طلباء سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے میں تقریری مقابلوں میں حصہ لیتا تھا۔ بہت سےچہرے جو آج اپنے اپنے شعبوں میں اچھا نام بنا کر آپ کی ٹی وی سکرینز کی زینت بنتے ہیں ان سے اس زمانے کی واقفیت ہے جب میں پورے پاکستان میں تقریری مقابلوں میں حصہ لیتا تھا۔ ان میں سے بہت سے میرے عقائد اور نظری��ت سے بخوبی واقف ہیں۔ انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کی بنیاد رکھنے کے بعد دو مرتبہ جیل کی ہوا کھائ۔ طلباء سیاست میں جیلیں، مار کٹائ، دنگے فساد پاکستان میں ایک معمول کی بات ہے۔ لیکن روایت کی متضاد میرے جیل جانے کا سبب کوئ تنظیمی دنگا فساد نہیں تھا۔ پہلی مرتبہ وجہ عدلیہ بحالی تحریک اور دوسری مرتبہ ریمنڈ ڈیوس کے خلاف احتجاج بنا۔ یعنی ایک مرتبہ پاکستان میں انصاف کی بالادستی اور دوسری مرتبہ پاکستان کی خوداری کے لیے جیل گیا۔ ایک اور سبب بھی بن سکتا تھا میرے جیل جانے کا۔۔ جب میرا آدھا گاؤں مٹی کا ڈھیر بن گیا تھا اور میری ماں گوشت کے ایک لوتھڑے جیسی اس ڈھیر پر پڑی تھی میں اسی ڈھیر پر کھڑے ہوکر اپنا درد بیان کرتا میرے جیسے بہت سوں کا خون کھول رہا تھا اس وقت۔ زبان تو تب بھی میرے پاس تھی، تنظیم بھی تھی ریاست مخالف بیانیہ بِک بھی بہت اچھی قیمت پر رہا تھا۔ دہ��تگردی کا جو الزام مجھ پر آج لگ رہا ہے میں تب اس کو بنیاد فراہم کرسکتا تھا۔ مگر میں نے جو راتیں اپنی بیمار ماں کے سرہانے گزاریں ان کی شامیں میں نے آئ ڈی پی کیمپوں میں راشن فراہم کرتے اور دن زخمیوں کے لیے خون کا بندوبست کرتے گزارے۔ احسان نہیں جتا رہا بس یاد دِلا رہا ہوں کہ وطن سے محبت کی ہم نے قیمت صرف ادا کی ہے، وصولی کہ توقع نہیں رکھی ورنہ چار سال کی وزارت میں میرے کھاتے میں صرف وزیراعظم کے ساتھ دو دن کا ایک عمرہ نا لکھا ہوتا کسی کو شک ہو تو افسران دونوں وزارتوں میں آج بھی وہی بیٹھے ہیں پوچھ لیں، میں شاید پاکستان کی تاریخ میں اکلوتا وزیر ہونگا جس کے خلاف آرمی چیف وزیر ا��ظم کے پاس شکایت لے کر گیا کہ بہت احتساب شروع کر رکھا ہے تھوڑا ہاتھ ہولا رکھے۔ میں نے تو وزارت بھی ایسے کی ہے جیسے کوئ فوجی اپنے ملک کے لیے جنگ میں مورچہ سنبھالتا ہے۔
آج اگر کسی فرد نے خود کو ریاست سمجھ لیا ہے اور خود کو آئین اور قانون سے بالاتر قرار دے کر ملک کی ۲۵ کروڑ عوام کی غیرت کی بولی لگا آیا ہے تو میں اس کو اپنی زندگی کی قیمت پر بھی غلط کہونگا۔
آج اگر دو چار غنڈے اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور لوگوں کی زندگی اور موت کے فیصلے کررہے ہیں تو میں تو اس کی خدائ کے خلاف علم بلند کرونگا۔
آج اگر کسی وطن فروش کی انا کی تسکین کے لیے میرے ہم وطنوں کے لیے زمین تنگ کی جارہی ہے، حب الوطنوں کو قید اور قتل کیا جارہا ہے تو مجھ سے تسلیم کی توقع عبث ہے۔
ہاں اگر بات “ریاستِ پاکستان” کی ہورہی ہے تو مجھے یہ لفظوں میں ثابت کرنے کی ��رورت نہیں ہے کہ میرا ملک میرے لوگ میرے لیے اپنی جان سے بڑھ کر ہیں۔ میں نے جب اس سے وفاداری کا حلف نہیں بھی اٹھایا تھا تب بھی میں نے اپنی سسکتی ماں کے سرہانے سے اٹھ کر اس کے زخموں پر پاہے رکھے تھے۔ میرے کاندھے پہ جب اس کی حمیت کا بار نہیں بھی تھا میں نے تب بھی اس کی غیرت کے لیے صعوبتیں جھیلیں تھیں۔ آج تمہارا سودا نہیں بِک رہا تو مجھے دشمن ممالک کی ایجنسیوں سے جوڑ رہے ہو۔ میں نے را کی ایجنٹی کرنی ہوتی تو این ڈی ایس کے ٹاؤٹ مجھے آٹھ سال سے گالیاں نا دے رہے ہوتے۔
۹ مئی سے پہلے کئ بار ریکارڈ پر لا چکا ہوں کہ دہشت گردی کی واپسی کے حوالے سے قوم کو خبردار کرنے۔ ارشد شریف کے قتل اور عمران خان پر قاتلانہ حملے کے کرداروں کا پردہ فاش کرنے کی پاداش میں زیرِ اعتاب ہوں۔ ۹ مئی کو تو پانچ ماہ ہونےکو ہیں لیکن میں تو ڈیڑھ سال سے دربدر ہوں کیونکہ میرے جرائم کی فہرست میں پاکستانی قوم کے پیسے کا احتساب، عمران خان سے وفاداری اور پاکستان کی خوداری کا سودا کرنے والوں سے سوال کرنے کا جرم ۹ مئی سے پہلے سے شامل تھا۔
آج اگر تم ہر بے کس مجبور کی کنپٹی ہر بندوق رکھ کر میرا نام کہلوا رہے ہو۔ آج اگر تم باپوں کو اپنی اولادوں کے انجام کی فکر دِلا کر مجھ پر الزام لگوا رہے ہو تو میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ تمہیں صرف یہ سر چاہئیے باقی سب تو بہانے ہیں جن کے لیے تم اپنے ٹاؤٹس کو کہانیاں تو رٹوا دیتے ہو ان میں مطابقت رکھنا یاد نہیں رہتا کیونکہ “بیانیہ سچ ہر بنتا ہے” بتایا تھا نا اس نے تمہیں۔ جبر سے سر تو اتارے جا سکتے ہیں حق کو مٹایا نہیں جاسکتا، جیسے اسے نہیں مٹاسکے، جیسے ہمیں نہیں مٹا سکو گے۔
The new Kings party, why it wont get anywhere;
Some commentators have been at pains trying to draw parallels between the new Kings party & the rise of PTI in late 2011. Thats a false comparison. After the Oct 30th 2011 Minar-e-Pakistan power show by PTI, electables were jumping over each other to join PTI. A large portion of them were stuck in parties like PPP & PMLQ that had no vote bank, especially in Punjab. With PTI & Imran Khan's grass root support, combined with the electables own local networks, they saw a chance of getting past the finish line at the polls. None of them was threatened of dire consequences if they did not join PTI.
Now, coming back to the essential point of why would the Istehkam-e-Pakistan party not take off or reach its desired objectives?
Kings parties do best in a sort of political vacuum when most other political parties or leaders are discredited or do not have traction at the grass roots level. It finds plenty of room for manoeuvre in that case. This is not that point in time. The cities and mohallas, the villages and small towns are brimming with support for Imran Khan right now. He is at the zenith of his popularity. No political leader before him, with the exception of the country's founder, has ever enjoyed such deep & broad popular support. Imran Khan is the ultimate reality of Pakistan's politics today that cannot be wished away with hurriedly created loose groupings of people forced into inorganic political vessels.
Finally, a quick glance at the inaugural stage of the Kings party was enough to predict its political fortunes. Whether its a true election or a politically engineered attempt at selection, the lady and gentleman on the stage yesterday did not have a single secure electoral seat between them. This event was more of a psychological operation (PSYOP). To convey to IK and the audiences in general that IK's closest have abandoned him..or forced to abandon him. Electables and voters; take notice. But its a script from an obsolete playbook. One that may have worked in a political vacuum or perhaps a largely agrarian and less informed Pakistan of Radio Pakistan era. The political ground has significantly moved since. There is no void at the voters level. Even the electable's tiny own network has been upended by the Imran Khan phenomenon. The social media savvy youth demographic has now become the key determinant of Pakistan's politics. The Kings party inauguration thus had the opposite effect as social media and commentators, like those writing for BBC, tore down the PSYOP and even analysed the worn down & duress ridden faces of the participants. Even the leading members of this new contraption must indeed see it not as their baptism but a political guillotine.
The future may be uncertain, but the reality of public support that Imran Khan today enjoys is more than certain. An alliance of 13 parties with at least some genuine vote banks failed to take him down. It can thus be said with a fair degree of certitude, that the 14th party, with no ground swell, will also fail.
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اتراو، آئینہ ہمارا ہے۔۔
آپ کی غلامی کا بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا فیصلہ ہمارا ہے۔۔
#عمران_تو_ہوگا
ہم کٹھ پتلیوں سے مذاکرات کر کے وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ یہ مسلط شدہ لوگ ہیں جن کا کوئی ووٹ بینک نہیں اور بیساکھیوں کے پیچھے چھپ رہیں ہیں۔
آئین اور جمہوریت کی بحالی کی خاطر صرف حقیقی فیصلہ سازوں سے مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔
Justice Qazi Faez Isa said he has given non-political speech but Parliament was politically charged. He thinks Public is fool. He is a Total Fraud just like his owner PDM.
#قاضی_فراڈ_عیسی