SKMCH&RC FUND METER UPDATE
The budget of Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital and Research Centre for the year 2026 is Rs. 43.3 billion.
More than half of it is raised through your donations and Zakat.
Donate now: https://t.co/QPl9pCfLIv
#SKMCH#ShaukatKhanumFundMeter
عمران ریاض ، شہباز گل ، معید پیرزادہ ، صدیق جان ، وقار ملک ، وجاہت سعید سب دوکاندار ہیں۔ انکے یوٹیوب پر سپر سٹور چلتے ہیں۔ پھر احمد علی خان ، ابوبکر ، الہ دین جیسے فیس بک کے مارتا اونرز ہیں جنکی وہاں اچھی خاصی دوکانداری ہے۔ جٹ اٹھ سو چار جیسے ٹک ٹاک والے بڑے بڑے سیٹھ الگ ہیں۔ ہم جیسوں کے بھی چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں۔ ہم سب مل جل کر ایک بہت بڑی کاروباری ایمپائر چلا رہے ہیں۔ ہماری پراڈکٹس میں خبر ، تجزیہ ، تبصرہ ، سیاست ، معیشت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں دس بارہ کروڑ لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کی معلومات اور خبریں ان تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب ہمارے گاہک ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو مرضی کی خبر خریدتے ہیں۔ اپنی پسند ناپسند کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سارا دن ونڈو شاپنگ کرتے رہتے ہیں اور جو چیز نظر آئے وہ اٹھا کر جیب میں ڈال لیتے ہیں۔
اب یہ ساری مارکیٹ یہ ساری انڈسٹری اتنی بڑی آڈینس کو کیا بیچ رہی ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیا بیچ رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ بیچ رہی ہے ، سہیل آفریدی کی ملاقات بیچ رہی ہے ، سرپلس بیچ رہی ہے ، بیرسٹر گوہر پر تنقید بیچ رہی ہے ، قیادت بیچ رہی ہے ، کور کمیٹی بیچ رہی ہے ، اسمبلی کا اجلاس اور اس میں ہونے والی تقریر بیچ رہی ہے۔ پھر اس میں یہ سیٹھ لوگ اپنی ذاتی پسند ناپسند ، سوجھ بوجھ ، لابئینگ یہ سب بھی بیچ رہے ہیں۔ اس دوران واردتیے ہر دوسرے تیسرے ہفتے ٹھنڈی ہوائیں والا ٹھیلا بھی لگا کر نکل جاتے ہیں۔
یعنی دس بارہ کروڑ ونڈو شاپرز کو ستر اسی فیصد پراڈکٹ وہ بیچی جارہی ہے جس کا امپیکٹ صفر ہے۔ یعنی بیرسٹر گوہر پر تنقید سے کیا حاصل ؟ سلمان اکرم راجہ پر تنقید سے کیا حاصل؟ کسی ملاقات پر تنقید سے کیا حاصل ؟ ادھر ادھر کی فضول لاتعداد چیزیں بہت سارا قیمتی وقت کھا جاتی ہیں۔
اب زرا سی دیر کو فرض کریں کہ درمیان میں سے تحریک انصاف کی قیادت ، اسمبلی ، حکومت والا سب کچھ نکل جاتا ہے۔ یعنی تحریک انصاف اسمبلیوں سے الگ ہوجاتی ہے ، اس سسٹم سے بالکل آوٹ ہوجاتی ہے تو یہ سب دوکاندار کہاں جائیں گے؟ دوکانیں ٹھپ کردیں گے؟ گاہک کدھر جائیں گے؟ نیپال چلے جائیں گے؟
نہیں ! یہ دوکاندار پھر مختلف قسم کی پراڈکٹس بیچنا شروع کردیں گے۔ یہ حقیقی عوامی مسائل کا ذکر کریں گے۔ انکی وجوہات پر فوکس کریں گے۔ عوام میں شعور پیدا کریں گے۔ جو وقت اور توجہ سہیل آفریدی ، سلمان اکرم اور بیرسٹر گوہر پر ضائع ہوتا ہے یہ نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کی کمزور اور بے بس قیادت کی آڑ میں جس طرح تحریک انصاف کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ ان کی شمولیت سے نظام کو جو لیجٹمیسی حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی۔ پھر وہ ہوگا جو آج کشمیر میں ہورہا ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے اپنی مرضی کی قیادت چن کر نکلیں گے۔
تحریک انصاف کا اب ایوانوں ، اسمبلیوں میں موجود ہونا تحریک انصاف کے لیے عمران خان کے لیے اور عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔ تحریک انصاف اتنی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرپارہی ، ان کے لیے علاج کی سہولت نہیں لے پارہی۔ الٹا کٹھ پتلیوں سے تعاون اور خفیہ ملاقاتوں کے سبب ذلیل ہورہی ہے۔
“آپ بتائیں عمران خان کس چیز سے Step back کریں؟ عمران خان آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، کیا اس سے step back کریں؟ عمران خان نے کہا شفاف انتخابات قوم چاہتی ہے، کیا اس سے پیچھے ہٹنا ہے؟ آپ قوم سے پوچھیں عمران خان کس چیز سے پیچھے ہٹیں؟ عمران خان جیل میں اس لیے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں قبول کررہے، وہ کہتے ہیں میں اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔۔”
- @Aleema_KhanPK
#FreeImranKhan
گلگت میں پیپلز پارٹی کو حکومت دے کر سلیکٹ کیا گیا اور ن لیگ کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا
جبکہ دوسری طرف کشمیر میں ن لیگ کو حکومت دے کر پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بٹھایا جائے گا۔
یہ دونوں برائے نام کی سیاسی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی لونڈیاں ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ کا اصل مقصد عوام کو مایوس کرنا ہے کہ آپکے ووٹ سے کوئی تبدیلی نہیں انی لیکن مایوس نہیں ہونا انشااللہ وقت ائے گا جب عوامی مینڈیٹ کی ہی جیت ہو گی۔
سانحہ راولا کوٹ بیشک بہت بڑا ہے اس کا عُشرعشیر بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ لیکن کشمیریوں نے تمام ڈیجیٹل شواہد جمع کرکے اوورسیز کشمیریوں کو بھجوا دیے ہیں نمبر کافی زیادہ ہے
کوئی آبرو رکھنے والا پاکستانی راولاکوٹ میں ہونے والے ظلم اور انسانوں کے قتل عام پہ خاموش نہیں رہ سکتا!
پاکستان میں انسانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے لیکن ہم بے حس لوگ خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
موت تو ایک اٹل حقیقت ہے اور موت کا خوف کسی کو بھی موت سے بچا نہیں سکتا کیونکہ دیر سے ہی سہی، اسے آنا تو ہے۔ تو کیوں نہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا سامنا کیا جائے اور موت آنے سے پہلے ایک لاش کی طرح زندہ رہنے کی بجائے اس زندگی کو جیا جائے چاہے اس کی عمر کتنی ہی ہو!
#سانحہ_راولاکوٹ
کشمیری نوجوان اپنے حقوق کی خاطر گولیاں کھا کر بھی مزاحمت کررہے ہیں اور جدوجہد کیلئے پرعزم ہیں
گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو بھی اپنے ووٹ کی حفاظت کیلئے بھرپور مزاحمت کرنی چاہیے، مسلسل جدوجہد ہی حقیقی آزادی دلوا سکتی ہے
اس وقت جشن ضروری نہیں
اس وقت رزلٹ حاصل کرنا اور وکٹری سپیچ کرنا ضروری ہے
مگر بیرسٹر گوہر وہاں 8 فروری کی ظرح سوائے روں روں کرنے کے کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں
اور اس کا نقصان صبح سب کو نظر آ جائیگا