This woman, @JaneMarriottUK , worked in Britain’s intelligence agencies before becoming ambassador.
She was behind the London Plan. She still supports this regime. When she failed to secure a $10 billion loan from the United States, she arranged $3 billion in Eurobonds from Europe. Now she is congratulating herself. (Jimmy Virk)
اس وقت جنید اکبر اور سہیل آفریدی کی حکمت عملی درست ہے وہ لانگ مارچ پر فوکس کر رہے ہیں۔ ہماری ہر طرح کی سپورٹ انکے ساتھ ہے۔ جب تک انکی حکمت عملی بہترین رہے گی ہماری فل سپورٹ انکے ساتھ ہونی چاہیے۔ ہمارا کسی سے کوئی زاتی اختلاف نہیں سب بھائی ہیں۔ اختلاف پالیسی سے ہوتا ہے۔
آئیے سب مل کر اس لانگ مارچ کو کامیاب بنائیں۔ ہم میں سے ہر کوئی اپنی پوری کوشش اس میں ڈالے۔ اور پھر کامیابی اللہ کی ذات پر چھوڑ دیں۔
اور جس نے اس بار خان کے ساتھ۔ عوام کے ساتھ زیادتی کی۔ ایسے عناصر کے خلاف پھر ہماری طرف سے بھی بھرپور تنقید ہو گی سر عام ہو گی۔
اپنے خوف کا یہ عالم ہے کہ سامنے تک آنے سے ڈرتا ہے۔ ایک طرف پارلیمنٹ اور حکومت ، دوسری طرف عدلیہ، تیسری جانب سرکاری مشینری، چوتھی جانب میڈیا۔
اس کے اوپر حفاظتی حصار کے اوپر حفاظتی حصار کے گھونگھٹ۔
کل کا بچہ سہیل آفریدی عوام میں جا کھڑا ہوتا ہے، اتنی ہمت تو کرے۔
چور بہادر نہیں ہوتے، فتنہ ہوتے ہیں۔
🚨🚨 لانگ مارچ سے متعلق پارٹی گروپ میں کیا گیا وزیراعلی سہیل آفریدی کا میسیج لیک:
ایک کروڑ بزدل کبھی کوئی جنگ نہیں جیت سکتے، مگر چند باہمت اور ثابت قدم لوگ بھی تاریخ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہماری جدوجہد کسی فرد یا جماعت کے مفاد کے لیے نہیں، بلکہ انصاف کے حصول، عدلیہ کی آزادی، آزاد صحافت، جمہوریت کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے ہے۔ یہی وہ حقیقی آزادی کا خواب ہے جس کی بات ہمارے قائد عمران خان صاحب کرتے رہے ہیں۔
جو شخص اس نظریے اور جدوجہد کی ذمہ داری اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتا، اسے پورا حق ہے کہ خاموشی سے الگ ہو جائے۔ ہمیں کسی سے گلہ یا شکوہ نہیں۔ ہر شخص اپنے ضمیر اور اپنے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے آزاد ہے۔
ہماری صفوں میں اختلافِ رائے کی گنجائش ہے، مگر اصولوں سے دستبرداری کی نہیں۔ وقت کا فیصلہ ہمیشہ کردار، ثابت قدمی اور آئین و قانون کے ساتھ وفاداری سے ہوتا ہے۔
اس بار بھی فیصلہ آئین، قانون اور عوامی آواز کے دائرے میں ہوگا۔ ہم پُرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنے حق اور اپنے اصولوں کے لیے کھڑے رہیں گے۔
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔
”ہر شہری کو عاصم منیر سے سوال پوچھنا چاہیئے کہ کیا اس نے اپنے عہدے کی ذمہ داریاں پوری کی ہیں ؟ ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوا یا اضافہ ہوا ؟ اپنے اختیارات سے باہر جا کر ملک کے جن شعبوں اور محکموں میں ہاتھ ڈالا، ان کا بھی بیڑا غرق کر دیا۔ پاکستانی معیشت کی اتنی زیادہ بری حالت تو سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی نہیں ہوئی۔ سرمایہ کاری لانے کا دعوی کیا، کوئی سرمایہ نہ آ سکی۔ 4 سال سے ملک میں سیاسی استحکام ایک خواب بن چکا ہے۔ عدالتوں کی حالت زار آج پوری قوم کے سامنے ہے۔“ عمران ریاض خان
گورنر راج لگانے کی تمہاری اوقات نہیں، نہ تم ووٹ آف نو کانفیڈنس لا سکتے ہو۔ قوم تمہیں پہچانتی ہے، تمہاری حیثیت جانتی ہے۔ ڈر کے مارے جتنا مرضی زور لگا لو، پاکستان کا ایک ہی کانفیڈنس ہے، اور اُس کا نام عمران خان ہے!
عاصم منیر، تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ براہِ راست مارشل لاء لگاؤ، اور وہ بھی تم 10 دن سے زیادہ نہیں چلا سکو گے۔ تمہارے اپنے تمہارے ساتھ وہ کرے گی جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔