آہ! ہم بھی اس ملک کے باشندے ہیں جہاں چیف جسٹس کی توہین پر 35 سال قید کی سزا دی جاتی ہے، جبکہ رسالت مآب ﷺ کی توہین پر محض 15 دن کے لیے لائسنس معطل کر دیا جاتا ہے۔"
@Muhamma06070586 آصف کالونی گلی نمبر 4 میں مویشیوں کے غیر قانونی ڈیروں اور راستوں کی بندش کے حوالے سے آپ کی شکایت نوٹ کر لی گئی ہے۔ متعلقہ انفورسمنٹ ٹیمیں جلد کارروائی کریں گی۔
سر اصف کالونی گلی نمبر چار اور دیگر گلیوں میں لوگوں نے معاشی گھروں میں باندھے ہیں باہر سڑکوں پہ باندھتے ہیں اپ کو پہلے بھی کمپلین کی تھی لیکن اس کا کوئی حل نہیں ہوا۔ایک ایک حویلی میں 30 سے 35 جانور ہوتے ہیں پوری گلی بند کر کے رکھتے ہیں یہ
جیو نیوز والے شکر کریں کہ پنجاب سرکار نے ٹی ایل پی جیسے دہشتگرد فتنہ کو کچل کر رکھ دیا ہے ورنہ خادم کے دوبوں لونڈوں نے جیو نیوز کے ملک بھر میں دفاتر پر حملہ کرنے کا اعلان اور سر تن سے جدا نعروں کے ساتھ قتل کے فتوے بھی جاری ہوجانے تھے
یہاں مورخ لکھے گا کہ انے والی نسلوں کو اس فتنہ اور دہشتگردوں کے چُنگل سے بچانے پر شکریہ ریاست پاکستان اور شکریہ پنجاب حکومت تو بنتا ہے
I'am 50+ teacher, currently married but in the process of separating. Seeking mature men (40+) for authentic connection, deep conversations and companionship. Privacy is essential. Messages welcome.
جیو نیوز پر چلنے والے خاکوں کا معاملہ پابندی سے دو چند ہوا ہے۔ بہر حال اُمید کی جا سکتی ہے اس سے تنازعہ مزید نہ بڑھے۔جیو ایک بڑا اور ذمہ دار ادارہ ہے اُسے خود احتسابی کا موقع ملنا چلئے۔ جیو اس غلطی پر معافی بھی نشر کر چکا ہے ۔ بہر حال چینل کو سُنے بغیر بند کرنا قطعی طور پر مناسب عمل نہیں اور نہ ہی اچھی روایت۔ #Geo
عاقب جاوید کے بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی سے متعلق، مصباح الحق کی کوچنگ سے متعلق، اور سعود شکیل کے بازوؤں سے متعلق بیانات موجود ہیں، عاقب جاوید اپنی ہی بات سے منحرف ہو جاتے ہیں، سابق کرکٹر باسط علی۔ #PakistanCricket
I'm a teacher, 50+. Married but unhappy, my husband wants out. Seeking mature, understanding men (40+) for genuine connection and conversation.
Privacy is a must. DMs welcome.
سر صفائی تو ہو رہی ہے۔
لیکن اصف کالونی گلی نمبر چار شالیمار ٹاؤن لاہور گلیوں میں مویشی باندھ کر پورا راستہ بلاک ہوتا ہے۔ایک بڑی سی چارپائی اور ریڑا بھی گلی میں کھڑا ہوتا ہے اور اٹھ سے دس جانور باندھ کے رکھتے ہیں ڈیلی۔اپ کو پہلے بھی کمپلین کر چکے ہیں
پریس ریلیز
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ
لاہور، 14 جون 2026ء
10 جون کو مسلح ڈکیتی کی واردات کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ شفافیت، محکمانہ احتساب، اور قانون کی بالادستی پر سختی سے کاربند رہنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
10 جون کی رات، تقریباً پونے بارہ (11:45) بجے، سی سی ڈی کے اہلکاروں نے مسلح ڈکیتی کی ایک جاری واردات کے دوران مداخلت کی۔ مسلح ڈاکوؤں نے ایک فیملی کی گاڑی کو روک کر کار سواروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس دوران ہونے والے آمنے سامنے کے مقابلے میں، مشتبہ افراد کی جانب سے کارروائی کرنے والے پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس افراتفری میں، متعلقہ پولیس افسر نے غلط اندازہ لگایا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی بندوق سے فائر کر دیا۔ اس غلط فیصلے کے نتیجے میں 10 سالہ بچی ہانیہ کی المناک موت واقع ہو گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ افسوسناک واقعہ میں ملوث افسر کا یہ طرزِ عمل ہمارے طے شدہ مروجہ طریقہ کار (SOPs) اور طاقت کے استعمال کے قانونی اصولوں سے یکسر انحراف ہے۔ چنانچہ محکمے کی طرف سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
متعلقہ افسر کو اسی دن ملازمت سے معطل کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں اسے باضابطہ طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
متاثرہ بچی کے والد کی درخواست پر فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی۔ فرانزک شواہد، بشمول افسر کا اسلحہ اور استعمال شدہ گولیوں کے خول محفوظ تحویل میں لےکر کارروائی کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ محکمہ متاثرہ خاندان کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے تاکہ انہیں جاری تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جا سکے۔ متاثرہ خاندان نے جاری قانونی عمل کی رفتار اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سی سی ڈی ایک سخت ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے جو تحمل اور طاقت کے متناسب استعمال کا پابند بناتا ہے۔ ہمارا اولین فرض انسانی جان کا تحفظ ہے، جبکہ "کم سے کم طاقت" کے اصول پر عمل کرنے میں کسی بھی قسم کی ناکامی کے خلاف اعلیٰ ترین سطح پر قانونی اور محکمانہ احتساب کیا جاتا ہے۔
ہمیں اس المیہ پر گہرا دکھ ہے۔ اگرچہ ہمارے اہلکار انتہائی پُرخطر صورتحال میں کام کرتے ہیں لیکن ہمارے طے شدہ پروٹوکولز سے انحراف کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ سی سی ڈی عوام کے تحفظ کے اپنے فرض پر قائم ہے اور اپنے اہلکاروں کو پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے اعلیٰ ترین معیار کا پابند بناتا رہے گا۔
سی سی ڈی متاثرہ خاندان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور اس کیس کے تیز رفتار قانونی انجام تک پہنچنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔