مولانا صاحب کی تقریر پر اعتراضات ہو رہے ہیں مولانا صاحب ایک زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اگر ان کا لہجہ تلخ ہوا تو کوئی وجہ ضرور ہو گی یہ جو سرکاری گالم گلوچ ٹیم چھوڑی گئی وہ غلط ہے لیڈران اپوزیشن کے دور میں بہت سی باتیں کرتے ہیں نوازشریف صاحب ، مریم نواز صاحبہ ، بینظیر بھٹو صاحبہ دیگر بہت سے لیڈران ایسی باتیں کرتے رہے ہیں آج نون لیگ کا اقتدار چلا جائے نون بھی یہ باتیں کرنے لگ جائے گئ
مولانا نے کبھی ریاست کے خلاف اپنی سٹریٹ پاور استعمال نہی پاکستان میں اس وقت بہت مسائل ہیں اگر کوئی لیڈر تنقید کا جمہوری حق استعمال کر رہا تو کرنے دیں آپ مہذب طور پر ان کی باتوں کا جواب لازمی دیجئے مگر ٹرولنگ درست نہی ہے
🚨🚨اہم ترین
آج دنیا میں تیل کی عالمی قیمت دو ڈالر تک کم ہوئی مگر پاکستان والے فرعونوں نے اس میں چودہ روپے لیٹر بڑھا دی ہے
جو بھی راتب خور حمایت کرے آپ اس کو گھر تک چھوڑ کر آہیں یہ لعنتی حکمرانوں سے بھی برے ہیں
اب جو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے اس حکومتی فیصلے کو بھی ڈیفینڈ کریں گے ان کے
ضمیر کا کیا معیار ہو گا؟
جب تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں کم ہوں تو پاکستان میں تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے 4 ہفتے انتظار کرنے کا کہا جائے اور جب عالمی مارکیٹ میں بڑھیں تو ایک،دو دن میں قیمتیں بڑھا دی جائیں۔
حکومت سے بھی بڑے قوم کے اصل دشمن ایسے فیصلوں کو ڈیفینڈ کرنے والے "دانشوڑ"ہیں۔
(اسد آر چوہدری)
اب آپ کو اندازہ ہوگا یہ اشرافیہ تن من دھن سر کی بازی لگا کر،پھانسی، قتل جلاوطنی یا قید کی سزائیں بھگت کر بھی ہر قیمت پر ایم این اے/سینٹر/ایم پی اے بننا چاہتے ہیں کہ وہاں مراعات ہی بے پناہ ہیں۔ خاندان سدھر جاتے ہیں۔ نسلوں تک کا مستقبل سنور جاتا ہے۔
ہر ماہ صرف چند دن کا چند گھنٹے کا اجلاس ہوتا ہے لیکن پورے ماہ کی سات آٹھ لاکھ روپے تنخواہ اور پھر ایک ایک لاکھ روپے فی قائمہ کمیٹی اجلاس کا الاونس الگ اور پھر سینٹ/اسمبلی اجلاس میں حاضری کا الگ الائنس اور پھر بیرون ملک مفت سیر سپاٹے، پی آئی آے ٹکٹس فری، ٹی اے /ڈی اے الگ، میڈیکل فیملی سمیت فری، کروڑں کا ترقیاتی فنڈ الگ جہاں بقول شاہد خاقان عباسی کمشن الگ ( سب نہیں لیتے ہوں گے)۔ اور اب تاحیات خاندان سمیت بلیو پاسپورٹ الگ۔
پچیس کروڑ پاکستانی جو سبز پاسپورٹ رکھ کر انہیں ووٹ دیتے ہیں یہ ممبران/ان کا خاندان ان سب کا ووٹ لیتے ہی اس سبز پاسورٹ سے جان چھڑا لیتے ہیں۔
یہ جو عوام کی قسمت اور حالت بدلنے آتے ہیں سب سے پہلے اپنی اور خاندان کی حالت بدلنے پر کام کرتے ہیں۔
حیران ہوں ان سب کو پاکستانی سبز پاسپورٹ اتنا ناپسند /نفرت کیوں ہے جو ہم باقی کروڑں پاکستانی استمعال کرتے ہیں؟ یہ ارکان اور ان کے بیوی بچے کروڑں سبز پاکستانیوں سے الگ اپنی بلیو شناخت کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟
سوال یہ ہے ان سب کو خاندان سمیت تاحیات بلیو پاسپورٹ کیوں؟ تاکہ غیرملکی ائرپورٹس پر ان کی شناخت الگ ہو کہ یہ کوئی مختلف خلائی مخلوق ہے کیونکہ سبز پاسپورٹ والے اکثر ائرپورٹس پر ذلیل ہوتے ہیں۔ غیر ملکی سفارت خانے سبز پاسپورٹ کو اکثر ویزے نہیں دیتے۔
یہ سب بلیو پاسپورٹ کی شکل میں خود کو اس ذلالت سے بچانے کا بندوبست کررہے ہیں تاحیات اپنی خاندان اور بچوں تک کے لیے بھی۔
یہ ہیں ہمارے نمائندے اور حکمران جو اس عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں جس کی طاقت سے اب یہ ان جیسا سبز پاسپورٹ نہیں رکھنا چاہتے۔ ان سے الگ لگنا چاہتے ہیں۔ یہ خود کو chosen people سمجھ کر ہی حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔
دنیا میں فرعون سے بھی بدتر حکومت نون لیگ کی موجودہ شہباز شریف والی حکومت ہے جب سستا کرنا ہوتا ایک دو روپے مر مر کر کرتے جب مہنگا کرنا ہوتا تو بارہ پندرہ روپے کرتے ہیں پیٹرول 310 روپے لیٹر کر دیا ہے ابھی عالمی منڈی میں مہنگا نہی ہوا اور ایک دن میں یہ مہنگا کر بھی چکے تین ہفتے سستا پیٹرول تھا وہ مہنگا بیچتے رہے
ان پر روز ویسے لعنت بھیجیں جیسے شیطان پر بھیجتے ہیں
دہشتگردی میں حکومت ناکام نہیں، بلکہ دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہی ہے، مولانا عبدالواسع۔
دہشتگردی ایک بین الاقوامی منصوبہ ہے، اس کے پیچھے منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔
ریاست ڈالر بٹورنے کے لیے یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہے،
سانحہ ہنہ وڑک کے خلاف جاری احتجاجی دھرنے میں شرکت
پنجان لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ اتھارٹی نے اپنی خدمات کی نئے مالی سال2026-27کیلئے فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے
مییوٹیشن، زمین کے فرد، خسرہ گرداوری کی ایکسپریس سروس کے چارجز (بمع ایم اے آر سی اور یونیورسل ایکسیس) کے ا چارجز3500 روپے سے بڑھاکر4000روپے کر دئے گئے ہیں
زمین کے فرد، میوٹیشن اور خسرہ گرداوری کانارمل اجراء بغیر ایکسریس سروس کے چارجز 800روپے سے بڑھاکر900روپے کر دئے گئے ہیں
گرین پراپرسٹی سرٹفکیٹ کے اجراء کی فیس800روپے فی دستاویز کر دئے گئے ہیں
رجسٹری کی کی دستاویز کے اجراء کی فیس1300روپے سے بڑھاکر1400روپے کر دی گئی ہے
نقل اراضی ریکارڈ کی فیس 900روپے سے بڑھاکر5000روپے کر دی گئی ہے جائیداد کی خرید و فروخت اور دیگرمقاصد کیلئے رجسٹرڈ ڈیڈ کی دستاویز کے اجراء کی فیس 600روپے سے بڑھاکر1400روپے کر دی گئی ہے
بینکوں اور دیگر محکموں کی جانب سے لینڈ ریکارڈ، میوٹیشن، زمین کے فرد اور جی پی سی کی تصدیق کی فیس کامیاب ٹرانزیکشن کی صورت میں1000روپے اور ناکام ٹرانزیکشن کی صورت میں 700روپے کر دی گئی ہے
ایکسپریس میل سروس کے زریعے میوٹیشن کی دستاویز کے اجراء کی فیس9700روپے سے بڑھاکر11,200روپے،
بینکوں کے زریعے انٹرکی جانے والی جائیداد کی میوٹیشن کی فیس1100روپے سے بڑھاکر2100روپے،
بینکوں اور ایکسپریس سروس کے بغیر انٹر کروائی جانے والی میوٹیشن کی دستاویز کا اجراء کی فیس1100روپے سے بڑھاکر1200روپے،
الیکٹرانک رجسٹریشن کے زریعے زمین و جائیداد کے تعین کیلئے کمیشن کی اپوائینمنٹ کی فیس6100روپے سے بڑھاکر6700روپے،
الیکٹرانک رجسٹریشن پورٹل کے زریعے زمینوں اور جائیدادوں کی فروخت کی تمام ٹرانزیکشنز کیلئے فیس3600روپے یا جائیداد کی مالیت کے 0.1فیصدفیس،
ہاوسنگ سوسائیٹیوں، کواپریٹیو ہاوسنگ سوسائیٹیوں، اور ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز کی جانب سے کی جانے والی پراپرٹی ٹرانسفر سسٹم کی ٹرانزیکشن2500روپے سے بڑھاکر3600روپے،
پاکستان کے غیر ممالک میں قائم سفارتخانوں ہائی کمشنز اور پاکستانی چانسریز اور دیگر سفارتی دفاتر سے زمین کے فرد، خسرہ گرداوری رجسٹرڈ ڈیڈ، جی پی سی و دیگر دستاویز کی نقول کے اجراء کی موجودہ فیس6100 کے ساتھ ساتھ50امریکی ڈالر نئی اضافی فیس لاگو کر دی گئی ہے
زمین کی نشاندہی زمین کے مقام اور اس کی پیمائش، مالکان کی نشاندہی کیلئے مقرر کروائے جانے والے قانونی غیر ملکی مشن یا لوکل مشن کی تقرری کی موجودہ فیس 6100روپے کے ساتھ ساتھ100امریکی ڈالر کی نئی فیس عائد کر دی گئی ہے
ریونیوکورٹس میں جائیداد کے تنازعات کے حل کیلئے دائیر کی جانے والی درخواستوں اور کیسوں کی فیس 3500روپے فی کیس کر دی گئی ہے
حکومت کا بجٹ میں امریکی دباو پر پیپسی کمپنی کو ٹیکس میں ریلیف
مہنگائی سے پریشان عوام آج بھی آٹے، چینی، بجلی، گیس اور روزمرہ کی ضروریات پر بوجھ اٹھا رہی ہے، جبکہ اربوں کمانے والی کمپنیوں کے لیے ٹیکس میں نرمی کر دی گئی۔
فنانس بل 2026 میں کم شوگر اسپورٹس ڈرنکس گیٹوریڈ اور ریوائیو پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی گئی
امریکی سفارتخانے نے پاکستانی حکومت کو مشروب ساز کمپنیوں کے ٹیکس اور کسٹمز مسائل حل کرنے پر زور دیا تھا۔
اگر ریلیف دینا ہی تھا تو پہلے غریب اور متوسط طبقے کو دیا جاتا، جن کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
ریاست کی اصل ترجیح وہ لوگ ہونے چاہییں جو مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں، نہ کہ صرف بڑی کارپوریشن
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈوگے تو اس ملک میں قاتل نہ ملے گا
پولیس اہلکاروں کی لاشیں۔ جو اسلحہ نہ ہونے کی وجہ مارے گئے۔ اہلکاروں نے فون کیا کہ ان کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں
مگر دن 12 سے رات 8 بجے تک اطلاع پہنچ جانے کےباوجود حکومت نے انکو بچانےکی کوشش نہیں کی۔
Israeli air attacks and gunfire have killed at least nine Palestinians in Gaza, according to health officials in the besieged territory.
At least 1,084 Palestinians have been killed in Gaza since the “ceasefire” took effect in October.
🔗: https://t.co/8QiykmxcO6
یہ پختونخوا کے حالات ہیں
شانگلہ میں رات کو کچھ لوگ ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں چار بچوں کی ماں کو بچوں کے سامنے سے اغواء کرکے لے جاتے ہیں اگلے روز جنگل سے لاش ملتی ہے
جبکہ پختونخوا کی بدبخت حکومت، کلنڈرے اور کھمبے وزراء ہر ھفتے اڈیالہ کے باہر ناچتے ہیں
سستا پیٹرول خرید کر مہنگا ترین بیچ رہے ہیں سستی گیس مہنگی بیچ رہے بجلی کے بل میں فکسڈ ٹیکس ہے ایک یونٹ اوپر جانے پر چھ مہینے کی سزا ہے یہ سب عوام کی جیب سے لے کر اراکین اسمبلی کو تاحیات مفت بجلی کے بل پاس کر رہے ہیں
لعنتیں کردار
اگر واقعی ، جان ، ہے تو حکمرانوں اور مقتدرہ کو بے چین کیوں نہیں کرتا؟
اگر یہ ہماری ، شان ، ہے تو یہاں کا شہری خود لاوارث کیوں محسوس کر رہا ہے؟
اگر واقعی بلوچستان، آن ، جان ، شان ، ہے تو پھر لفظی تسلی کے بجائے حقیقی تحفظ ، امن ، اور انصاف کی ضرورت ہے۔
کے پی حکومت عوامی تنقید کے بعد بل واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے داد دیجئے نون لیگ کو آج تک الیٹ کی مراعات وزیروں کی نو سو فیصد تنخواہ سپیکر چئیرمین سینٹ کی چیپڑ پھاڑ تنخواہ ججوں کی پینشن میں سات سات لاکھ کا اضافہ سمیت کسی کام سے کبھی پیچھے نہی ہٹی ہے بھلے جتنی مرضی تنقید کر لو یہ تو اراکین اسمبلی کے بزنس ٹکٹ تک پچیس سے بڑھا کر تیس کر چکے ہیں
آر ایس ایس تقسیم کو نامکمل سمجھتی ہے۔ آر ایس ایس مسلمانوں کو بھارتی سیاست پر داغ اور دوسرے درجے کے شہری کے طور پر دیکھتی ہے۔
ہندو راشٹر کے تصور میں ہندو فطری شہری ہیں، جبکہ مسلمانوں کو پاکستان یا بنگلہ دیش سے جوڑا جاتا ہے۔
بھارتی پروفیسر نراجا گوپال جیال
کے پی حکومت کے نئے قانون میں ہاتھ یہ ہوا ہے کہ رکن اسمبلی کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ اگر اسے عدالت نے بلایا تو اسے استثنیٰ حاصل ہوگا، کہ وہ اس دن عدالت میں پیش نہ ہو۔ اس میں لفظ کوٹ پروسیڈنگ استعمال ہوا، مطلب کہ مجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ کی عدالت تک استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ وہ جماعت ہے جب ان کی حکومت میں لوگ چیختے تھے کہ پروڈکشن آرڈر جاری کریں تو وہ کہتے تھے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، ایک ملک میں دو قانون نہیں ہو سکتے، ہم جیسے دیوانے اس وقت سمجھاتے تھے کہ پوری دنیا میں منتخب رکن کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ فلور پر جائے۔ لیکن ہمارے ہاں صحافیوں کی اکثریت نے عشق میں مبتلا ہو کر کہا کہ ان کی بات ٹھیک ہے کہ قانون برابر ہونا چاہیے، اگر ایک شخص کو منی لانڈرنگ کے کیس میں پکڑا ہوا ہو تو وہ بے شک قائد حزب اختلاف ہی کیوں نہ ہو تو وہ عدالت میں پیش ہو۔ رانا ثنا اللّٰہ پر منشیات کا مقدمہ تھا، کہتے رہے کہ جب تک عدالت سے ثابت نہیں ہوتا تب تک یہ جھوٹا ہے، لیکن جب تحریک انصاف کی اپنی باری آتی ہے تو نیا قانون پاس کر دیتے ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو
@javeednusrat@_AdnanHaider
پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں بڑھائی گئیں تھیں جو کہ نہیں بڑھانی چاہیں تھیں میڈیا اور یوٹیومرز نے کہرام مچا دیا تھا خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایسی مراعات منظور کی گئیں ہیں جو دنیا کے کسی ملک میں ارکان اسمبلی کو میسر نہیں ہیں اس پر سارا میڈیا اور یوٹیومرز خاموش ہیں