مچنی گیٹ پشاور میں لڑکی سے تعلق کے شبے میں جواں سال لڑکے کوقتل کردیا گیا
ورث�� کے مطابق ملزمان بیٹے کو قتل کرنے کیلئے اس کے پیچھے بامسلح پڑے تھے اور اسے قتل کی دھمکیاں دیتے رہے
19 سالہ فہد منگل کی رات مغرب کی نماز کے بعد گھر سے نکل کر غائب ہوگیا تھا
بعد میں پتہ چلا کہ لکڑئی نہر کے قر��ب مرغزٹاون میں اس کی نعش پڑی ہے
والد کے مطابق لڑکی سے تعلق کے شبے پر پہلے بھی بیٹے پر حملے کیے اور اسے مارا پیٹا تھا جبکہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے
لا��ور، میٹرو اور پشاور بی آر ٹی
دونوں کا فا صلہ 27 27 کلومیٹر ہے
لاہور میٹرو کا روٹ بلکل سیدھا روڈ پر بنا ہے جبکہ پشاور بی آر ٹی نے مکمل پشاور کو کنٹرول کیا ہوا ہے
لاہور میٹرو میں کوئی کاروباری مرکز نہیں جبکہ پشاور کے بی آر ٹی میں تین عالمی معیار کے شاپنگ پلا��ے ہیں چمکنی، ڈبگری گارڈن اور حیات آباد
لاہور میٹرو اب تک 64 بسیں تھیں اور پشاور بی آر ٹی میں 242 بسیں تھیں
لاہور میٹرو قرضہ لیکر بنایا گیا ہے جبکہ پشاور بی آر ٹی ایشائی ترقیاتی بینک کی انویسمنٹ سے بنائی گئی ہے
دونوں غریب عوام کی سفری سہولیات کے لیے بہت اچھے تھے
پشاور بی آر ٹی میں فری وائی فائی سروس سمیت سب سہولیات موجود تھے لیکن لاہور میٹرو میں نہیں تھیں
لاہور میٹرو کا کرایہ تقریباً پشاور بی آر ٹی سے دوچند تھے
پھر بھی لاہور میٹرو معاشی بحران میں چلا گیا اور بند احر بند ہونے تک گیا اور پشاور بی آر ٹی منصوبہ میں معاشی بہتری ائی اور مزید 52 بسیں حرید کر بسو کی تعداد، 294 کردی بعد اسکو 500 بسوں سے مکمل کیا جائے گا
لیکن زوال پزیر اور بے توڑا پارٹیاں کہتے ہیں کے پی میں کرپشن ہوتی ہے اور پنجاب یورپ بن گیا یہ صرف ایک منصوبے سے اندازا لگائیں
اس کے علاؤہ پشاور بی آر ٹی کو بہترین کارکردگی پر پانچ عالمی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں!
کاپیڈ
بی آر ٹی پشاور کی سروس پاکستان کے باقی میٹرو سروسز میں بہترین سروس ہے اور اسکو اب باقی اضلاع نوشہرہ، چارسدہ، صوابی اور مردان س��یت دیگر اضلاع کو لنک کیا جا رہا ہے جو ایک بہترین اقدام ثابت ہوگی۔
محکمہ بلدیات میں اندھیر نگری
ریجنل میونسپل آفیسر نے ڈائریکٹر ایسٹ کیپٹل میٹروپولیٹن پشاور کے مراسلے کی روشنی میں ٹیکس کلکٹر حضرت عباس کا تبادلہ کردیا
ڈائریکٹر ایسٹ نے ریجنل میونسپل آفیسر کو خط لکھ کر پوچھا ’’میرا کونسا خط؟ میں نے کوئی خط نہیں لکھا ‘‘
کچھ سا��ھی مسلسل مزمل اسلم پر تنقید کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں کوئی ایک قابل بندہ نہیں کہ وہ خزانہ چلا سکے
تو
ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ جس طرح سندھ سے مزمل اسلم خیبر پختونخوا میں مشیر ہیں بالکل ایسے ہی پی ٹی آئی کے دور میں ایبٹ آباد خیبر پختونخوا سے مصدق عباسی وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کے مشیر تھے
صرف صوبوں کی بنیاد پر تعیناتی پر اعتراض نہ کریں
اگر خیبر پختونخوا میں خزانہ چلانے والا نہیں تو کیا پنجاب میں اینٹی کرپشن چلانے والا بھی نہیں تھا؟
اگر ایک شخص کو کام آتا ہے تو ا�� سے کام لینا چاہئے نہ کہ اس کی مخالفت آبائی علاقے کی بنیاد پر کی جائے
79 سال میں پہلی مرتبہ
پشاور کے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کیلئے ڈگری کالج قائم
پشاور کے علاقے متنی میں لڑکیوں کیلئے اپنی نوعیت کا پہلا ڈگری کالج قائم کردیا گیا جس میں داخلوں کا آغاز کردیا گیا ہے
رکن صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک چیئرمین شیر علی آفریدی کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اس کالج کے قیام اور اب اس میں داخلہ تک ہر قدم پر اس مسئلے کو اجاگر کیا
پشاور کے دیہی علاقے جنہیں ماضی میں ٹائون فور کہا جاتا تھا جو ضلع کے 55 فیصد اراضی پر مشتمل ہیں وہاں اس کالج سے قبل لڑکیوں کیلئے ایک بھی ڈگری کالج نہیں تھا
یہ پہلا ڈگری کالج ہے جہاں طالبات اعلی تعلیم حاصل کرسکیں گی
شیر علی آفریدی کا یہ اقدام پشاور کے دیہی علاقوں میں پڑھی لکھی مائوں کو فروغ دے گا جو ہمیں پڑھی لکھی نسل دیں گی
یہی حالت تو خیبر پختونخوا میں بھی ہے
ممبران اسمبلی تو دور کابینہ کے کئی ممبران بھی سہیل آفریدی تک رسائی کا ہونے کا شکوہ کرتے ہیں
سہیل آفریدی کا ممبران کیلئے الگ نمبر رکھنے کا وعدہ بھی ایفا ہونے کا منتظر
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور نے بہترین کار پارکنگ سہولت فراہم کردی
مریض کیلئے بستر میسر نہیں، وینٹی لیٹر میسر نہیں، ڈاکٹر میسر نہیں، ڈائلائسز مشین میسر نہیں
آپ کا مریض محفوظ ہاتھوں میں ہو یا نہ ہو
آپ کی گاڑی ضرور محفوظ ہاتھوں میں ہوگی
جماعت اسلامی نے جمعہ 7 اگست کو پٹرول کی قیمت کم کرنے کے لیے پاکستان بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک پٹرول کی قیمت 333 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 225 روپے فی لیٹر نہیں کی جاتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا
پشاور ہائی کورٹ نے بجلی تقسیم کا�� کمپنیوں کے ملازمین کے مفت بجلی یونٹس ختم کردئے
پشاور ہائیکورٹ نے پیسکو، ٹیسکو سمیت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کرنے کا حکومتی فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کےخلاف دائر تمام رٹ درخواستیں خارج کر دیں
درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ وہ ڈسکوز ملازمین ہیں اور مفت یونٹس سمیت دیگر مرعات ان کے سروس کا حصہ اور ان کا بنیادی حق ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ واپڈا سروس رولز ابتدا میں قانونی حیثیت رکھتا تھا تاہم ڈسکوز میں ان کے اطلاق کے بعد وہ انتظامی نوعیت اختیار کر گئے اس لیے حکومت انہیں تبدیل یا ختم کرنے کی مجاز ہے۔
عدالت نے کہا کہ پاور سیکٹر اصلاحات حکومتی پالیسی کا حصہ ہیں اور ایسے معاملات میں عدالتی مداخلت مناسب نہیں
جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ نے فیصلہ جاری کردیا
واضح رہے کہ حکومتی فیصلے پر پشاور ہائیکورٹ نے دسمبر 2023میں حکم امتناعی جاری کیا تھا جو اب اس فیصلے کے بعد ختم ہو گئی
اب صحت اصلاحات کا کیا فائدہ جب بیڈ دستیاب نہ ہو ں
کئی مرتبہ عرض کر چکا ہوں کہ پشاور کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے ہنگامی طور پر ایک یا دو ہسپتال بنانا پڑیں گے
وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی نے کابینہ ممبران کو پشاور سے نکل کر صوبہ گیر دوروں کی ہدایت کی تھی
مینا خان ایک بار کرک گئے اور طارق سعید کو بنوں جانا پڑا جبکہ وزیر اعلی خود ہنگو گئے ہیں
باقی
کتنے کابینہ ممبران جنوبی اضلاع گئے ہیں؟ خصوصا وہ جو خود ان اضلاع سے نہیں؟
کتنے کابینہ ممبران خیبر کے علاوہ کسی دوسرے قبائلی ضلع گئے ہیں؟
ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک اخبار میں ملازم کو 4 ہزار روپے تنخواہ دی جا رہی ہے
پشاور کے ایک اخبار میں ملازم کی تنخواہ 5 ہزار اور دو اخبارات میں ملازم کی تنخواہ 8 ہزار روپے ہے
پشاور ہائیکورٹ میں محکمہ اطلاعات کی رپورٹ جمع
کرپشن کا ایک اور بڑا اسکینڈل
باجوڑ میں 39 پوسٹوں پر 81 افراد کی بھرتی۔۔
حیران کن ۔۔۔ تعیناتی سے 3 ماہ قبل تنخواہیں شروع۔۔۔۔ ایٹا ٹسٹ میں فیل امیدوار بھی تعینات۔۔ بہت بڑی خبر
خیبرپختونخوا میں کیش لیس نظام نافذ
کوئی بھی ادارہ اگر ڈیجیٹل ادائیگی سے انکار کریگا تو حکومت اس کیخلاف کارروائی کریگی، محکمہ خزانہ نے تنبیہ کردی
صوبہ بھر کے انتظامی سربراہان کو اپنے دائرہ اختیار میں کاروباری اداروں، دکانوں اور دیگر ریگولیٹڈ شعبوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت
تمام کاروباری مراکز اور ریٹیل آئوٹ لیٹس پر ’’راست کیو آر کوڈ‘‘ ��مایاں طور پر آویزاں کیا جائے تاکہ صارفین موبائل فون کے ذریعے آسانی سے ادائیگی کرسکیں
جن کاروباری اداروں کے پاس راست کیو آر کوڈ موجود نہیں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ بینکوں سے مفت کیو آر کوڈ حاصل کرکے اپنی دکانوں اور کاروباری مراکز پر نصب کریں
محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی قبول نہ کرنے یا اس نظام پر عملدرآمد سے انکار کی شکایات کی صورت میں متعلقہ کاروباری اداروں کے خلاف جرمانے سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔