@iemziishan@muhammadzareef_ آپ یہاں منافقت کر رہے ہیں۔ آپ کی زیادہ تر باتوں سے اتفاق ہی رہتا ہے، لیکن یہ بات غلط ہے۔ تقریباً چار سال تک خان صا��ب کی حکومت بھی رہی، تو اُس وقت اُن سے کیا ہوا؟ کیا آپ نے کبھی یہی سوال اُس وقت بھی کیا تھا؟
براہِ مہربانی، ایسا نہ کریں۔
@OpenVPP@arc Why isn’t OVPP moving?
BTC is up, the market is strong, major announcements are coming, and prominent developers are mentioning it, but $OVPP is barely reacting !!
@CryptoGodJohn Bro, will be witness an green candles on base:0x8c0d3adcf8ce094e1ae437557ec90a6374dc9bdd as well ? Are you still holding? We need your humble update!!
@RaaoArslan Bro, are you still holding base:0x8c0d3adcf8ce094e1ae437557ec90a6374dc9bdd ? Can you share your TA/ update on it ? Why is it under performing even when the overall market is doing good ?
مجھے اُس فوجی آفیسر پر فخر ہے جس نے آج سرحد یونیورسٹی کے غنڈوں کے بیچ میں گھس کر اپنی غیرت کی جنگ جیتی۔ نوکری آنے جانے والی چیز ہے عزت اور غیرت کی حفاظت ہی زندگی ہے ۔
مجھے فخر ہے اس بیٹے ، بھائی ، باپ اور شوہر پر جس نے اپنے گھر کی عزت کیطرف اٹھنے والے ہاتھ کو روکا
یونیفارم پہننے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیہودگی کے سامنے ہاتھ جوڑے خاموش تماشائی بنے رہیں
سرحدوں کے محافظ اپنے گھر کی بھی حفاظت کرنا جانتے ہیں
سرحد یونیورسٹی واقعہ؛ EXCLUSIVE اھم ترین حقائق ‼️‼️‼️
لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہوا کیوں ہوا معاملہ کہاں سے شروع ہوا، سب اصل حقائق میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں، تمام ثبوتوں کے ساتھ ‼️‼️‼️
تھریڈ ۔۔۔!!!
اس ٹویٹ کے ساتھ لگی تمام تصاویر دیکھئیے !
پہلی تصویر ��اکٹر جدون خان کی، سابقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ HoD ۔۔۔ جو کرنل اسفند پر حملہ آور ہے ۔۔۔
اب کہانی سنئیے ۔۔۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی۔ کہ جدون خان ان کو غیرضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آئینہ جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔ جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا۔ اور اس کے بعد ڈاکٹر آئینہ کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔ معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا، گزشتہ جمعے 21 اگست کو ڈاکٹر جدون خان، ڈاکٹر آئینہ کے آفس میں زبردستی آ دھمکے، انہیں گالیاں دیں دھمکایا حتی کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔ اس صورتحال پر ڈاکٹر آئینہ نے فورا پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فورا بعد تھانہ ھمک چلی گئیں ڈاکٹر جدون کیخلاف کاروائی کیلئے۔ اب میری ٹویٹ کیساتھ لگی وہ درخواست دیکھئیے جو ڈاکٹر آئینہ نے جدون خان کیخلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔ اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فورا تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر آئینہ سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔ وائس پرنسپل نے ڈاکٹر آئینہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کرینگے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔ پہلے تو ڈاکٹر آئینہ نہیں مانیں انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔ وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر آئینہ صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔ جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آئینہ سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔ میری ٹویٹ میں تصویر دیکھئیے جدون خان کے معافی نامے کی۔ اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر آئینہ جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپ�� کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔ کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔ اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ خیر اب آئیے کہ 24اگست سوموار کے روز کیا ہوا۔ یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔ ڈاکٹر آئینہ چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افئیرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کےلئے گئیں۔ اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے، جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی، اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔ اھم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج ��یں کیوں موجود تھا!!!؟؟؟ جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!! جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر آئینہ کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر آئینہ نے سوچا کئ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا یہ باز ہی نہیں آ رہا، انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔ جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر آئینہ کے بلانے پر آئی ہوئی تھی!!! پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ ڈاکٹر آئینہ نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!! یہ جاننا بہت اھم ہے!!! یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
(مزید تفصیل ۔۔۔) ⤵️⤵️⤵️