عمران خان دور میں جنہیں 149 روپے پیٹرول بہت مہنگا لگتا تھا، آج پیٹرول 300 روپے کے قریب پہنچ گیا ہے لیکن کوئی فکر نہیں، نہ حکومت کو کوئی سوال کیا جا رہا ہے
یعنی کم مہنگائی پر پر زور احتجاج اور اس سےکئی گنا زیادہ مہنگائی پر مکمل خاموشی
گویا مسئلہ مہنگائی سے نہیں، عمران خان سے تھا
عہدِ حاضر کے غلیظ ترین لوگو،
اِس بے آسرا خاتون کو کسی ریلوے پولیس آفیسر نے نہیں، ریلوے نے بطور ادارہ مارا ہے۔
مختلف شعبوں کے آٹھ سے زائد افراد کا کسی نہ کسی طرح اس واقعے سے تعلق بنتا ہے۔
اس سانحے کی تحقیقات ریلوے کا ادارہ یا ریلوے سے کسی بھی طرح منسوب کوئی شخص نہیں کر سکتا۔
ریلوے والوں “کی” تحقیقات ہونی ہیں۔
خدا کرے کہ کوئی تو ایسا ہو جو یہ بھی بتائے کہ جن معصوم بچوں کو پہلے تھپڑ پڑے تھے وہ کس حال میں ہیں۔
یا خدا اتنی قیامتیں۔ پھر قیامت کیا ہو گی۔
''دفتر کے بعد میں جم خانہ جاتا ہوں جہاں میرے پاس کمرہ بھی ہے، جم کرنے کے بعد ڈنر کرتا ہوں آپ وہاں آ جائیں مجھے اپنا مسئلہ بتائیں۔۔۔''- آن لائن ہراسمنٹ کے خلاف شکایت لے کر آنے والی والی لڑکی سائبر کرائم افسر کے ہاتھوں ہی ہراسگی کا شکار
https://t.co/AyAa0HX0JF
ایک صوبائ وزیر خاتون پر یہ بچکانہ ٹک ٹاک کی حرکات جچتی ہیں۔ عمران خان قید ہے اور یہ حرکات ایسی ہیں جیسے کہ کوئ اُس کی قید پر خوشیاں منا رہا ہو۔
افسوس ہورہا ہے کہ علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔
بقول علی امین گنڈا پور کے پنجاب حکومت ٹک ٹاکروں کی حکومت ہے۔۔جو کام آپ خود کر رہے ہیں اس پر آپ کسی اور پر کیسے تنقید کر سکتے ہیں۔۔۔؟؟ اپنے وزیروں مشیروں پر ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی لگائیں۔۔۔تاکہ روز روز تضحیک کا نشانہ نا بنیں۔۔۔!!
شوکت خانم ہسپتال کو اس سال کے بجٹ میں سے ابھی تک صرف 24 فیصد اکھٹا ہوا ہے خان صاحب جیل میں ہیں تو کیا لوگ اُنکے ہاسپٹل کو فنڈ نہیں دینگے
زیادہ سے زیادہ اس پیغام کو شیئر کریں اور ہو سکے تو فنڈ بھی کریں
مریم نواز کی انتہائی قریبی اور چہیتی کارکن لندن کے اسٹور میں چوری کرتے ہوۓ رنگے ہاتھوں پکڑی گئی
خوب نام روشن کررہے ہیں یہ ن لیگی اس ملک کا
لعنت بھیجیں ایسے چوروں پر