شاید تاریخ میں کبھی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں ملک کا 80 فیصد حصہ تباہ ہو گیا ہو، 100 فیصد آبادی بے گھر ہو گئی ہو اور ہلاک ہونے والوں میں 50 فیصد بچے ہوں۔
اسی کو تو نسل کشی کہتے ہیں، جو اسرائیل اب بھی کر رہا ہے.
ایک امریکی خاتون غزہ کے بچوں کے محاصرے کی وجہ سے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں:"اے بیمار دنیا، اے لوگو! تم نے غزہ کے بچوں کو کیسے بھوک کا شکار ہونے دیا اور تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوا، تم نے ان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا؟"
🚨 بریکنگ نیوز: اگر دُنیا بے حس نہ ہوتی تو یہ ظُلم ایپسٹن فائلز سے بھی بڑا سکیمڈل بن جاتا غزہ سے واپس آنے والے ایک برطانوی سرجن کا الزام ہے کہ جب فلسطینی بچوں کی لاشیں واپس کی گئیں تو اُنکے دل، پھیپھڑے اور جگر نکالے گئے تھے (غائب تھے)۔
ایک ہی دن میں 70 بچے 💔
اس ویڈیو کو لاکھوں ویوز ملنے چاہئیں۔خدارا فلسطین کے بارے میں بات کرنا بند مت کریں، چاہے آپ اکیلے ہی آواز اٹھانے والے کیوں نہ ہوں۔ شیئر کریں، شیئر کریں، شیئر کریں۔۔۔۔
🔴 ان بچوں کو کس نے مارا؟ — اے آزاد دنیا، ہماری طرف دیکھو! — اس مظلوم قوم کے خلاف ہونے والے اس حقیقی قتلِ عام کے سامنے آپ لوگ کہاں ہیں؟ غزہ کے ایک ہیلتھ کیئر ورکر (طبی کارکن) نے اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے بچوں کی لاشوں کے سامنے اس صورتحال پر عالمی رائے عامہ کی خاموشی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
تاریخ میں لکھا جائے گا کہ🇵🇸
فلسطین پر ظلم کرنے والے مٹھی بھر صیہونی تھے۔
مگر انہیں روکنے کے لیے56 مسلم ممالک موجود تھے
غزہ کے بچے بھوک سے بلکتے رہے، مائیں اپنے لختِ جگر دفناتی رہیں، اور امت کے حکمرانوں کی خاموشی ظلم کی گواہ بنتی رہی! کل تاریخ پوچھے گی:طاقت تھی تو روکا کیوں نہیں
فلسطینی بچی کی دل ہلا دینے والی فریاد 💔
"میرے اللہ! ہم تھک چکے ہیں… ہمیں نہیں معلوم کہاں جائیں، جہاں بھی جاتے ہیں وہاں انخلاء کا حکم آجاتا ہے۔"
یہ صرف ایک بچی کی آواز نہیں، پوری غزہ کی چیخ ہے🇦🇪
روٹی ایک خواب ہے، خالص پانی ایک خواہش ہے، اور کھانا ایک معجزہ ہے۔ جسم خاموشی سے مرجھا جاتا ہے، اور بھوک روحوں کو تباہ کر دیتی ہے۔🇵🇸💔
ہم اللّٰه تعالیٰ سے اس امت کی شکایت کرتے ہیں☝🏻
آوازِ فَلسطِین
ایک سوڈانی خاتون 🚨
خدا کے واسطے ہمارے حالات پر ایک نظر ڈالیں۔ بھوک نے ہمیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔ نہ کھانا ہے اور نہ ہی دوا۔اس ویڈیو کو شیئر/پبلش کریں، شاید یہ کسی درد دل رکھنے والے تک پہنچ جائے۔
ایسی سفاکیت تو ہٹلر کے جرمنی میں بھی نہ دیکھی گئی ہو گی۔ نہتے بچوں کو ہینڈ اپ کروا کے جانے کے لیے کہنا اور پیچھے سے سر میں گولی مار کر شہید کر دینا۔
امریکی و یورپی بتائیں اس بربریت کو سپورٹ کرنے والا مہذب انسان تو کیا، محض انسان کہلانے کے لائق بھی ہے؟
"اسرائیل" نے غزہ کو دنیا میں ایسے بچوں کا مرکز بنا دیا ہے جن کے اعضا کاٹے جا چکے ہیں؛
گزشتہ تین سالوں کے دوران 40 ہزار سے زائد فلسطینی بچے زخمی ہوئے اور اپنے اعضا سے محروم ہو گئے، جس کی اوسط شرح روزانہ 36 بچوں کے اعضا کٹنے کے برابر ہے۔
ظلم و بربریت کے سامنے خاموشی اختیار کرنا دراصل خود اس کا حصہ بننے کے مترادف ہے.
اے امتِ محمدؐ، آپ کہاں ہیں؟
اے اللہ کے بندو، آپ کہاں ہیں؟
غزہ کی پٹی میں آپ کے مظلوم بہن بھائی دم توڑ رہے ہیں۔ 😭
غزہ کے بچوں نے ایسا کیا کیا ہے کہ وہ اس سلوک کے مستحق ٹھہرے؟
اے اللہ! ہر روز انہیں بھوکا مارا جا رہا ہے
اور قتل کیا جا رہا ہے۔
آپ کہاں ہیں؟🇵🇸