🚨 ان کا نام مزمل اسلم ہے-- سندھ سے اٹھا کر پختون خواہ میں وزیر/مشیر ��گایا تھا
سہیل افریدی کی گرفتاری کے بعد یہ شخص ایسا غائب ہوا کہ ٹویٹر تک بند کر دیا ہے👇
کم از کم سمر بلور کے گھٹیا کرپشن الزامات کے جواب تو دے
ثمر بلور جھوٹے کرپشن کے الزامات لگا رہی ہے۔ سہیل آفریدی تو موجود نہیں- مینا خان شفیع جان کسی اور کام میں مصروف ہیں۔ ۔ یہ ہمارے اکنامک گرو جو کراچی میں خیر خریت سے گھر پر موجود ہیں۔ انکو کیا اتنی توفیق نہیں کہ یہ جواب ہی دے دیں ٹوئیٹ کر کے۔
ایمل ولی کے مؤقف میں اچانک تبدیلی! 😂
پرسوں اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر گورنر راج اور ایمرجنسی کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مخالفت کا اعلان، اور آج گورنر سے ملاقات کے بعد کہنا کہ ’’ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں، ہمیں ان لوگوں سے امیدیں ہیں، انہیں جو ذمہ داری ملی ہے وہ قومی بقا کی ذمہ داری ہے!‘‘
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ مؤقف ہی بدل گیا؟ 🤔
عوام تو یہی پوچھیں گے کہ کل تک جس اقدام کی مخالفت تھی، آج اسی کے ذمہ داروں سے امیدیں کیوں وابستہ ہو گئیں؟ 😂
پاکستان تحریک انصاف کا خیبرپختونخوا کے وسائل کے تحفظ کا عزم!
ناجائز گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے، ستمبر کی سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد بھی خیبرپختونخوا حکومت کے صرف دو (2) اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 385 ارب روپے موجود تھے۔
ان میں 250 ارب روپے ڈیٹ مینجمنٹ اکاؤنٹ (Debt Management Account) جبکہ 135 ارب روپے پروونشل کنسولیڈیٹڈ اکاؤنٹ (Provincial Consolidated Account) میں موجود تھے۔ وفاقی حکومت سے خیبرپختونخوا کے واجبات اس کے علاوہ ہیں۔
یاد رہے کہ 2024 میں جب پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں حکومت سنبھالی تھی تو نگران حکومت کے دور میں صوبائی خزانے میں صرف 18 دن کی سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی کے برابر رقم موجود تھی۔ آج صوبے کے خزانے میں 385 ارب روپے کی خطیر رقم موجود ہے۔
خیبرپختونخوا کے وسائل پر کسی کو قبضہ یا ان کا غیرقانونی استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ عوامی حکومت کی بحالی کے بعد صوبے کے وسائل کے استعمال کا ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا۔
حکومت کی قربانی دے دی۔ نہیں یہ غلط بیانیہ ہے۔
حکومت سے تو اب جانا ہی تھا۔ خان کی پہلی ملاقات پر حکومت سے ہٹنا پڑنا تھا۔ پورے سال کا حساب یاد کرنا پڑے گا۔
حکومت ��ربان نہیں ہوئی۔ خان کا مینڈیٹ قربان ہوا ہے۔ بغیر لانگ مارچ کئیے۔ بغیر احتجاج کئیے۔ خان کا آخری قلعہ قربان کر دیا گیا ہے۔
یہ حق صرف خان کا تھا۔ کہ وہ اپنی حکومت کیسے قربان کرے۔ یا نہ کرے۔ جن کو آج سمجھ نہیں کوئی بات نہیں کل سمجھ آ جائے گی۔ جس دن خان کا پیغام باہر آیا اس دن سمجھ آ جائے گی۔
تنقید کرنے والوں کی نییت بری نہیں۔ اس لئے ہر تنقید سر آنکھوں پر۔
سی ایم اپنی نااہل پلاننگ کی وجہ سے اُٹھایا گیا لیکن کچھ لوگ اُس کے اُٹھانے سے ابھی بھی باز نہیں آ رہے،اخے حکومت قُربان کر دی،عوام کا سودا نہیں کیا
اُسے صرف ایک کام کے لیے سی ایم بنایا تھا،عمران خان کی رہائی، جِس کے لیے اُس نے کچھ نہیں کیا
اب آگے خان کا سوچو نکلو چاپلوسی سے