استحکام پارٹی ، جماعت اسلامی ، bap, جے یو آئی ، ایم کیو ایم ، پیر پگاڑہ ، پی ٹی آئ کے بھگوڑے مل کر پانچ بجٹ پیش کر سکتے ھیں صرف ازاد حثیت میں الیکشن لڑنے پر پابندی ھو صیاف ستھرا الیکشن بھی ھو جائے گا ۔ فارم 47 کی ضرورت بھی نہیں ھوگی ۔ عوام اور اسیبلشمینٹ دونوں خوش
شہباز شریف نے 5واں بجٹ پیش کیا ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیراعظم ہے جس نے 5واں بجٹ پیش کیا ہے اس کے باوجود شہباز شریف کہہ رہے تھے ایڑھیاں رگڑنے دو ، اب یہ ڈرامے بازیاں نہیں چلیں گی ۔
صابر شاکر کی پروگرام بیانیہ میں گفتگو @ARYSabirShakir
غیر مقبول عمران خان
رجیم چینج سے پہلے عمران خان غیر مقبول نہیں تھا، عمران خان کا کور ووٹر خاموش تھا ۔ جس قدر تیز رفتار تبدیلی کی انہیں امید تھی وہ ہو نہ سکی تو لوگ مایوس ہوئے ، پھر انہی لوگوں کو رجیم چینج کے بعد سے اب تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ تیز رفتار تبدیلی آکیوں نہ سکی۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا عمران خان کا کچھ ڈس کنیکٹ ہوگیا تھا۔ عمران خان 2008 سے لیکر آج تک پاپولر پالیٹکس کا کھلاڑی ہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد دو اڑھائی سال تک عمران خان کے روایتی جلسے جلوسوں کو بریک لگ گئی۔ اس کی وجہ سے لوگ اوجھل بھی ہوئے لیکن جیسے ہی عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیج وہیں پر جاپہنچی۔
نو اپریل کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ دس اپریل کو سارا پاکستان بغیر کسی کال کے سڑکوں پر تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا۔ عمران خان کو غیر مقبول دکھایا جارہا تھا۔ دکھانے والے کون تھے؟ جی ہاں یہی میڈیا ہاوسز جو آجکل برہنہ ہوئے پھرتے ہیں۔ وہی صحافی جو جون 2021 سے بتا رہے تھے کہ گل ہوگئی ہے ، “ تجربہ کار “ آرہے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو سندھ ہاوس میں ہونے والی سودے بازیوں میں بھی بروکر تھے ، جو سیاستدانوں کے جہازوں کے بھی ہمسفر تھے۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کا خیال تھا کہ نشان چھین لینے سے ، کیمپین نہ کرنے سے ، عمران خان کو جیل میں ڈال دینے سے تحریک انصاف تیس چالیس تیس چالیس تیس چالیس۔ یہ وہی ہیں جن کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار آئے گا معیشت چلائے گا۔ یہ وہی ہیں جن میں سے کسی کا پٹرول پمپ نکلتا ہے ، کسی کے لیے کسی ادارے کی چئیرمینی نکلتی ہے ، کسی کے لیے مراعات اور لاکھوں تنخواہ کی نوکری۔
یہ مری ہوئی لکیریں ہیں اب انہیں پیٹنے سے حاصل کچھ نہیں ، لیکن تاریخ کی درستی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تب بھی ان سے طاقتور تھا لیکن اس میڈیا کی سانسیں چلتی تھیں۔ رجیم چینج اور اسکے بعد انکے زوال کو گئیر لگ گیا۔ رجیم چینج نا ہوتا تو یہ میڈیا پانچ سات سال مزید نکال جاتا۔
اب واپس پلٹتے ہیں ، دس اپریل ، یہ وہ دن تھا جب ابھی نااہلوں کے اس ٹولے نے ایک دن بھی اقتدار میں نہیں گزارا تھا ، ابھی انکے تباہ کن فیصلے بہت آگے تھے ، ابھی تو نئی حکومت آئی سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی روپیہ اوپر گیا والی سوچ تھی اس کے باوجود لوگ عمران خان کے لیے بغیر کسی کال کے سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ پورا رمضان چلتا رہا۔ ہر روز لوگ مختلف شہروں میں نکلتے اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کرتے۔
کچھ غلطیاں بھی ہوئیں ، کچھ کوتاہیاں بھی اور غلط سیاسی فیصلے بھی ، جن کو ماپنے کا ہر کسی کا پیمانہ اپنا اپنا جدا جدا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلے بھی بہترین تھے اور عمران خان کی سفارتی پالیسی بھی۔ عمران خان پونے چار سال اقتدار میں رہا۔ نااہلوں کے اس ٹولے کو اقتدار سنبھالے چار سال ہوچکے ہیں۔ وہ پونے چار سال کہاں اور یہ چار سال کی ذلت و رسوائی کہاں۔
@Habib_afghan313 باچاخان بابا نے وصیت کی تھی کی مجھے غلام پاکستان میں دفن کرنے کے بجائے افغانستان میں دفن کرنا ۔ پی ٹی آئ باچاخان سے متفق ھے ۔ اس کا نظریہ اس کی اولاد اور پارٹی نے چھوڑ دیا ھے ۔اس وقت صرف پی ٹی ائی باچا خان کے نظریئے کی محافظ ھے ۔ جان کر جیو
#پِٹھو_پِٹھوہوتاہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو آئی سی یو (ICU) تک پہنچانے والا اصل 'قاتل' کون ہے؟
وہ ہیں 90 نجی بجلی گھر (IPPs)۔
ان کے مالکان اور معاہدوں کی لرزہ خیز تفصیلات جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے
ان خون آشام اداروں کی ملکیت کا بٹوارہ کچھ یوں ہے
شریف خاندان و ن لیگی رہنما: 44%
زرداری و پی پی پی رہنما: 24%
اسٹیبلشمنٹ: 10%
یعنی 78% حصہ صرف ان تین طاقتور گروپس کے پاس ہے۔
باقی 16% چینی و عرب سرمایہ کار اور 6% دیگر کے پاس ہے۔
اور اس پرظلم کی انتہا دیکھیے
یہ بجلی گھر پاکستان کی ضرورت سے 125% زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دکھا کر لگائے گئے،
مگر حقیقت میں صرف 48% بجلی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن عوام سے قیمت پورے 125% کی وصول کی جا رہی ہے
اسی لوٹ مار کا نتیجہ ہے کہ پچھلے 5 سال میں عوام کی جیب سے 6 ہزار ارب نکلوانے کے باوجود یہ ملک آج بھی ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہی وہ 90 لوگ ہیں جو ملک کی شوگر، سٹیل، سیمنٹ اور گاڑیوں کی صنعت پر بھی قابض ہیں۔ یہ ہے وہ نظام جو پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
عمران خان صاحب کے دور حکومت کے 63 اہم کارنامے !!!
1. اسلاموفوبیا ڈے اقوامِ متحدہ سے منظور
2. بھارت کو مؤثر جواب، ابھی نندن گرفتار
3. ڈرون حملوں کا مکمل خاتمہ
4. بڑے ڈیم منصوبوں کا آغاز
5. ایکسپورٹ 21 → 38 بلین ڈالر
6. ریکوڈک جرمانہ ختم، سرمایہ کاری میں تبدیل
7. تعمیراتی پیکیج → لاکھوں نوکریاں
8. ٹیکسٹائل اور آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافہ
9. بلین ٹری سونامی (ماحولیاتی اقدام)
10. کسانوں کو فائدہ، ریکارڈ فصلیں
11. ہیلتھ کارڈ → 10 لاکھ تک مفت علاج
12. پناہ گاہیں اور لنگر خانے
13. یکساں نصاب تعلیم
14. سٹیزن پورٹل → لاکھوں شکایات حل
15. روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ → اربوں ڈالر
16. زرمبادلہ 19 → 31 بلین ڈالر
17. کورونا اسمارٹ لاک ڈاؤن (عالمی تعریف)
18. روس کا تاریخی دورہ
19. سیاحت کا فروغ، اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ
20. آئی ٹی، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل سکلز
21. نئی کمپنیوں کی ریکارڈ رجسٹریشن
22. القادر یونیورسٹی کا قیام
23. خواتین تحفظ قوانین اور آن لائن FIR
24. خارجہ پالیسی میں خودمختاری (Absolutely Not)
25. سادگی، کفایت شعاری، کم خرچ حکومت
26. فاٹا انضمام اور نیشنل سکیورٹی پالیسی
27. احساس، کامیاب جوان، راشن پروگرام
28. مقامی صنعت اور اسمگلنگ کنٹرول
29. عوامی ریلیف (پیٹرول/بجلی قیمت کنٹرول)
30. نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام
31. کم لاگت گھروں کی اسکیمیں
32. تعمیرات پر ٹیکس ریلیف
33. SMEs (چھوٹے کاروبار) کے لیے سہولتیں
34. کامیاب پاکستان پروگرام
35. نوجوانوں کے لیے قرض اسکیمیں
36. زرعی ایمرجنسی پروگرام
37. گندم اور چاول کی ریکارڈ پیداوار
38. موبائل مینوفیکچرنگ کا آغاز
39. لوکل انڈسٹری کی بحالی
40. برآمدات کے لیے مراعاتی پیکجز
41. اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولتیں
42. ای گورننس کا فروغ
43. ڈیجیٹل پاکستان وژن
44. پولیس اصلاحات کے اقدامات
45. عدالتی اصلاحات پر کام
46. منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات
47. احتساب کا نظام مضبوط
48. سی پیک کے نئے فیز کا آغاز
49. گوادر کی ترقی کے منصوبے
50. توانائی منصوبوں کی تکمیل
51. بجلی پیداوار میں اضافہ
52. گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے اقدامات
53. ٹورازم ویزا آن ارائیول سہولت
54. شمالی علاقہ جات میں سیاحت کا فروغ
55. قومی ایئرلائن کی بہتری کے اقدامات
56. ریلوے میں بہتری کے منصوبے
57. احساس ایمرجنسی کیش پروگرام (کورونا)
58. غریب طبقے کے لیے راشن اسکیم
59. مزدور طبقے کے لیے سہولتیں
60. خواتین کے لیے کاروباری مواقع
61. اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز
62. یونیورسٹیوں اور ہائر ایجوکیشن میں اضافہ
63. کھیلوں کے فروغ کے اقدامات
تین سال میں پی ٹی آئی حکومت نے46 بلین ڈالر قرض لیا ہے
27 بلین ڈالر قرض واپس کیاہے اب رہ گیا 19 بلین ڈالر تو اس میں سے 7 بلین ڈالرسود دیا ہےباقی بچ گیا 12 بلین ڈالر تو 7۰5 بلین ڈالر reserve بڑھے ہیں تو کل قرضہ 5 بلین ڈالر لیا ہے ان تین سالوں میں۔ عقیل کریم
@zaighamkhan پنجاب کا خزانہ تین سال چوروں کی دسترس سے باھر رھا۔ یہاں تک کہ آرمی چیف باجوہ علیم خان کے لئے بزدار سے زمین نہیں لے سکا تھا ۔ بزدار کے حکومت کے خاتمے پر علیم خان کو زمین حوالے کی گئی پہلے دن سے پروپیگنڈے کا شکار رہا۔ بزدار سے بہتر ین وزیراعلٰی نہیں آیا
@suhailswarraich جو یوٹرن مقصد سے دور کرنے کے بجائے مقصد یا مشن کو کامیابی کے قریب لے جائے وہ اچھے ھوتے ھے ۔ افسوس پاکستانی دانشور یہ سمجھنے سے قاصر ھے
ھم خان کو لیڈر ویسے ھی نہیں مانتے ۔ 75 سال میں جو کام نہیں ھوئے وہ خان نے کئے نصاب ھو ڈیم ھو بجلی ٹرانسمیشن لائن ھو زراعت ھو درخت ھو زیتون ھو چھوٹے چھوٹے ڈیم ھو صحت کارڈ ھو انڈسٹری ھو کوئی ایک چیز بتائیں جس میں 75 سال میں کام ھونا چاہئیے تھا اور خان کے دور میں نہ ھواھو
@eyesmithca یہ روایتی راستوں کا سیلاب نہیں تھا ۔ دوسرا سیلاب سے بچاؤ کے لیے پورے کے پی کے میں دریائے کے کناروں پر دیواریں لگائی گی ھے جس کی وجہ سے 2022 کے سیلاب میں میدانی علاقے چارسدہ، نوشہرہ وغیرہ محفوظ رھے تھے ۔ جان کر جیو
@eyesmithca یہ روایتی راستوں کا سیلاب نہیں تھا ۔ دوسرا سیلاب سے بچاؤ کے لیے پورے کے پی کے میں دریائے کے کناروں پر دیواریں لگائی گی ھے جس کی وجہ سے 2022 کے سیلاب میں میدانی علاقے چارسدہ، نوشہرہ وغیرہ محفوظ رھے تھے ۔ جان کر جیو