The society we live in, does not consider the character of a person, rather we are given a certificate of being good or bad, considering the opinion of the people around us.
اپنے جسم کے ٹکڑے کر کے
پہروں سوچ بچار کے بعد
میں نے اپنا ملبہ بیچا
ہاتھ تو ہاتھوں ہاتھ بِکے
پاؤں بھی کوئی لے ہی گیا
آنکھیں میں نے رکھ لی ہیں
یہ میں اس کو بیچوں گا
جو تیری گلی میں رہتا ہو
سنا ہے شہر کی خاموشیوں پہ
قہر ٹوٹے گا
کسی کا جسم بولے گا
کسی کی ذات بولے گی
تمہیں معلوم ہے کچھ
بولنا کتنا ضروری ہے
اگر خاموش ہو جاؤ گے تو پھر
مات بولے گی۔۔۔!!!
وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(ہود:۱۰۲)
“ اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے”
ایک دوسری جگہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’جس نے کسی ظالم کی اس کے ظلم پر مدد کی وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو گا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہے۔( مسند الفردوس، باب المیم، الحدیث: ۵۸۲۳)
رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو، خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا توقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس ظالم سے انتقام لے گا۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الظلم والغضب، ۲ / ۲۰۲، الحدیث
چشمِ سالار کو آئینہ دِکھا سکتا ہوں
وقت پڑنے پہ میں تلوار اُٹھا سکتا ہوں
یہ الگ بات کہ میں چھوڑ چُکا کوزہ گری
تیرے جیسے تو میں مِٹی کے بنا سکتا ہوں
میرے دریا تُو مجھے اچھی طرح جانتا ہے
میں کسی وقت کسی موج میں آ سکتا ہوں