اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد مع��لجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہ��پتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
تمام پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداران، کارکنان اور غیور عوام کے نام اہم ترین پیغام 🚨🚨
"شخصیات سے بالاتر ہو کر وقت کا تقاضا: ایک عمران خان، ایک پاکستان اور ایک مقصد!"
پاکستان تحریک انصاف کا وجود عمران خان کی قربانیوں، نظریے اور ان کے ساتھ کھڑے کروڑوں عوام کے جذبے کا مرہونِ منت ہے۔ اس وقت جو بھی اطلاعات یا تاثر سامنے آ رہا ہے، میں نہایت صاف اور واضح الفاظ میں تمام سیاسی قیادت، عہدیداروں، ورکرز اور سوشل میڈیا ٹیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ یہ وقت آپس کی غلط فہمیوں، گروہ بندیوں یا اختلافات میں الجھنے کا بالکل نہیں ہے۔
ہمارا موقف اور جدوجہد کا مقصد بالکل واضح ہے:
کوئی سیاسی ایجنڈا یا اقتدار کی خواہش نہیں:
ہمارا کسی قسم کی عملی سیاست، اقتدار کی دوڑ یا پارٹی عہدوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ایک بہن ہونے کے ناطے اور اس ملک کے ایک باشعور شہری کے طور پر، ہمارا واحد مقصد عمران خان کی فوری و باوقار رہائی، ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور ان کے بہترین علاج و معالجے کی فراہمی ہے۔
حقیقی جدوجہد سڑکوں پر:
ہم اپنے بھ��ئی کی صحت، زندگی کی سلامتی اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ یہ محض سیاسی عمل نہیں بلکہ حق و انصاف کی جنگ ہے۔
اندرونی اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے:
مخالفین چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی طاقت کو اندرونی انتشار کے ذریعے تقسیم کر کے کمزور کیا جائے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی سطح پر آپسی اختلاف عمران خان کے مقصد اور ان کی رہائی کی جدوجہد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
تمام عہدیداروں اور ورکرز سے ہنگامی اپیل:
"خدارا! تمام تر ذاتی تحفظات، اندرونی گلے شکوے اور اختلافات کو اب ہمیشہ کے لیے پسِ پشت ڈال دیں۔ پارٹی کے تمام چھوٹے بڑے عہدیدار، نمائندے اور نظریاتی کارکنان ایک پرچم تلے متحد ہو جائیں۔ اپنے کپتان کی صحت، حفاظت اور رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلیں اور اس جدوجہد میں ہمارا ہاتھ بٹائیں۔"
آئیے تمام تفریق ختم کر کے صرف اور صرف عمران خان کی رہائی اور ایک آزاد و سچے پاکستان کے لیے ایک مٹھی اور ایک آواز بن جائیں!
پاکستان زندہ باد | عمران خان کو رہا کرو
کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ اور دیگر رہنماؤں پر بزدلانہ حملہ شدید قابلِ مذمت ہے!
سیاسی انتقام کے بعد اب اسیران کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں معمول کے مطابق غسل خانے سے واپسی پر عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور فلک جاوید پر منشیات کے کیس میں سزا یافتہ قیدی نازیہ خواجہ اور اس کے آٹھ سے دس ساتھیوں کا مسلح و تشدد پر مبنی حملہ جیل انتظامیہ کی کھلی مجرمانہ غفلت اور پشت پناہی کا ثبوت ہے۔
حملے کے دوران نون لیگ کے نعرے لگانا اور آئی جی جیل خانہ جات سے تعلقات کے زعم کا اظہار کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
خواتین اسیران پر اس قسم کا تشدد نالائقی کی انتہا ہے۔ ہم اس مجرمانہ غفلت پر جیل انتظامیہ سے فوری جواب طلبی اور حملہ آوروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں ختم ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے خاص طور پر عمران خان کے لئے آئینی عدالت بنائی ہے۔
اگر آپ اس ظلم کے نظام کے خلاف کھڑے ہوئے تو یہ سب کچھ ایک دن ختم ہوجائے گا
علیمہ خان۔۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
عمران خان کی علاج اور فورا ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کرونا ہماری اولین، ترجیح ہے۔۔۔ جبتک ایسا نہیں ہوتا ہم یہ جنگ لڑتے رہیں گے چاہے اس میں جان جاتی ہے یا گرفتاری ہوتی ہے فرق نہیں پڑتا۔۔
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی م��اذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
سٹریٹ موومنٹ میں سب لوگ بھرپور شرکت کریں۔ ان شاء اللہ ورکرز کے اعتماد کو بحال کر کے ہمیں اس تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔ اللہ کے نام سے ابتدا کریں اپنے اپنے علاقوں میں۔ نیک نیتی سے شروع کئے گئے ہر کام میں اللہ کی برکت شامل ہو جاتی ہے۔ لوگ خود آپ سے جڑنا شروع ہو جائیں گے