نوبل امن انعام: طریقہ کار اور معیار
نوبل امن انعام دنیا کا سب سے معزز اور معتبر ایوارڈ سمجھا جاتا ہے، جو ان افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے عالمی سطح پر قیامِ امن کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ ہر سال 1 فروری تک نامزدگیوں کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔نوبل کمیٹی نامزد شدہ افراد اور اداروں کی خدمات اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے۔اپریل تک ایک مختصر فہرست تیار کی جاتی ہے، جس کے بعد مزید تحقیقات اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔
یہ انعام سویڈش سائنسدان الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق 1901 سے ہر سال دیا جا رہا ہے۔ دیگر نوبل انعامات کے برعکس، نوبل امن انعام ناروے کی نوبل کمیٹی کی طرف سے دیا جاتا ہے۔
الفریڈ نوبل، جو ڈائنامائٹ کے موجد تھے، اپنی زندگی کے آخری ایام میں یہ سوچنے لگے کہ ان کی ایجادات جنگوں میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ امن، سائنس، ادب اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی فیصلے کی بنیاد پر 1901 میں پہلی بار نوبل امن انعام دیا گیا۔
نامزدگی کا طریقہ کار
نوبل امن انعام کے لیے کسی بھی شخص یا ادارے کو براہِ راست درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوتی، بلکہ مخصوص افراد یا ادارے ہی امیدوار نامزد کر سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم اور پارلیمانی اراکین
بین الاقوامی عدالتوں کے ججز
یونیورسٹی کے پروفیسرز جو قانون، تاریخ، فلسفہ، سماجیات یا مذہب کے شعبے س�� تعلق رکھتے ہوں
امن اور انسانی حقوق کے شعبے میں کام کرنے والی نمایاں تنظیمیں
سابق نوبل انعام یافتگان
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں اور وکلاء سے گفتگو۔
پوری پارٹی کو ہدایت کرتا ہوں کہ 8 فروری کو یوم سیاہ منایا جائے۔ اس کی تیاریاں آج سے ہی شروع کی جائیں۔ جس ش��ص نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان اور الیکشن چھیننے کی کوشش کی وہ تاریخ کے تاریک قبرستان میں گم ��ے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت بھی کل ختم ہو رہی ہے۔ اگر آرٹیکل6 اس ملک میں کسی پر لگنا چاہیے تو وہ سکندر سلطان راجہ ہے ۔ اس نے عوام کے مینڈیٹ کو چوری کیا اور قاضی فائز عیسی نے اس انتخابی فراڈ کو تحفظ فراہم کیا۔
ہمارا مقصد پاکستان میں شفاف انتخابات،آئین اور جمہوریت کی بحالی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت بحال ہو اور قانون کی حکمرانی واپس آئے ۔ملک میں معطل بنیادی انسانی حقوق دوبارہ بحال ہوں۔
سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونا قابل مذمت ہے۔ اگر ہاؤس اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتا تو میں یہ کہنے میں مکمل حق بجانب ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت، آئین اور قانون کا مکمل جنازہ نکل چکا ہے۔ عدلیہ ، پولیس ، ایجنسیوں، ایف آئی اے سب کو اپنے اصل کاموں سے ہٹا کر صرف اور صرف تحریک انصاف کو کچلنے پر لگا دیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک آمر کا حکم ہی ملک میں قانون ہے، جبکہ آئین اور منتخب نمائندوں کی کوئی وقعت نہیں رہ گئی ۔
انصاف کی فراہمی کسی بھی مملکت کو چلانے کے لئے بنیادی تقاضہ ہوتا ہے ۔ مگر یہاں 26 ویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے ہیں ۔پاکستان کی اعلی ترین عدالت کو نگیں کر دیا گیا ہے اور کورٹ پیکنگ( ججز کی تعداد میں اضافہ ) کی جا رہی ہے۔ صرف مجھے سزا دینے پر ججز کو نوازا جا رہا ہے اور میرٹ کی دھجیاں بکھیرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں انکا تقرر کیا گیا ہے۔
قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں انصاف کا بالکل قتل عام کر کہ رکھ دیا تھا ۔ اس کے بعد عدلیہ سے انصاف کی توقع ختم ہو چکی ہے۔ ہمارا مطالب�� ہے کہ سپریم کورٹ بنیادی شہری اور انسانی حقوق کا دفاع کرے۔ سویلین کے ملٹری ٹرائل کی بین الاقوامی اور ملکی قوانین میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ 26 نومبر اور نو مئی کے واقعات کی جوڈیشل کمیشن کے ذریع آزاد انکوائری کروائی جائے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان واقعات کا ماسٹر مائنڈ کون ہے۔ ��ہ وہی ہیں جنہوں نے نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی ہے۔
حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی، ماسوائے اس کے کہ وہ خود اس واقع میں شامل ہے۔ میں نے اسد قیصر اور عمر ایوب کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کر کے انہیں مذاکراتی عمل اور ہماری سیاسی پوزیشن سے متعلق اعتماد میں لیا جائے۔۔۔
فارم 47 کے تحت وجود میں آنے والی حکومت عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتی۔ پورے پاکستان میں بلوچستان ماڈل نافذ کر دیا گیا ہے ۔ جب تک بلوچستان میں منتخب لوگوں کی حکومت نہیں آئے گی حالات پرسکون نہیں ہوں گے۔ بلوچستان م��ں ریاستی ظلم قابل مذمت ہے۔ عوامی مسائل کا حل کبھی بھی بندوق اور فوج نہیں ہوتا، یہی معاملہ اب باقی ماندہ ملک کا بھی ہے۔
مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے القادر جیسے جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ پاکستان میں جنہوں نے اربوں روپے چوری کئے وہی حکمران بن گئے ہیں صرف اس لیے کہ انہوں نے ڈیل کی۔ نواز شریف کے بیٹے نے نو ارب کا فلیٹ ملک ریاض کو 18 ارب روپے میں بیچا۔ سوال تو یہ ہے کہ نواز شریف کے بیٹے کے پاس نو ارب روپے کہاں سے آئے؟ پانامہ میں ان سے جو رسیدیں مانگی گئیں وہ آج تک نہیں دی گئیں۔ قاضی فائز عیسی کے ساتھ مل کر حدیبیہ پیپر ملز میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ معاف کروائی گئی۔ نیب ترامیم بحال کر کے قاضی فائز عیسی نے میوچل لیگل اسسٹنس کی قانونی حیثیت کو ختم کیا کیونکہ وہ خود اس کے بینیفیشری تھے۔ قاضی فائز عیسی کی لندن میں جو پراپرٹیز ہیں اس کا انہوں نے حساب نہیں دیا۔ نواز شریف کے پاس نو ارب روپیہ کہاں سے آیا اس کا ہم حساب مانگتے ہیں۔ یہ مافیا ایک دوسرے کی کرپشن بچانے کے لیے ہمیشہ ایک ہو جاتا ہے۔ یہی پاکستان کے سٹیٹس کو او�� تحریک انصاف میں فرق ہے۔ مجھے بھی ڈیل آفر ہوئی مگر جب میں نے کوئی چوری ہی نہیں کی تو سمجھوتا کیوں کروں؟ میں آخری دم تک ڈیل نہیں کروں گا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو
“میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں نافذ کیے گئے تمام مارشل لأ یعنی ایوب خان ، یحیٰی خان ، ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لا دیکھے ہیں۔ یحیٰی خان اور ضیاءالحق کا مارشل لا پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لاء تھا جس میں جمہوریت کو بالکل روند دیا گیا تھا۔ مشرف اس حوالے سے قدرے لبرل تھا۔ جو کچھ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے اسکا موازنہ صرف اور صرف یحیٰی خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے۔ م��رشل لأ میں سب سے پہلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جاتا ہے تاکہ آمر کی غلط کاریوں پر کوئی بھی آواز بلند کرنے والا نہ ہو ۔ آزاد میڈیا چونکہ تنقید کرتا ہے اس لیے اسکی آواز بند کی جاتی ہے عدلیہ کیونکہ غلط فیصلوں پر ایکشن لینے کا حق رکھتی ہے اس لیے اسکے اختیارات بھی سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ آج اس جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس مارشل لا میں یہ تمام فسطائی حربے بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پاکستان کی سب سے مقبول اور بڑی پارٹی کے چئیرمین کا نام تک میڈیا پر لینے پر پابندی ہے؟
جیسے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے واضح ہوا تھا کہ یحیٰی خان نے اپنی طاقت اور اقتدار کی خاطر ملک کے نظام کو تہس نہس کیا وہی کام آج بھی کیا جا رہا ہے۔ فارم 47 کی بوگس اور فراڈ حکومت کو بچانے کے لیے تحریک انصاف کو مسلسل کچلا جا رہا ہے اور ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا جنازہ نکال دی�� گیا ہے۔ شہباز شریف صرف اور صرف جنرل عاصم منیر کی ایک کٹھ پتلی اور اردلی ہے، اس سے زیادہ طاقت ور وزیراعظم تو مشرف دور میں شوکت عزیز تھا کیونکہ کم از کم تب انتخابات میں اس سطح کی دھاندلی نہیں کی گئی تھی جیسی فروری 2024 میں کی گئی۔ دھاندلی کی پیداوار فارم 47 کے سہارے کھڑا ناجائز لیکن ناتواں ٹولہ دراصل حکومت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔
القادر ٹرسٹ کا فیصلہ صرف اور صرف پچھلے کیسز کی طرح میرے اوپر دباو ڈالنے کے لیے لٹکایا جا رہا ہے مگر میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر جاری کیا جائے کیونکہ جیسے پہلے عدت کیس اور سائفر کیس میں آپ کا منہ کالا ہوا اب بھی وہی ہو گا ۔
القادر کیس بالکل ایک بوگس کیس ہے جس میں دور دور تک کوئی میرٹ نہیں۔ میں نے کوئی بلاول ہاؤس نہیں بنوایا بلکہ ایک دور دراز دیہات میں قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس سے مجھے ایک روپے کا فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے- القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بھی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ایک عوامی مدد سے چلنے والا فلاحی ادارہ ہے-
میں واضع طور پہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نواز شریف اور زرداری کی طرح این آر او نہیں لوں گا۔ اور عدالتوں سے اپنے کیسز ختم کروائیں گے۔
بشری بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے ۔ اسلام آباد قتل عام کو 6 ہفتے ہو چکے ہیں، ہمارے گمشدہ افراد کو لیکر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ یہ مذاکرات کی کامیابی میں حکومت کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ گروتھ ریٹ صفر ہے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو قابو میں رکھنا کوئی معاشی کامیابی نہیں ہوتی۔ ملک میں ترقی صرف سرمایہ کاری سے آتی ہے اور سرمایہ کاری کبھی ایسے ملک میں نہیں آتی جہاں قانون کا وجود ہی فوت ہو چکا ہو ، عدالتیں آزاد نہ ہوں ، دہشتگردی ہو اور جہاں اصل عوامی نمائندگان حکومت کی بجائے جیلوں میں ہوں۔ ایسا ملک کبھی ترقی کر ہی نہیں پایا-“