Traditional by looks liberal by Soul
ذہین عورتوں سے محبت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی آپکا انتخاب نہیں کرتیں
mgr
جو تمنا بر نہ آئی عمر بھر، عمر بھر وہ تمنا کی
BREAKING: The Epstein files have been released.
It cointains 3 million additional pages responsive to the Epstein Files Transparency Act.
More than 2,000 videos and 180,000 images are included.
See it here: https://t.co/7gVEuTFpas
Brilliant piece in Dawn by @zfrmrza sahib. Sadly, rulers and ordinary people aren’t in reading books in this country. But before one picks up Daron and James book, ‘Why Nations Fail,’ they should read this article first.
https://t.co/26FGiQLn5H
پنجاب میں مارشل لاء لگانے، بنیادی آئینی حقوق معطل کرنے کا بل اسمبلی میں پیش
(تحریر:- میاں دائود ایڈووکیٹ)
مسلم لیگ نواز کی طرف سے "دی کنٹرول آف عادی مجرم اور انسداد سماجی رویہ ایکٹ 2026" کیلئے بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے، اس بل کی دفعہ 6 میں 30 کے قریب انسانی حرکات، اعمال، وقوعہ جات کو انسداد سماجی رویہ کی تعریف میں شامل کیا گیا اور سرکاری افسروں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ جس بھی عمل کو وہ چاہیئں، اس انسداد سماجی رویہ کی تعریف میں شامل کرسکتے ہیں۔
دفعہ 7 کے تحت طریقہ کار بتایا گیا ہے جس کے تحت پولیس سمیت سرکاری افسران ہی کسی شہری کیخلاف شکایت کنندہ ہو سکتے ہیں یا عام شہری بھی درخواست دے سکتا ہے۔ شکایت کے بعد سرکاری افسران کی ہی دوسری کمیٹی ملزم شہری کو سماعت کے بعد انسداد سماجی رویہ کا جرم ثابت ہونے پر سزا دے سکتی ہے جس کے تحت شہری کو ضمانتی مچلکہ جمع کرانا ہوگا، اس کا نام PNIL لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ جہاز پر سفر نہ کر سکے، پاسپورٹ ضبط کرنے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے، سوشل میڈیا اکائونٹ بند کرنے، موبائل ضبط کرنے، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر ضبط کرنے، اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے یا ضبط کرنے، بینک اکائونٹ منجمند کی سفارش کر سکتی ہے اور کسی شہری کی ہر قسم کی جائیداد ( کار، موبائل وغیرہ اور زمین وغیرہ) مجسٹریٹ کی منظوری سے منجمد کر سکتی ہے اور ملزم شہری پر کو ماڈرن ڈیوائس باندھ کر اسکی مانیٹرنگ کر سکتی ہے۔ دفعہ 9 کے تحت ہر وہ شخص عادی مجرم ہوگا جس کیخلاف ایک بھی مقدمہ درج ہوا اور چالان جمع ہوگیا، کوئی ملزم دو مرتبہ کسی مقدمہ یا مقدمات میں گرفتار ہوا یا ایسا شخص جو مسلسل انسداد سماجی رویہ میں تعریف کردہ جرائم میں بار بار ملوث پایا۔ دفعہ 9 میں تعریف کردہ عادی مجرموں کو مجسٹریٹ سمری ٹرائل کے بعد عادی مجرم قرار دے گا اور اس عادی مجرم کو بھی 3 ماہ کیلئے ماڈرن الیکٹرانک ڈیوائس باندھی جائیگی۔ عادی مجرم اگر الیکٹرانک ڈیوائس باندھنے کی کسی بھی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا تو پہلی مرتبہ اسے 3 ماہ سے 3 سال تک سزا ہو سکتی ہے، اگر ڈیوائس کو نقصان پہنچائے گا تو 1 سال سے 3 سال تک سزا ہوسکتی اور ساتھ 10 لاکھ جرمانہ لازمی ہوگا۔ عادی مجرموں کا DNA ریکارڈ بنایا جائیگا، مزید خلاف ورزیوں کو مزید جرمانے اور مزید سزائیں بھی ہونگی۔ فنگر پرنٹس، تصویری ریکارڈ وغیرہ کا ریکارڈ بنایا جائیگا۔
مسلم لیگ نواز کا پنجاب میں یہ بل آئین میں دیئے گئے کم 13 بنیادی آئینی حقوق یعنی 13 آرٹیکل بنیادی حقوق سے متعلق کی خلاف ورزی ہے، اگر یہ قانون لاگو ہو گیا تو یہ آئین کا آرٹیکل 4 یعنی (مساوی قانونی تحفظ)، آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا حق) آرٹیکل 10 (غیرقانونی گرفتاری اور نظربندی سے تحفظ)، آرٹیکل 10 اے (فیئر ٹرائل)، آرٹیکل 13 ( دوہری سزا)، آرٹیکل 14 ( عزت نفس کا تحفظ) آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی) آرٹیکل 16 (اکٹھے ہونے کی آزادی) آرٹیکل 17 ( سیاسی سرگرمیوں کی آزادی) آرٹیکل 18 (کاروبار کی آزادی) آرٹیکل 19 (اظہار رائے کی آزادی) آرٹیکل 23 اور 24 ( جائیداد خریدنے، استعمال کرنے کا حق) کی عملی طور پر معطلی ہوگی۔ بنیادی حقوق ہمیشہ تب معطل ہوتے ہیں جب مارشل لاء لگایا جاتا ہے ورنہ کبھی بھی بنیادی حقوق معطل نہیں کئے جاتے، کسی قانون کے ذریعے تو بنیادی حقوق معطل ہو ہی نہیں سکتے۔ اس لئے یہ مجوزہ بل پنجاب میں مارشل لاء لگانے کے مترادف ہوگا۔
بنیادی آئینی حقوق کے آرٹیکلز کے علاوہ یہ مجوزہ بل آئین کے آرٹیکل 175 سب آرٹیکل 3 ( عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ کرنا) کی بھی خلاف ورزی ہے۔
بشکریہ:- میاں دائود ایڈووکیٹ
پنجاب میں مارشل لائی قانون کے حوالے سے تازہ اپڈیٹ یہ ہے کہ بل پیش کرنے والے ن لیگی ایم پی اے خالد رانجھا کا کہنا ہے یہ بل انکا نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا ہے اور قانون وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی مشاورت سے لایا گیا ہے
جبکہ اہم قانون سازی پر اسپیکر آفس کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا تھا
ن لیگ کو ہی پیکا قانون لانے کا اعزاز حاصل ہے اب تو ماشااللہ لگ رہا پنجاب میں سیدھا مارشل لاء لگانے کا ہی فیصلہ ہے کیونکہ مارشل لاء میں شخصی آزادی یا بنیادی انسانی حقوق نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔
Geo nai jo kiya wo 90% logo ko nahi pata tha aaj kal log wese hi news channels nahi daikhte aur muharram mai wese bhi nahi daikhte … but ab kal raat sai i am sure kafi log khud dhund k daikh rahe hn gai k akhir Geo nai dikhaya kia tha……. (Mai nai bhi nhi daikha koe link bhejo)
بہت اچھی خبر ۔۔۔۔پڑوسیوں سے اچھے تعلقاتِ اور اعتماد کی بحالی ہی امن کی طرف پہلا قدم ہو تا ہے ۔۔۔۔۔
پاکستان اور بھارت میں غیر رسمی رابطہ۔۔دونوں ممالک کے غیر رسمی رابطے میں کیا طے پایا؟
پنجاب میں متعارف کروایا گیا نیا قانون "پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز اور اینٹی سوشل بیہیویئر ایکٹ "اگر پاس کروا لیا جاتا ہے تو یہ شخصی اور جمہوری آزادیوں کو مزید محدود کرنے کا باعث بن سکتا۔ قانون میں اینٹی سوشل بیہیویئر یا سماج دشمن سرگرمیوں کی تعریف میں جو نکات شامل کیے گئے ہیں ان کی تعریف کافی وسیع ہے اور اس کی زد میں کوئی بھی آسکتا ہے! یا لایا جاسکتا ہے!
جیسے : جانوروں سے ناروا سلوک۔سوشل میڈیا پر غلط معلومات یا خبریں، افواہیں یا اشتعال انگیز مواد پھیلانا - ٹریفک میں رکاوٹیں پیدا کرنا!
ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کسی شخص کے خلاف یہ اقدامات کر سکتی ہے:،نام PNIL لسٹ میں ڈالنے کی سفارش -پاسپورٹ ضبط کرنے کی سفارش،شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بلاک کرنے کی سفارش، سوشل میڈیا اکاؤنٹ ختم کرنے کی سفارش، موبائل، لیپ ٹاپ یا دیگر آلات ضبط کرنا۔اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش۔جائیداد یا سامان ضبط کرنا (عدالتی منظوری کے ساتھ)۔بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کی سفارش
جدید ٹیکنالوجی سے نگرانی؛ الیکٹرانک ٹریکر (ٹخنے یا بریسلٹ) لگانا!
Habitual Offender (عادی مجرم)
وہ شخص عادی مجرم قرار دیا جا سکتا ہے:
جس کے خلاف مقدمہ چل چکا ہو، یا جو بار بار جرائم میں پکڑا گیا ہو، یا جو مسلسل سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو
ایسے شخص کے لیے:الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس لگائی جا سکتی ہے،پولیس کو رپورٹ کرنا ہوگی،اس کا ڈیٹا رجسٹری میں رکھا جائے گا۔اگر وہ ٹریکر توڑے یا شرائط کی خلاف ورزی کرے:3 سال تک قید, جرمانہ ہوسکتا ہے۔اگر کوئی شخص انٹیلی جنس کمیٹی کے حکم کی خلاف ورزی کرے تو 1سے 4 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔بار بار خلاف ورزی پر سزا بڑھ سکتی ہے۔
اپیل کے حق کی بات کریں تو اگر کسی شخص کے خلاف کارروائی ہو تو وہ پہلے ڈویژنل کمیٹی میں اپیل،پھر صوبائی کمیٹی اور پھر اپیلیٹ کمیٹی میں اپیل کرسکتا ہے۔ مکمل بل کا لنک:
https://t.co/ZZkZBrTQoR
پنجاب میں خوفناک بل کی آمد آمد !
انٹیلیجنس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر بینک اکاؤنٹس سیل ، جائیداد ضبط ، فون ضبط اور سوشل میڈیا پر موجودگی پر بھی پابندی
بل کو کمیٹی پاس کرچکی اب بس اسمبلی میں ووٹنگ باقی !
کیا بھٹو کو پھانسی سے پہلے قتل کر دیا گیا تھا ؟
کیا کرنل رفیع نے جنرل ضیاالحق کو ڈبل کراس کیا تھا؟
بھٹو کے آخری 323 دن، کرنل رفیع کے سنسنی خیز انکشافات
پروفیسر طاہر ملک سے سیر حاصل گفتگو
ڈھاکہ سے دہلی سائیکل پر قائدِ اعظم کی تقریر سننے جانے والے شیخ مجیب، مادرِ ملت فاطمہ جناح کے چیف الیکشن کیمپینر، اور پلٹن میدان میں “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگانے والے شیخ مجیب کو غدار کس نے بنایا؟ ایک فوجی ٹربیونل نے! نہ کے قوم نے۔
ریاست کے سامنے احتجاج کرنے والی مہرنگ بلوچ، جو اسلام آباد آ کر بار بار اپنا مؤقف آپ کے سامنے رکھتی رہی، آپ نے اسے مسلسل رد کیا اور احتجاج کرنے پر سزا دے دی۔ اسے غدار کس نے بنایا؟ اُس نے تو دہشت گردی کو بھی condemn کیا۔
اگرتلہ کیس پاکستان کے خلاف ایک سازش تھی۔ جب میں 1969 میں ایوب خان سے ملا تو، ایوب خان نے خود بتایا تھا کہ یہ پاکستان کے خلاف ایک سازش تھی۔
آج فوج آپ جیسے روایتی مہروں کو استعمال کر کے مجھے بھی غدار ثابت کرنا چاہتی ہے۔
غدار بنانے والی فیکٹریاں کب بند ہوں گی؟
This is genuinely shocking, and says so much about our approach to China.
I decided to check for independent reviews of the English version Xi Jinping's latest book, published a year ago, to see what people had to say about it since I hadn't read it myself.
To my surprise, I couldn't find any: not a single thoughtful review about the book out there! Even on Amazon, check it for yourself (https://t.co/1LVlhACA53): the book has only 3 ratings, that's it.
No matter where you stand on China, you’ve got to admit that’s pretty crazy: the sitting president of the world's rising superpower publishes a 700-page book explaining exactly what he's doing and why, and we don’t even care to look.
If there ever was a fact that illustrates just how willfully ignorant we are about China, this is it.
All the more because we then go spew the usual clichés around how secretive and impenetrable the Chinese system is: the book is on Amazon for $21 for crying out loud!
Anyhow, this felt so wrong that I figured I'd fix it. I bought the book, read it attentively and wrote what I hope you'll agree is a thoughtful review of it.
The book contains genuinely surprising passages, such as Xi writing that oversight of the Communist Party by "the judiciary, the public, and the media" was not just something the Party must “readily accept,” but something that he framed as historically decisive - an essential component to "escaping the historical cycle of rise and fall" that has doomed every dynasty in China's history.
Other passage that I'm sure would surprise many: a common narrative out there is that China blames the West for the century of humiliation and is driven by revenge. Well, Xi explains that's not true at all: the century of humiliation was China's own mistake, originated in the Ming Dynasty's disastrous "policy of national seclusion" that "resulted in China missing out on the opportunities presented by the Industrial Revolution" and "led to China’s decline."
All in all, the book is remarkably self-reflective and thoughtful. For instance Xi recognizes that his drive for “full and rigorous internal governance” - including to rid the Party of corruption - risked "instill[ing] fear and apprehension, or intimidate members into inaction.” He emphasizes the need for pragmatism in this regard, codified in a framework called the “Three Distinctions” that separates honest mistakes - made while experimenting, reforming, or operating without precedent - from deliberate violations committed for personal gain.
And many other surprises still. I found it a genuinely fascinating read for anyone interested in how the Chinese system works and how Xi thinks - or anyone interested in governance, period, as so much of what he writes is pretty universally applicable.
This is the link to my review of the book, an article I titled "The Book the West Refuses to Read": https://t.co/DYowWEESOd
Interesting topic: "This article examines [the 121] sub-national emergency invocations between 1950 and 2024" in India across 4 periods: the hegemonic period (1950–1963), the praetorian (1964–1988), the restraint period (1989–2013), & the return of hegemonic period (2014–2024)."
ہر ریاست کو حق ہے کہ وہ سافٹ پاور کا راستہ چنے یا ہارڈ سٹیٹ بن کے دکھائے۔ پر یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ سات ہزار برس میں سب سے کم اوسط عمر ہارڈ سٹیٹ نے ہی پائی۔ جو بھی ریاست انسانی جلبت اور کامن سینس کے آفاقی قانون کو خاطر میں نہ لائی بالاخر منہ کے بل ہی گری، وسعت اللہ خان
کھاریاں راولپنڈی موٹروے 205 ارب روپے کا پراجیکٹ بغیر ٹینڈر کے FWO کو مل گیا، وزیراعظم کے نجکاری کے مشیر محمد علی نے ترکی سے Virtually اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے منظوری دی، خلیق کیانی کی خبر