بصد احترام اگر یہی لب لہجہ پاکستان کی کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت کے قائد کا ہوتا تو اب تک کیا ہو چکا ہوتا۔
میرے فوجی ��یٹے زندہ جلائے گئے لیکن مجرم آزاد ہے۔
ترکیہ کے مشرقی شہر وان میں سینکڑوں طالبات نے سر پر اسکارف لے کر مارچ کیا۔ طالبات نے کلمہ طیبہ کے پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں یہ جملے لکھے گئے تھے "سر پر اسکارف پہننا غلامی نہیں، یہ ایک جرات کا کام ہے" اور "میں بے شرمی کے خلاف ہیڈ اسکارف سے چمٹی ہوئی ہوں"۔ ترکیہ میں ایک تنظیم عاشق نبی فاؤنڈیشن مستقل کئی شہروں میں حجاب اور دینی تہذیب اپنانے کی مہم چلا رہی ہے
#shaoorfeed #HijabControversy #TurkiyeNews #IslamicCulture #shaoornews
وزارتِ اطلاعات و نشریات اور حکومتِ آزاد کشمیر نے بین الاقوامی خبری اداروں الجزیرہ (Al Jazeera) اور بی بی سی (BBC) کی آزاد جموں و کشمیر سے متعلق رپورٹنگ پر سخت برہم ہوتے ہوئے ان پر "جانبدارانہ اور منتخب رپورٹنگ" کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تاہم، اس سرکاری ردِعمل کے ساتھ ہی حکومت نے یہ واضح پیغام بھی دے دیا ہے کہ آزاد کشمیر کے علاقوں میں غیر ملکی میڈیا کی آزادانہ رفت و آمد اور صحافتی کوریج پر سخت پابندیاں عائد رہیں گی۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات (MoIB) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عالمی سطح کے معروف قطری نیوز چینل الجزیرہ پر الزام لگایا کہ اس نے مظفرآباد کے چند مخصوص پولنگ اسٹیشنوں سے "سلیکٹو کوریج" کی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیوز چینل نے مخصوص اوقات اور منتخب افراد کے بیانات کے ذریعے الیکشن اور ووٹنگ کے عمل کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ بیان میں ایسی صحافت کو بیرونِ ملک مقیم عناصر کا ایجنڈا قرار دیا گیا۔
اسی تناظر میں وزارتِ اطلاعات نے غیر ملکی صحافیوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ حکومت کی 'ایکسٹرنل پبلسٹی گا��یڈ لائنز' کی پاسداری کریں۔ گائیڈ لائن 8.3 کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ پاکستان يا آزاد کشمیر کے کسی بھی حصے میں رپورٹنگ کے لیے حکومت سے قبل از وقت این او سی (NOC) حاصل کرنا لازمی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کا این او سی کی شرط پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میڈیا کو حساس یا تنازع کا شکار علاقوں میں خود مختارانہ جا کر حقائق کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب، آزاد کشمیر کے سیکرٹری اطلاعات محمد رشید حنیف نے بی بی سی کی اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں خطے میں حالیہ بے امنی، جھڑپوں اور جانی نقصان کا ذکر کیا گیا تھا۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سیکورٹی اہلکاروں اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔ رپورٹ میں ایک ڈاکٹر کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایک مقامی کلینک میں 50 سے 60 شدید زخمی مریضوں کا علاج کیا گیا، جن میں سے 15 سے 20 افراد گولیوں کے زخموں کا شکار تھے۔
حکومتی ترجمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بی بی سی کے حقائق غلط ہیں اور انہوں نے سول انتظامیہ يا پولیس سے تصدیق کیے بغیر یہ رپورٹ شائع کی۔
#shaoorfeed #Bbcnews #AzadKashmir #Muzaffarabad #AlJazeeraEnglish #shaoornews
امریکی ریاست مشی گن کے علاقے گرینڈ ہیون ٹاؤن شپ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 47 سالہ کرسٹوفر کارولکیوِچ نے اپنی 39 سالہ اہلیہ امنڈا اور 5 سے 15 سال کی عمر کے اپنے 6 بچوں کو گولی مار کر قتل کر دیا اور بعد ازاں گھر کو آگ لگا کر خودکشی کر لی۔ پولیس اور میڈیکل ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق یہ محض ایک حادثہ یا آتشزدگی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک منصوبہ بند اجتماعی قتل تھا۔
فائر فائٹرز اور پولیس جب دھواں اٹھنے کی اطلاع پر گھر میں داخل ہوئے تو انہیں تمام افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملیں، جبکہ گھر کے متعدد حصوں میں نیتجتاً آگ لگائی گئی تھی۔
جرمیات اور نفسیات کی دنیا میں اس نوعیت کی کارروائی کو "فیملی اینہیلیشن" یا پورے خاندان کا صفایا کہا جاتا ہے۔ امریکہ میں جاری اعداد و شمار کے مطابق، یہ رواں سال کے دوران ملک میں پیش آنے والا کم از کم 8واں ایسا واقعہ ہے جس میں ایک ہی خاندان کے تمام افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ختم ک�� دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، کرسٹوفر کی اہلیہ امنڈا ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر تھیں، اور یہ جوڑا 6 بچوں کا والدین تھا (جن میں سے بعض کو انہوں نے گود بھی لیا تھا)۔ پڑوسیوں اور قریبی رشتہ داروں کے مطابق یہ ایک ہنستا بستا خاندان نظ�� آتا تھا، لیکن اندرونی طور پر یہ ہولناک تباہی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
یہ سوال شدید نوعیت سے سامنے آ رہا ہے کہ آخر ایک باپ، جو اپنے بچوں اور خاندان کا محافظ ہوتا ہے، محض معاشی دباؤ یا نوکری جانے پر اس حد تک سفاک کیسے ہو سکتا ہے؟
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق کرسٹوفر کارولکیوِچ 'امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن' میں سیلز اینڈ مارکیٹنگ کا نائب صدر تھا اور رواں ماہ (جولائی) کے اوائل میں ہی اس کی ملازمت ختم ہوئی تھی۔ معاشی ماہرین اور امریکی ادارہ برائے انصاف کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ:
تصور ترقی میں ڈوبے انسان کے لیے نوکری کا اچانک چھوٹ جانا اور سماجی حیثیت کا ختم ہونا معاشی و نفسیاتی طور ��ر کسی شخص کو شدید انتشار میں مبتلا کر دیتا ہے۔
امکان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ماضی کے چھپے ہوئے گھریلو تنازعات،بھی م آخری چنگاری کا کام کرتے ہیں۔ آن لائن پوسٹس کے مطابق امنڈا اور کرسٹوفر کے تعلقات میں پچھلے کچھ عرصے سے تنا�� اور مسائل موجود تھے۔
فیملی قتل کے بیشتر کیسز میں مرد اپنے خاندان کو اپنی "ملکیت" تصور کرتا ہے، اور جب اس کی اپنی زندگی معاشی یا ذاتی طور پر ناکام ہونے لگتی ہے، تو وہ تباہی کے اس احساس میں اپنے پورے خاندان کو اپنے ساتھ ختم کر دینا چاہتا ہے۔
#shaoorfeed #USACrime #socialissues #Michigan #shaoornews
مؤقف:
'میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے ہر مباحثے پر بلکہ ایسے ہر مذہب اور ہر نظریے پر جو آپ کو بہتر انسان ہونا نہ سکھا سکے۔'
تجزیہ:
اس مؤقف کو لبرلزم کے نظریئے پر اپلائی کرتے ہیں 🙂۔
انسان گروہوں میں رہنے والی مخلوق ہے جس کا مطلب ہے کہ گروہوں، خاندانی نظام اور اجتماعیت میں رہ کر انسانیت کی بہتر خدمت سرانجام دے سکتا ہے۔ لبرلزم چونکہ انفرادیت سکھاتا ہے جس سے انسان خود غرض لالچی اور مطلب پرست بنتا ہے۔ یہی رویہ جب قومی سطح پہ جاتا ہے تو ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ لبرل ملکوں نے دنیا بھر کے وسائل کو لوٹ کھسوٹ کر اپنے اور دوسروں کی زمینوں پر انہی سے محنت کرا کر کے وہ دولت اور رزق لبرل ممالک میں پہنچایا۔
چونکہ اس نظام میں اجتماعیت نہیں پائی جاتی، اس لیئے عام طور پر خاندان ٹوٹتے ہیں، والدین کو گھروں سے نکالا جاتا ہے، عورت کو ایک ورکنگ مشین اور جنسی یونٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ نظام انسان کو بہتر بناتا ہے۔
نتیجہ:
لبرلزم پر میں اور عاطف صاحب دونوں مل کر لعنت بھیجتے ہیں 🙂۔
Pakistan 🇵🇰 has expressed support for South Africa 🇿🇦 in the United Nations assembly.
Pakistan has not yet made a decision to join the South Africa case at the ICJ. This support is limited to verbal statements but signifies a positive step forward.
#GazaCallsPakistan_toICJ
فلسطین اور ٹرانس جینڈر فراڈ جیسے موضوعات پر ویڈیو اپلوڈ کرنے پر فیس بک نے پیج کی ریچ تقریباً زیرو کر دی ہے۔ یہ رہے انسانی حقوق کے علمبردار اور آزادیٔ اظہار کے داعی 🙂
اسرائیلی ٹرانجینڈرز کی فوج کے آگے 57 اسلامی ممالک نے چپ سادھ لی۔ ان سے پہلے سوال ان سے ہوگا جو خود کو مسلمان حکمران کہتے ہیں۔
#shaoorpk#shaoornews#shaoormedianetwork#shaoorfeed
یوٹیوب پر 'شعور' کی اپڈیٹس حاصل کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
https://t.co/7Q8SQ7UiJe