، بنا کسی اپوزیشن کے پچھلے بارہ برس سندھ کو بیدردی کے ساتھ لوٹا گیا، رینجرز سندھ پولیس بنی زرداری فورس کی طرح ایک ایک مہاجر کو پکڑ کر کر اس نے معاملے کے تحت بیدردی سے تشدد کرتی رہی۔
آج ہر مہاجر سمیت پاکستان کے باشعور طبقے کو رینجرز کی اس جھوٹی جے آئی ٹی کو ضرور یاد کرنا چاہئے جو رضوان قریشی نامی کسی ایم کیو ایم کے کارکن کی تھی اور بلدیہ فیکٹری آگ کے ڈھائی سال بعد عدالت میں پیش کی گئی۔ اور رینجرز کبھی کسی پیشی میں رضوان قریشی جیسے افسانوی کردار کو عدالت پیش نا کر سکی۔
@OfficialDGISPR
بلدیہ فیکٹری کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے MQMکے کارکنوں کا باعزت بری ہونا ثابت کرتا ہے کہ ایم کیو ایم پر یہ الزام ایک گہری سازش کا حصہ تھا۔ MQM کل بھی بے گناہ تھی آج بھی بے گناہ ہے، اصل مجرم وہ ہیں جو MQM کے خلاف سازشیں تیار کرتے ہیں۔ سازشیں کرنے والے آج قوم سے معافی مانگیں
یہ ایم کیو ایم کا نہیں یہ اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس ہے۔ عمومی طور پر سیاسی جماعتوں سے طلبا تنظیمیں وجود میں آتی ہیں اور ذیلی تنظیمیں کہلاتی ہیں۔ لیکن اے پی ایم ایس او کے ضمن میں یہ معاملہ الٹ ہے۔
#11JuneAltafHai وہ تاریخی دن ہے جس دن وہ طلبہ تحریک کا سنگ بنیاد @AltafHussain_90 نے رکھا جس نے عروس البلاد شہر کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔
آج اس عظیم دن کے موقعے پر میں مہاجر قوم اور اس کے متفقہ قائد الطاف حسین بھائی کو کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو متحد رکھے آمین
یہ ہے وہ مطالبہ جو آج ہر مہاجر کو کرنا چاہئے۔
یہ وہ لٹمس ٹیسٹ ہے جو آپ کو بتائےگا کے کون سچ ہے اور کون حق ہے اور جو اس مطالبے کو کرنے پہلوتہی اختیار کرے گا وہ کمپرومائزڈ ہے۔
ساری کہانی شروع ہی اس رینجرز کی بنائی جے آئی ٹی رپورٹ سے ہوئی تھی جو رضوان نامی کارکن کی تھی۔
#مہاجر_سول_سوسائٹی
#بلدیہ_فیکٹری
بلدیہ فیکٹری کو جلانے کا الزام بھی بالآخر ویسے ہی جھوٹا ثابت ہوا جیسے جناح پور، ٹارچر سیلز، را کی ایجنٹی، حکیم سعید، شاہد حامد کیس، نائن زیرو چھاپہ اور دیگر کئی کیسز جھوٹے ہی ثابت ہوۓ..
اس ملک میں سب سے آسان کام الزام لگانا،. سیاسی عداوت کو سرکاری سرپرستی میں نکالنا وغیرہ ہیں.
جن جے آئ ٹیز کو حرف آخر سمجھا جاتا رہا ہے اب انکا کردار بچا ہی کیا ہے..
پہلے دن سے یہ بات کہتا آیا کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ کو صرف سیاسی آپریشن کی وجہ. بنانے کے لئے استعمال کیا گیا، جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں نے اس سانحے کو اپنی سیاست چمکانے لئے استعمال کیا اور پراپیگنڈا کا انتہا کردی گئی...
ایک فیکٹری کو اس طرح دانستہ جلادینا کسی طور اتنا آسان اور ممکن نہ تھا لیکن قربان جائیے اس نسلی عصبیت و نفرت کا کس طرح پورے واقعہ کو صرف ایک سیاسی جماعت اور لسانی اکائی کے خلاف ایک منظم آپریشن کے لئے استعمال کیا گیا..
کتنے لوگوں کو جیو نیوز کے اس وقت کے نیوز کلپس یاد ہیں جن میں ابتدائی سی سی ٹی وئ فوٹیجز دکھائی جہاں نہ تو کوئ آگ لگاتا دکھائی دیا نہ کوئی مشکوک سرگرمی دکھائی دی. خبرنامے میں یہ بھی بتایا گیا کہ فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں. جن مین سے کچھ جیو نیوز نے حاصل کیں.
سوال یہ ہے کہ اگر واقعی آگ لگوائی گئی تھی تو اس سارے معاملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں ریلیز نہیں کی گئی؟؟
کیوں صرف الزام پر الزام لگایا جاتا رہا؟
پوسٹ کے ساتھ جیو نیوز کی ایک بلیٹین شامل ہے جسے غور سے دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ یہ کسی طور ایک دہشتگردی نہیں بلکہ ایک صنعتی حادثہ تھا.
کیا اب مخالفین باضابطہ کوئ معافی مانگیں گے؟؟ کیا وہ. لوگ جو جھٹ سے بلدیہ فیکٹری کا الزام لگاتے تھے اب اپنا منہ بند رکھینگے؟؟
ایک سیاسی جماعت کو کراچی میں لانے کے لئے اتنا بڑا بہتان سانحہ بلدیہ فیکڑی کی شکل میں ایم کیو ایم پر لگایا گیا اور جس پر جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
کیا پاکستان کے ارباب اختیار اور سپریم کورٹ ان تمام لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائینگے کہ جن کیوجہ سے ایم کیو ایم اور بالخصوص قائد تحریک الطاف حسین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا؟
کیا میڈیا معافی کا بیان چلائے گا؟
کیا سیاسی جماعتیں معافی مانگے گی جو صبح شام ایم کیو ایم کی ہرزہ سرائی کرتے رہتے تھے؟
کیا سوشل میڈیا انفلوئنسرز معافی مانگے گے؟
#LiftBanOnAltafHussain #MQM
11th June 1978 was the day when QT Altaf Hussain laid the foundation for the injustices carried out by those people who don’t want to see Mohajirs in every aspect of life.
#11JuneAltafHai