پاکستان میں ایک نام آپ سنتے ہیں NFC ایوارڈ یہ پاکستان کی کل آمدن کو چار صوبوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا ہے اس فارمولا کے تحت 2010 سے پاکستان میں سب صوبوں کو پیسے مل رہے اس فارمولے کے تحت جو صوبہ غریب اس کو قدری زیادہ پیسے ملیں گے اس فارمولے کو بناتے وقت پنجاب اپنے حصے کی رقم سے کم پیسے لینے کی شرط تسلیم کی ہے
سولہ سال سے یہ پیسے صوبوں کو مل رہے اس دوران سولہ سال سے سندھ میں قوم پرست پی پی اقتدار میں ، سرحد میں تیرہ سال سے پشتون نسل پرست پی ٹی آئی ہے اور بلوچستان میں بلوچوں کی حکومت ہے بجائے اپنی حکومتوں سے سوال کریں کہ پنجاب سے زیادہ پیسہ لینے کے باوجود ان صوبوں میں ترقی کیوں نہی ہوئی وہ پیسے کہاں چلے گے ہیں؟
الٹا قوم پرست نسل پرست پنجابی کھا گیا کے نعرے لگا دیتے کیونکہ عصبیتیں زیادہ بکتی تو پنجابی کو گالی دیتے اور اصل چوروں کو لیٹروں کو بھول جاتے ہیں
سولہ سال میں تین صوبوں میں برسر اقتدار مقامی حکمرانوں کے اثاثے بھی زرا چیک کریں تاکہ سمجھ آئے پیسہ جاتا کہاں ہے
حشر میں رسوائی سے بچنے کی دعا
رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ؕ
اور اے ہمارے پروردگار! ہمیں وہ کچھ بھی عطا فرمائیے جس کا وعدہ آپ نے اپنے پیغمبروںؑ کے ذریعے ہم سے کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رُسوا نہ کیجئے۔
{آل عمران۔۱۹۴}
وزیراعظم نوازشریف کی شخصیت سے آپ پوری طرح سے واقف ہیں دنیا بھر کی مخالفت اور پریشر کے باوجود وزیراعظم جس بہادر کا ثبوت دیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔
وزیراعظم کی طرف سے پاکستان کو میزائل اور ایٹمی قوت بننے پر یہ ملک تا قیامت نوازشریف صاحب کا احسان مند رہے گا
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے بنیادی ذرائع آمدن تجارت اور برآمدات نہیں بلکہ پٹرولیم بجلی اور سڑکوں کے محصولات ہیں۔
اس میں مزید ہولناک صورتحال یہ ہے کہ جو کوئی اس نیٹ میں پھنس جاتا ہے اس سے سب کچھ نچوڑا جاتا ہے۔
میں کسی علاقے کا تذکرہ نہیں کرتا لیکن پاکستان کا ایک بہت بڑا حصہ بجلی کا بل ادا نہیں کرتا لیکن جو ادا کرتا ہے اس سے باقیوں کی ریکوری بھی کی جاتی ہے اور حکومتی اخراجات بھی وہیں سے پورے ہوتے ہیں۔
یہی صورتحال سمگل شدہ پٹرول اور سرکاری شدہ پٹرول پمپ سے پٹرول بھروانے والے کے درمیان ہے۔
جو دوکاندار ایف بی آر کے نیٹ میں ہے وہ بھاری ٹیکس بھی دیتا ہے ہر لمحہ سولی پر بھی لٹکا رہتا ہے جبکہ ریٹرن جمع نہ کروانے والا تاجر ہر فکر اور پریشانی سے آزادی کی زندگی گزارتا ہے۔
ملک کا مسئلہ صرف اور صرف دوہرا میعار ہے اور کچھ بھی نہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسی
پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم جج جو محسن پاکستان ثابت ہوا، جس پر بھونکنے اور تھوکنے والے عمران خان پراجیکٹ کے پالتوئوں کو ہمیشہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنا ہی تھوکا چاٹنا پڑا۔
تاریخ نے ہمیشہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو سرخرو کیا۔
ہم نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے.
10مئی پاک بھارت جنگ کے دوران یہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس مسلسل پاک فوج پر تبرہ کر رہے تھے، یہی غدار، وطن فروش اور نطفہ نامعلوم آج بھی پاکستان دشمنی میں بھارت اور اسرائیل کے سنگ پاک فوج اور پاکستان پر مسلسل سنگ باری میں مصروف ہیں.
انہیں فراموش مت کیجئے
میں نئیں مانتا خان کو گولی لگی تھی
اسکا ثبوت یہ ہے کہ جب رینجر نے کان سے پکڑ کے اٹھایا تو اسکے بعد سے آج تک کبھی ٹانگ پر پٹی نہیں دیکھی
ناظرین حسن مرتضیٰ نے ایک مرتبہ پھر دُنبہ چکی کی بولتی بند کردی🔥
جن لوگوں نے ٹرمپ کے الیکشن میں فنڈنگ کی اور جیتنے پہ گھنگھرو توڑ پرفامنس دی ان کے لیے امریکی صدر کے یہ الفاظ ڈوب مرنے کے لیے کافی ہیں
کوئی غفورے ماچھی کو بتائے کہ قرآن کی آیات
وتعز من تشاء وتذل من تشاء
کا مطلب سمجھ آیا کہ نہیں
تصویر دیکھیں اور پاکستانی ہونے پہ فخر کریں
پاکستان پر فخر کیجئے جس نے ایک استاد کے بچے کو عالمی لیڈر بنا دیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے والد ایک ٹیچر تھے وہ ایک عام مدرسہ سے پڑھنے والا لوئر مڈل کلاس کا پاکستانی بچہ ہے اسے دنیا کا طاقتور ترین انسان پاکستان نے بنایا اس کی فوج نے بنایا ہے اس فوج کی ٹرینگ نے بنایا ہے
47 سال پرانا تنازعہ اگر پاکستان فوج کا سربراہ حل کر رہا تو یہ پاکستان کا فخر ہے یہ نام یہ پہچان یہ طاقت پاکستان کی ہے اگر امریکہ کا صدر جو اقوام متحدہ نیٹو یورپی یونین کو ناکارہ کہتا اور فیلڈ مارشل اور پاکستان کو گریٹ کہتا یہ پاکستان کا فخر ہے عاصم منیر جو کچھ وہ پاکستان کی دین کے عاصم منیر پر فخر پاکستان پر فخر ہے
ایک دوست، جو طبیات کے ماہر استاد ہیں، کو اسلام آباد میں ایک طالب علم کو ہوم ٹیوشن کے لیے بلایا گیا۔ طالب علم سے ملاقات سے پہلے بچے کے والد نے استاد سے کہا: ”اگر آپ برا نہ مانیں تو میں ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟“
استاد نے اثبات میں سر ہلایا۔
والد نے پوچھا: ”کیا آپ کا تعلق تحریکِ انصاف کے نظریے سے تو نہیں؟“
استاد نے جواب دیا: ”آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟“
والد نے کہا: ”میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے کو کوئی ایسا شخص پڑھائے جو ریاستِ پاکستان مخالف ہو، جو پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران یہ کہے کہ ہم تو مکتی باہنی کا کردار ادا کریں گے، اگر بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہوتی ہے تو ہم فوجیوں کے گھروں کی نشاندہی کریں گے، جو ریاستی اداروں پر حملہ کرنے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کرے، جو قومی ہیروز کے بارے میں بغض رکھتا ہو، جو 14 اگست کو سبز ہلالی پرچم لہرانے والوں کو گالیاں دے، جو پاکستان کی محبت میں گائے گئے گیتوں کو برا کہے، جو بھارتی چینلز پر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کی تعریف کرے اور انہیں ہیرو سمجھے، جو پاکستان پر حملہ آور بی ایل اے کے دہشت گردوں کی دہشت گردی کا جواز پیش کرے اور انہیں فریڈم فائٹر کہے، جو پاکستان کی ہر نیک نامی پر افسردہ ہو اور پاکستان کی بدنامی کے قصوں پر بھنگڑے ڈالے۔۔۔“
یہ سب سننے کے بعد استاد نے اپنا موقف واضح کیا، جس کے بعد انہوں نے طالب علم کو پڑھانا شروع کر دیا۔
والد نے اطمینان کا سانس لیا کہ اب اس کا بچہ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
اسی طرح آپ بھی اپنے بچوں کو ایسے افراد سے دور رکھیں جو ریاست مخالف نظریات رکھتے ہوں۔ اپنی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ احتیاط بہت ضروری ہے