"جس شخص نے پاکستان کو ایٹم بم دیا، آج اسی کی بیٹی عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے!" محسنِ پاکستان کی بیٹی کے رلا دینے والے انکشافات!
ڈاکٹر عبدالقدیر خان... وہ نام جس کی وجہ سے آج ہم سکون کی نیند سوتے ہیں، جس نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس عظیم ہیرو کے مرنے کے بعد ان کے نام اور ان کی فیملی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟
محسنِ پاکستان کی صاحبزادی، ڈاکٹر دینا خان نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک ایسا لرزہ خیز انکشاف کیا ہے جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
"جب میں اپنے باپ کا آخری خواب بچانے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھی، تو میں سوچتی تھی کہ کیا میرے والد نے اپنی پوری زندگی، اپنا سب کچھ اس ملک پر لٹا کر کوئی غلطی تو نہیں کر دی؟ آج اس ملک میں ان کے نام کو مٹایا جا رہا ہے اور ان کی بیٹی کو رلایا جا رہا ہے!"
ہوا کچھ یوں کہ 2013 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غریبوں کے مفت علاج کے لیے لاہور میں 500 بیڈز کے ایک عظیم 'ٹرسٹ ہسپتال' کی بنیاد رکھی۔ لیکن ان کے انتقال کے فوراً بعد، ان کے اپنے قریبی ساتھیوں اور نام نہاد 'دوستوں' کی نیتیں بدل گئیں۔ انہوں نے جعلی کاغذات بنائے، ڈاکٹر دینا کو ٹرسٹ سے دھکے دے کر نکال دیا اور محسنِ پاکستان کے نام پر لوگوں سے کروڑوں روپے بٹورتے رہے۔
ڈاکٹر دینا نے ہمت نہیں ہاری! اس اکیلی بیٹی نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی، ان آستین کے سانپوں کو بے نقاب کیا اور اپنا ٹرسٹ بڑی حد تک واپس لیا۔ لیکن آج بھی مافیا ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔
انتہائی دکھی دل کے ساتھ ڈاکٹر دینا نے سوال کیا: "کیا باوقار قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول جائیں اور ان کی اولاد کو ذلیل کریں؟" انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں ان کے والد کا آخری خواب (غریبوں کا ہسپتال) پورا کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں۔
جس عظیم انسان نے دن رات ایک کر کے ہمیں ایٹم بم دیا اور دشمنوں سے محفوظ کیا، آج اس کی بیٹی اپنوں سے ہی انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر نے زائرین اور صارفین کی توجہ حاصل کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور دامادِ رسول، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک ہے، اسلامی روایات اور تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ دعویٰ مکمل طور پر درست اور مستند ہے۔
خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار (4) صاحبزادیاں تھیں۔
1- حضرت زینب رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں، ان کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا تھا۔
2۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی دوسری صاحبزادی تھیں۔ان کا نکاح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوا اور انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
3۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی تیسری صاحبزادی تھیں،حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد ان کا نکاح بھی حضرت عثمان بن عفانؓ سے ہوا تھا۔
4۔ حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا: یہ آپ ﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی صاحبزادی تھیں،ان کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوا۔
اسلامی تاریخ اور روایات کے مطابق، سن 35 ہجری میں شہادت کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کو مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان 'جنت البقیع' کے بالکل متصل ایک باغ میں دفن کیا گیا تھا جسے "حشِ کوکب" کہا جاتا تھا۔
خلافتِ راشدہ کے بعد، اموی دورِ حکومت میں جب مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن الحکم نے جنت البقیع کی حدود کو وسیع کیا، تو اس باغ کو بقیع کے اندر شامل کر لیا گیا، اسی وجہ سے آج یہ مقام جنت البقیع کے آخری حصے میں واقع ہے۔
بقیع الغرقد میں موجود تمام صحابہ کرام، اہل بیتِ اطہار اور امہات المؤمنین کی قبور کو پکی تعمیرات، مزارات یا نام کی تختیوں سے پاک رکھا گیا ہے۔
قبرِ مبارک پر پتھر بطور نشانی موجود ہیں، جو کہ قرونِ اولیٰ کی اسلامی سادگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
بقیع کے آخری حصے میں ایک چبوترے اور حفاظتی جنگلے کے اندر یہ مبارک مقام دیکھا جا سکتا ہے۔ سعودی وزارتِ امورِ اسلامیہ کی جانب سے وہاں ایک نیلا معلوماتی بورڈ بھی نصب ہے جو زائرین کو مسنون طریقے سے سلام پیش کرنے اور بدعات سے بچنے کی ہدایت کرتا ہے۔
#Sayyedzada
Disclaimer: This report is based on publicly available information and shared for informational purposes only.
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر نے زائرین اور صارفین کی توجہ حاصل کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور دامادِ رسول، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی قبرِ مبارک ہے، اسلامی روایات اور تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ دعویٰ مکمل طور پر درست اور مستند ہے۔
اسرائیل کی لاکھوں ٹن بارود سے غزہ کے خان یونس علاقوں پر بمباری جاری دنیا خاموش ۔
🚨🚨اللہ اکبر یہ سب کچھ ایران امریکہ جنگ بندی کے باوجود ہو رہا ہے ۔
پوری دنیا کا میڈیا خاموش ہے ۔اقوام متحدہ خاموش ہے ۔امن معاہدہ میں نہ اسرائیل تھا نہ اس نے قبول کیا تھا یہ ہمارے واردتیے ٹرمپ پیچھے لگ کے تالیاں فوٹویں لیتے رہے ۔
اسرائیل کی سفاکانہ دہشت گردی جاری ۔۔رات کے اندھیرے میں بمباری ۔۔
کیا ہمارا میڈیا آواز اٹھا رہا ہے ؟
آج صبح اسرائیلی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بولا اور اس کے صحن میں اجتماعی رسومات ادا کیں۔
وہ اپنی یلغار جاری رکھے ہوئے ہیں، اور یہ نام نہاد امتِ مسلمہ بدستور غفلت کی نیند سو رہی ہے۔
ایک لکسمبرگ کی پری اسکول ٹیچر جس کا نام فاطمہ تھا، کو اس کے اسکول سے اس لیے برطرف کر دیا گیا کہ اس نے غزہ میں نسل کشی کے دوران تکلیف اٹھانے والے فلسطینی بچوں کی حمایت کی تھی، مبینہ طور پر صہیونی لابی کے دباؤ کی وجہ سے۔
جن بچیوں کو وہ پڑھاتی تھی اور ان کے اہلِ خانہ اس کی حمایت میں سامنے آئے اور مطالبہ کیا کہ اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔
ہم ایک ایسے نظام میں رہتے ہیں جہاں ہمدردی کو سزا دی جاتی ہے اور بچوں کے قتلِ عام کرنے والوں کو سزا نہیں ملتی۔
سابق امریکی انٹیلیجنس آفیسر Josephine Guilbe :
"ہمارے پاس وہ ٹیکنالوجی موجود ہے جو ہمیں بلڈنگ کے اندر لوگوں کی تعداد، بچوں کی تعداد، ان کی شناخت بتانے کی صلاحیت دیتی ہے، اور اس کے باوجود، اسرائیل بچوں کو ہدف بناتا ہے اور جان بوجھ کر انہیں مار دیتا ہے۔"
VİDEO + 18 değil aslında izleyenlerin içni parçalıyor!
İsrail'in ABD desteğiyle Gazze'de yaptığı katliamı unutmayın unutturmayın‼️
Gazze’de yapılanları unutmayın!
Gazetede soykırım yapıldı yapılmaya devam ediyor
Gazze İsrail Suriye abd Rusya Putin Devlet Bahçeli okan güran Terörsüz Türkiye #SüreciBaltayacağız İmralı Kürtçe Abdullah Öcalan Şehit Cübbeli yunanistan 57 Rahmetle Ahmet Türk Sondakika GenelAf patlama erdoğan
Siyonist işgalciler katliama devam ediyor.
Aşırı hassas içerik⚠️
gazze'de İsrail hava saldırısında bir Filistinli çocuk, yıkıcı bir kafa travması geçirdi. Ciddi travmaya ve son derece sınırlı tıbbi kaynaklara rağmen, doktorlar onun hayatını kurtarmayı başardı.
جنوبی غزہ میں بچوں کا ایک اور اسکول اسرائیل نے حملے میں تباہ دیا.
رپورٹس کے مطابق، غزہ کے 92 فیصد سے زیادہ فلسطینی سکول تباہ ہو چکے ہیں؛ 6 لاکھ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔
یہ صرف عمارتوں کی تباہی کی بات نہیں ہے؛ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کسی قوم کی یادداشت، مستقبل اور ثقافت پر لڑی جا رہی ہے۔
غزہ میں نسل کشی صرف جسموں کو نہیں بلکہ نسلوں اور آنے والے کل کو بھی نشانہ بنا رہی ہے.