بہت شکریہ احسان بھائی آپ کی تحسین اور حوصلہ افزائی کا❤️🙏
جب ریاست صحافت کا گلہ گھونٹ کر نمعیت اور مولانا صاحب کو بلیک آؤٹ کرواۓ گی ھم ان کے بیانئے کو اس سے زیادہ قوت سے سامنے لائینگے ان شاءاللہ
مولانا صاحب سے آخر اتنا خوف کیوں؟
ایک سیاسی رہنما کی بات کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے اگر پروپیگنڈا شروع ہوجائے تو سوال اٹھتا ہے:
آخر مولانا فضل الرحمٰن کی کون سی بات اتنی چبھ گئی کہ کردار کشی کا سہارا لینا پڑا؟
#لعنتی_امریکی_پٹو#وسائل_چور#ڈیجیٹل_حرام_خور#سلیکٹڈ_بدامنی #کمپنی_کا_میڈیا_وڑگیا
پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔
کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔
اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔
اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔
اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔
سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔
ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔
اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔
ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔
اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟
تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔
اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔
تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سینئر صحافی شاکر سولنگی سے فون پر رابطہ
مولانا فضل الرحمان نے نوجوان بیٹے کی وفات پر دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا
مولانا فضل الرحمان نے مرحوم کی بلندی درجات کے لئے دعاء کی
مولانا فضل الرحمان نے شاکر سولنگی سے اظہار افسوس کیا اور تسلی دی
غمزدہ خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہوں،مولانا فضل الرحمان
جوان اور تعلیم یافتہ بیٹے کی موت خاندان اور خصوصا والدین کے لئے بڑا صدمہ ہے،مولانا فضل الرحمان
اللہ کریم اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے،مولانا فضل الرحمان
75 سال آپ نے کشمیریوں کے خون پر سیاست کی۔ ان کے خون کو آپ نے بیچا، ان کی منڈیوں کو آپ نے بیچا اور آج بڑی آسانی کے ساتھ آپ نے سودا کر دیا۔
اس لیے ہم نے کہا ہے کہ اب 5 اگست کو بھی پورے ملک میں انشاءاللہ کشمیریوں کے حق میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ یہ وہ دن ہے جب انڈیا نے اقدامات کیے اور ہم نے اس وقت بھی کہا تھا۔ میں نے یہ بات کہی تھی۔
#سروس_یا_پروپیگنڈا #پٹرولیم_لیوی_نامنظور
#کشمیر_کو_امن_دو #ادارے_بدنام_ناکرو
سن 1973 کے آئین میں دیے گیے جمھوری نظام کے وکیل سیاستدن ھیں اور انہوں نے اس نظام کی ناکامی کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس میں آپ کو رکاوٹ اور ناکامی کا بنیادی سبب سمجھا ھے اور انکا دعوی ھے کہ آپ نے ستتر سال میں سات سال بھی جمھوری حکومت نہیں چلنے دی یہاں تک کہ 1973 میں آئین بننے کے پانچ سال بعد اس کے پہلے وزیراعظم کو پھانسی دے دی گئی۔۔
جبکہ ھائبرڈ نظام کے وکیل آپ ھیں اور آپ نے اسکی ناکامی کا اعلان کردیاھے اب جبکہ آپ نے اپنی ناکامی کا اعلان اپنی زبان سے کر ھی لیا ھے تو بہتر ھے کہ آپ اپنے آئینی دائرے میں چلے جائیے اور سیاستدانوں کو اپنا کام کرنے دیں تاکہ کامیابی اور ناکامی کا اصل پیمانہ عوام کے سامنے آسکے
#سالار_امن_مولانا
#شہدائےجمعیت_باجوڑ
#پیغام_امن_جمعیت
#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔
اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟
میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔
اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو
محسن نقوی خود بھی کولیپس کرچکے ہیں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سٹیپ ڈاؤن ہوں ان کو لانے والے اس طریقے سے نہیں ہٹیں گے وہ کسی اور طریقے سے ہٹیں گے سینیٹر کامران مرتضیٰ