Clara shifted the conversation, eager to steer away from the growing flutter in her chest. “And you?” she inquired. “Have you carved out any moments for yourself recently? Any passions you’ve been nurturing, or dreams you’ve put on hold?” A slight shiver crossed her face a
Healthy sleep schedules:
Sleep at 8:00PM → Wake up at 3:30AM
Sleep at 8:30PM → Wake up at 4:00AM
Sleep at 9:00PM → Wake up at 4:30Am
Sleep at 9:30PM → Wake up at 5:00AM
Sleep at 10:00PM → Wake up at 5:30AM
Sleep at 10:30PM → Wake up at 6:00AM
Sleep at 11:00PM → Wake up at 6:30AM
Sleep at 11:30PM → Wake up at 7:00AM
Sleep better, win more in life.
Best morning routine to start the day energized
1. Water- 16oz on empty stomach.
2. Electrolytes- pinch of salt.
3. Sunlight- 5-10 min of direct exposure.
4. Movement- 5-10 min stretching.
5. Protein- 25-30g for breakfast.
6. Cold shower- 30s rinse at end of shower.
7. Deep breathing- 10 slow nasal breaths.
Save this for later.
ناران کاغان کا یہ علاقہ بٹا کنڈی خوبصورتی کی انتہا ہے۔ صبح اُبھرتے سورج کی کرنیں، ٹھنڈی ٹھار ہوا، اور شام کے وقت بادلوں کی اچھل کود ایسا منظر پیش کرتی ہے کہ انسان قدرت کے حسن میں کھو جائے۔ رب نے اس علاقے کو جو دلکش نظارے عطا کیے ہیں، وہ سرسبز و شاداب ہریالی اور لش گرینری کے ساتھ مل کر اسے جنت کا ٹکڑا بنا دیتے ہیں۔
کراچی ہمارا عشق ہے
لیکن
سولہ سال میں اس کراچی کو ایک فرد نے کینسر زدہ کر دیا ہے جبکہ لاہور کو سجایا گیا سنوارا بنایا گیا
شہر قائد کا صرف اور صرف ایک مجرم ہے وزیر اعلیٰ سندھ
ایک مرتبہ پھر جنوب سے ائے ہوئے جنگلیوں نے عید کی خوشی کے مواقع پر عوامی مقامات پر بے ہنگم ڈانس، غیر مہذب حرکات، اچھل کود اور یہاں تک کے خواتین اور بچوں کو تنگ کرنے کے واقعات سامنے آئے ،یہ انتہائی افسوسناک ہیں اور ہمارے معاشرتی وقار کے منافی ہیں۔ میری سیاست لسانیات، گروہی مفادات اور فرقہ واریت سے بالاتر ہے، میں کسی کے خلاف نہیں لکھتا، مگر یہ مناظر دیکھ کر دل سخت خفا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے بزرگوں اور اپنی تاریخ سے یہ سبق ملا ہے کہ پختون ایک مہذب، باوقار، دین سے محبت کرنے والی اور اقدار پر قائم قوم ہے، جہاں ایسی بے حیائی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ پختو صرف زبان نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جیسا کہ پریشان خٹک نے بیان کیا کہ پختون کی بنیاد پت، خیگٹرہ، تلوار اور ننگ پر ہے،یعنی حیا، بھلائی، بہادری اور ناموس پر جان دینا۔ میرا کسی قبیلے کے روایتی رقص جیسے اتنڑ پر کوئی اعتراض نہیں، ہر قبیلے کی اپنی روایت ہے، مگر یوسفزئی اقوام کے اقدار میں مردوں کے لیے رقص کا تصور نہیں اور ہم اسے معیوب سمجھتے ہیں،یہ ہمارا ثقافتی مزاج ہے، تنقید نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو کچھ آج کل سڑکوں پر ہو رہا ہے وہ نہ ثقافت ہے نہ روایت بلکہ محض بدتہذیبی اور سماجی بگاڑ ہے، جس سے پوری پختون قوم کی شناخت متاثر ہو رہی ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر دانشوروں کو ذاتی یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بات کو رد کرنے کے بجائے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ آخر میں بس یہی سوال ہے کہ کیا یہ رویہ واقعی پختونولی اور ہماری روایات کی عکاسی کرتا ہے، یا ہم اپنی اصل پہچان سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟